امور داخلہ کی وزارت
آئی 4 سی نے کارپوریٹس اور مالیاتی پیشہ ور افراد کو ’باس اِسکَیم‘ کے خلاف خبردار کیا: بدنیتی پر مبنی ’اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ‘، ’ایم سی اے‘اور ’آر بی آئی‘ فائلوں کے ذریعے واٹس ایپ اکاؤنٹ پر قبضہ، مقصد زیادہ قیمت والی مالیاتی دھوکہ دہی
اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹ اور آر بی آئی کے مواصلات کی آڑ میں خود کو پھیلانے والا میلویئر واٹس ایپ ، ایس ایم ایس اور ای میل پر پھیل رہا ہے ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ، کمپنی ڈائریکٹرز ، سی ایف اوز اور کارپوریٹ فنانس ٹیمیں اہم اہداف ہیں
سینئر عہدیداروں کے متاثرہ واٹس ایپ اکاؤنٹس کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے مالیاتی عملے کو فرضی ہدایات بھیجی جا رہی ہیں تاکہ رقوم جعلی یا فرضی بینک کھاتوں میں منتقل کی جا سکیں
آئی 4 سی نے گزشتہ30 دنوں میں ایس ایم ایس ہیڈر ’آئی 4 سی ایم ایچ اے-جی ‘کے ذریعے 58000 سے زیادہ ممکنہ متاثرین کو آگاہ کیا ہے ؛ سی ای آر ٹی-ان ، مائیکروسافٹ ، انڈین اینٹی وائرس اور تھریٹ انٹیلی جنس کمپنیوں کے ساتھ دھمکی آمیز اشارے شیئر کیے گئے ہیں
سہیوگ پورٹل کے ذریعے سی 2 سرورز کو جیو -بلاکنگ کرکے اب تک 10,000 سے زیادہ ہندوستانیوں کو اس مہم سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
07 AUG 2026 1:01PM by PIB Delhi
وزارتِ داخلہ کے تحت انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (آئی 4سی) نے مشاہدہ کیا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی) پر پیشہ ور افراد اور کاروباری شخصیات کے واٹس ایپ اکاؤنٹس پر قبضہ کیے جانے سے متعلق شکایات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ وارداتیں ایسے ضرر رساں فائلوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں جو کھاتوں کی تفصیلات اور ریگولیٹری اداروں کے سرکاری پیغامات کی آڑ میں بھیجی جاتی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران دہلی، گجرات، مہاراشٹر اور راجستھان سمیت متعدد ریاستوں سے ایک ہی طرزِ عمل پر مبنی ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ آئی4 سی نے 22 جون 2026 کو جاری کردہ اپنی مشاورتی ہدایت ’’ضرر رساں ونڈوز ایگزیکیوٹیبل فائلوں کے ذریعے ریگولیٹری اداروں اور اعلیٰ عہدیداروں کی نقالی کرتے ہوئے واٹس ایپ اکاؤنٹس پر قبضہ اور بڑی مالیاتی دھوکہ دہی‘‘ کے عنوان سے شہریوں کو اس ابھرتے ہوئے خطرے سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔
رپورٹ ہونے والے واقعات میں متاثرہ افراد کو واٹس ایپ، ایس ایم ایس یا ای میل کے ذریعے (زِپ) فارمیٹ میں ایک کمپریسڈ فائل بھیجی جاتی ہے، جس کے نام عموماً ’’اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ -زِپ‘‘(اکثر تاریخ کے ساتھ، مثلاً "0714 اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ -زِپ) یا ’’آر بی آئی -زِپ‘‘اور ’’ایم سی اے- زِپ‘‘رکھے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ بھیجا جانے والا پیغام اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ وہ معمول کی کھاتوں کی تفصیلات یا پھر ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) یا وزارتِ کارپوریٹ امور (ایم سی اے) جیسے کسی ریگولیٹری ادارے کی فوری ہدایت معلوم ہو، جس میں انتہائی کم وقت کے اندر تعمیل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔اس کمپریسڈ فائل میں ایک ضرر رساں ونڈوز ایگزیکیوٹیبل فائل کے ساتھ ڈائنامک لنک لائبریری فائل بھی موجود ہوتی ہے۔ جیسے ہی صارف اس فائل کو ونڈوز ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ پر نکال کر کھولتا ہے، ایک ٹروجن سافٹ ویئر انسٹال ہو جاتا ہے، جو آلہ (ڈیوائس) کو متاثر کرتے ہوئے صارف کے فعال واٹس ایپ ویب سیشن پر قبضہ کر لیتا ہے۔ متعدد معاملات میں محکمۂ انکم ٹیکس کی نقالی کرتے ہوئے جعلی ای میلز بھی بھیجی جا رہی ہیں۔
واٹس ایپ اکاؤنٹ پر قبضہ ہونے کے بعد دھوکہ باز اسی متاثرہ اکاؤنٹ کے ذریعے خودکار انداز میں وہی ضرر رساں فائل متاثرہ شخص کے تمام رابطوں اور واٹس ایپ گروپس میں بھیج دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ عموماً یہ پیغام بھی شامل ہوتا ہے کہ فائل کو ’’تصدیق کے لیے اپنی کمپنی کے فنانس مینیجر کو بھیجیں‘‘ اور اسے کمپیوٹر پر کھولیں، جس کے نتیجے میں یہ سائبر حملہ مزید افراد اور کارپوریٹ نیٹ ورکس تک پھیل جاتا ہے۔دھوکہ دہی کے اگلے مرحلے میں، جسے عام طور پر ’’باس اِسکَیم‘‘ یا سی ای او امپرسونیشن(نقالی پر مبنی) فراڈ کہا جاتا ہے، مجرم کسی سینئر عہدیدار کے اصل واٹس ایپ اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہیں یا پھر متاثرہ ڈیوائس میں اپنے زیرِ کنٹرول نمبر کو خفیہ طور پر ’’سی ای او‘‘ کے نام سے محفوظ کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد اکاؤنٹس اور فنانس شعبے کے ملازمین کو فوری طور پر رقم فرضی (میول) بینک کھاتوں میں منتقل کرنے کی ہدایات بھیجی جاتی ہیں۔
آئی 4 سی کے نیشنل سائبر کرائم تھریٹ اینالیٹکس یونٹ (این سی ٹی اے یو) کی تکنیکی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ مہم قومی سرحدوں سے باہر سرگرم منظم گروہوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ اس میں جدید نوعیت کا ضرر رساں سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے، جو ڈی ایل ایل سائیڈ لوڈنگ طریقۂ کار کے ذریعے نہایت مہارت سے خود کو پھیلاتا ہے اور سیکیورٹی نظاموں سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تکنیکی ایجنسیوں کے اشتراک سے جاری ہیں۔
چونکہ یہ ضرر رساں سافٹ ویئر صرف ونڈوز کمپیوٹرز پر فعال ہوتا ہے اور اس میں استعمال ہونے والی جعلی دستاویزات کھاتوں کی تفصیلات اور ریگولیٹری تعمیل سے متعلق ہوتی ہیں، اس لیے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، کمپنیوں کے ڈائریکٹرز، چیف فنانشل آفیسرز (سی ایف اوز) اور کمپنیوں کے فنانس و اکاؤنٹس شعبے سے وابستہ عملہ اس مہم کا خصوصی ہدف ہیں۔تمام کارپوریٹ اداروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے ملازمین، بالخصوص فنانس ٹیموں، کو اس خطرے سے آگاہ کریں اور واٹس ایپ یا ای میل کے ذریعے موصول ہونے والی کسی بھی فوری رقم کی منتقلی یا بینک کھاتے میں تبدیلی کی ہدایت پر عمل کرنے سے پہلے اس کی براہِ راست فون کال سےیا بالمشافہ تصدیق ضرور کریں۔
اس خطرے سے نمٹنے کے لیے آئی 4 سی نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
(i) متاثرین کو پیشگی اطلاع:شکایات کے تجزیے اور تکنیکی معلومات کی بنیاد پر شناخت کیے گئے متاثرین اور ممکنہ متاثرین کو آئی 4 سی کی جانب سے پیشگی اطلاع دی جا رہی ہے، تاکہ وہ بروقت حفاظتی اقدامات، مثلاً منسلک ڈیوائسز سے لاگ آؤٹ کرنے اور اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے جیسے اقدامات کر سکیں۔
