وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر تعلیم نے 13 ویں برکس وزرائے تعلیم کی میٹنگ میں برکس تعاون  کی خاطر عوام پر مرکوز اور انسانیت پر مبنی نقطہ نظر کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا

مستقبل کی نسلوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے  مقصد سے تعلیمی نظام کے مسلسل ارتقا کے لیے اختراع ضروری ہے: جناب پر ہلاد جوشی


بھو نیشور میں 13 ویں برکس وزرائے تعلیم کے اعلامیے کو اپنانے کے ساتھ میٹنگ کا اختتام

प्रविष्टि तिथि: 07 AUG 2026 5:03PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر تعلیم جناب پر ہلاد جوشی نے آج برکس تعاون  کی خاطر عوام پر مبنی اور انسانیت کو اولین ترجیح دینے والے نقطۂ نظر کے تئیں ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وہ برکس وزرائے تعلیم کے 13ویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، جو اوڈیشہ کے بھونیشور میں 13ویں برکس وزرائے تعلیم اعلامیے کو منظور کیے جانے کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

برکس کے تمام شراکت دار ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، مرکزی وزیر نے یقین ظاہر کیا کہ اجلاس کے دوران پیدا ہونے والی رفتار بامعنی اقدامات میں تبدیل ہوگی۔ ہندوستان کی برکس صدارت 2026 کے موضوع ’’لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ تعلیمی نظام کو نوجوانوں کو ابھرتے ہوئے مواقع کے لیے تیار کرنا چاہیے، جبکہ انہیں انسانی اقدار سے مضبوطی کے ساتھ جوڑے رکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیکھنے والے افراد، اساتذہ، محققین اور نوجوانوں کو پالیسی سازی اور بین الاقوامی تعاون کے عمل میں مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔

جناب جوشی نے کہا کہ تعلیم جامع ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد ہے اور منظور کیا گیا اعلامیہ برکس ممالک کے پانچ ترجیحی شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے روایتی اور مقامی علمی نظام کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ جدت اور ورثہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ برکس ممالک کی مالا مال تہذیبی روایات، روایتی علم کے تحفظ، اس کا منظم اور گہرائی سے مطالعہ کرنے اور اس کی اہمیت کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہیں۔

وزیر موصوف نے اوڈیشہ کی قدیم علمی مرکز کے طور پر شاندار وراثت کو بھی اجاگر کیا اور ہندوستان کی دیرینہ تہذیبی اقدار ’’اَتِتھی دیو بھَوا‘‘ اور ’’وَسوُدھیوَ کُٹُمبَکَم‘‘ کا ذکر کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ ممالک اپنی روایات اور تجربات میں مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی ترقی ایک دوسرے سے باہم مربوط ہے۔

 

برکس کے رکن ممالک، جن میں برازیل، روس، چین، جنوبی افریقہ، انڈونیشیا، ایران، ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، کے وزراء، اعلیٰ حکام اور مندوبین نے اس اجلاس میں شرکت کی، جس کا مقصد برکس تعلیمی شعبے کے تحت تعاون کو مزید آگے بڑھانا تھا۔

13ویں برکس وزرائے تعلیم اعلامیے کی منظوری نے تعلیم کو برکس تعاون کے ایک اہم ستون کے طور پر دوبارہ مستحکم کیا اور ہندوستان کی صدارت کے تحت شناخت کیے گئے پانچ ترجیحی شعبوں میں مشترکہ لائحہ عمل پیش کیا۔ اس کے نتائج درج ذیل ہیں:

1۔ ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم(ای سی سی ای) اور بنیادی خواندگی و اعداد شناسی(ایف ایل این) کو مضبوط بنانا:اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معیاری ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم تک سب کے لیے یکساں اور جامع رسائی کو فروغ دیا جائے گا، اسکول کے لیے تیاری کے عمل کو مضبوط بنایا جائے گا اور ابتدائی تعلیم کے لیے عمر کے مطابق ڈیجیٹل حل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

2۔ ہنر مندی کی ترقی اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی ) میں تعاون کو مضبوط بنانا:تعاون کو آگے بڑھانے میں برکس فنی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت تعاون اتحاد(برکس-ٹی سی اے) کے کردار کو تسلیم کیا گیا، جس میں آئندہ دو سالہ پیش رفت رپورٹ اور پائیدار ہنر مندی اقدامات کے مجموعے کے ذریعے تعاون شامل ہے۔ اعلامیے میں ہندوستان کی جانب سے بین الاقوامی ہنر مندی کے خلا کے مطالعے کے لیے کی گئی پہل کا بھی اعتراف کیا گیا، جس میں دلچسپی رکھنے والے برکس رکن ممالک اپنی رضاکارانہ شمولیت کے ذریعے حصہ لے سکتے ہیں۔

3۔ تحقیق، جدت اور اسٹارٹ اَپ کے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا:اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ تحقیق کو فروغ دیا جائے گا، تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے محفوظ، اخلاقی اور انسان مرکوز استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جدت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کو مضبوط کیا جائے گا اور اعلیٰ تعلیمی اداروں، محققین اور اسٹارٹ اَپ ماحولیاتی نظام کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کیا جائے گا۔

4۔ تعلیمی اسناد کی باہمی  قبولیت(ایم آر کیو) کو آگے بڑھانا:تعلیمی اسناد کی باہمی  قبولیت سے متعلق مفاہمت نامہ پر غور و خوض کو آگے بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپ کے اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ تعلیمی نقل و حرکت اور تعاون کو مزید آسان بنایا جا سکے۔

5۔ تعلیمی قیادت اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے صلاحیت سازی کو مضبوط بنانا:برکس ریکٹرز فورم کے مسلسل انعقاد، اساتذہ اور تعلیمی قیادت کے تبادلوں، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (ایس ٹی ای ایم) پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسکالرشپ پروگراموں اور برکس یونیورسٹی عالمی درجہ بندی و جائزہ نظام کے قیام کے امکانات پر ابتدائی کام کی حوصلہ افزائی کی گئی۔

اجلاس میں روایتی اور مقامی علمی نظاموں پر تعلیمی تعاون کو مضبوط بنانے سے متعلق برکس رہنما اصولوں کے حوالے سے ہندوستان کی پہل کا بھی خیرمقدم کیا گیا اور تجویز پیش کی گئی کہ برکس نیٹ ورک یونیورسٹی روایتی اور مقامی علمی نظاموں کو ایک اضافی بین الاقوامی موضوعاتی گروپ کے طور پر شامل کرنے پر غور کر سکتی ہے۔

وزارئے تعلیم نے ہندوستان کی برکس صدارت 2026 کے تحت 5 اگست 2026 کو بھونیشور میں برکس کے تیسرے اعلیٰ حکام کے اجلاس(ایس او ایم) کی بھی میزبانی کی۔ اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان زیادہ سے زیادہ تعاون، جدت اور علم کے تبادلے کے ذریعے جامع، مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کو فروغ دینے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ہندوستان اپنی برکس صدارت کے دوران مختلف شعبوں میں برکس وزارتی اجلاسوں کی میزبانی جاری رکھے گا، جس کا اختتام 18ویں برکس سربراہ اجلاس پر ہوگا، جو 12 سے 13 ستمبر 2026 کو نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔

********

ش ح۔   م م ۔ ش ب ن

U-NO-1583

 

 


(रिलीज़ आईडी: 2296189) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , Kannada , Malayalam , English , Odia , Tamil