(ii) خطرے سے متعلق معلومات کا تبادلہ:ضرر رساں سافٹ ویئر سے متعلق خطرے کے اشارے اور تکنیکی معلومات انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سی ای آر ٹی۔اِن)، مائیکروسافٹ ڈیفنڈر اور ہندوستان کی معروف اینٹی وائرس کمپنیوں، یعنی کوئک ہیل،کے 7 کمپیوٹنگ اور نیٹ پروٹیکٹر کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں، تاکہ مختلف پلیٹ فارموں اور سیکیورٹی مصنوعات پر ان ضرر رساں فائلوں کی فوری شناخت، روک تھام اور انہیں حذف کیا جا سکے۔
(iii) شہریوں کا تحفظ:ان مربوط اقدامات کے نتیجے میں اب تک 10 ہزار سے زائد ہندوستانی شہریوں کو اس سائبر مہم سے محفوظ رکھا جا چکا ہے۔ سہیوگ پورٹل کے ذریعے ضرر رساں سافٹ ویئر کو مسلسل بلاک کیا جا رہا ہے۔
(iv) ’’آئی 4 سی ایم ایچ اے- جی ‘‘ ایس ایم ایس ہیڈر کے ذریعے انتباہات:آئی 4 سی متاثرہ شہریوں کو ’آئی 4 سی ایم ایچ اے- جی ‘ ایس ایم ایس ہیڈر کے ذریعے انتباہی پیغامات بھیج رہا ہے۔ گزشتہ 30 دنوں کے دوران 58000 سے زائد ممکنہ متاثرین کو اس ہیڈر کے ذریعے خبردار کیا جا چکا ہے، جبکہ خطرے سے متعلق معلومات سی ای آر ٹی۔اِن، مائیکروسافٹ، انڈین اینٹی وائرس کمپنیوں اور سائبر خطرات سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ بھی شیئر کی گئی ہیں۔ شہریوں سے درخواست ہے کہ آئی 4 سی ایم ایچ اے- جی ‘ہیڈر سے موصول ہونے والے پیغامات پر نظر رکھیں اور ان میں دی گئی ہدایات پر فوری عمل کریں۔
شہریوں اور اداروں کو مزید مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ درج ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل کریں:
- نامعلوم یا غیر مصدقہ ذرائع سے موصول ہونے والی - زِپفائلیں یا ایگزیکیوٹیبل فائلیں ہرگز ڈاؤن لوڈ، ایکسٹریکٹ یا کھولیں نہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) جیسے ریگولیٹری ادارے کبھی بھی واٹس ایپ اٹیچمنٹ کے ذریعے سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، سیکیورٹی اصلاحات یا کھاتوں کی تفصیلات ارسال نہیں کرتے۔
- واٹس ایپ ایپ میں لنکڈ ڈیوائسز کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور واٹس ایپ ویب کے وہ تمام سیشن فوری طور پر لاگ آؤٹ کر دیں جو اب استعمال میں نہیں ہیں۔
- نظام کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ سافٹ ویئر پابندی کی پالیسیاں نافذ کریں تاکہ صارف کی پروفائل ڈائریکٹریز سے نامعلوم اور ڈائنیمک لنک لائبریری فائلوں کے چلنے کو روکا جا سکے اور یہ بھی یقینی بنائیں کہ تمام ونڈوز کمپیوٹرز پر تازہ ترین اینٹی میلویئر سافٹ ویئر نصب اور فعال ہو۔
- اگر کسی اکاؤنٹ پر قبضہ ہو جائے تو فوراً تمام لنکڈ ڈیوائسز سے لاگ آؤٹ کریں، اپنے تمام رابطوں کو آگاہ کریں کہ وہ اس اکاؤنٹ سے موصول ہونے والی کسی بھی فائل کو نہ کھولیں اور متاثرہ کمپیوٹر کو تازہ ترین اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے ذریعے مکمل طور پر اسکین کریں۔
اس نوعیت کی سائبر دھوکہ دہی یا مشتبہ پیغامات کی فوری اطلاع نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر یا نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل www.cybercrime.gov.in.کے ذریعے دیں۔ اس حوالے سے تفصیلی مشاورتی ہدایت (ایڈوائزری) بھی اسی پورٹل پر دستیاب ہے۔
********
ش ح۔ م م ۔ ش ب ن
U-NO-1551
(रिलीज़ आईडी: 2296033)
आगंतुक पटल : 13