وزارت خزانہ
ڈی آر آئی کے ذریعہ پاکستان سے درآمد کی جانے والی 364 میٹرک ٹن ممنوعہ چھوارے ضبط، جن کی مالیت 3 کروڑ روپے ہے
ڈی آر آئی نے کاندلہ بندرگاہ پر بظاہر متحدہ عرب امارات سے درآمد چھوارے سے لدے 13 کنٹینرز کو ضبط کیا، جبکہ دراصل یہ کھیپ پاکستان سے آئی تھی
ہندوستان نے پاکستان سے تجارتی اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 12:22PM by PIB Delhi
ہندوستان کی جانب سے پاکستان سے تجارتی اشیا کی درآمد پر عائد پابندی سے بچنے کی کوششوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ ریوینیو انٹلی جنس(ڈی آر آئی) نے ایک ایسے معاملے کا پردہ فاش کیا ہے، جس میں تیسرے ممالک کے راستے پاکستان سے تعلق رکھنے والی تجارتی اشیاء کو خفیہ طور پر منتقل کرنے کے لیے ان کے اصل ملک کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ اس کارروائی کے نتیجے میں پاکستان سے درآمد شدہ 364 میٹرک ٹن خشک میوے(چھوارے) ضبط کیے گئے ، جن کی مالیت تقریباً 3 کروڑ روپے ہے۔
خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں ڈی آر آئی کے افسران نے کاندلہ بندرگاہ پر درآمد شدہ چھوارے سے لدے 13 کنٹینرز کو ضبط کیا۔ ان کنٹینرز میں موجود 364 میٹرک ٹن خشک میوے (چھوارے)کی مالیت تقریباً 3 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اگرچہ ان تجارتی اشیاء کی کھیپ کو متحدہ عرب امارات سے درآمد شدہ ظاہر کیا گیا تھا، لیکن حقیقت میں ان کا تعلق پاکستان سے تھا۔
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ تجارتی اشیاء پہلے پاکستان سے دبئی منتقل کی گئیں اور اس کے بعد انہیں دوسرے کنٹینروں میں منتقل کرکے ہندوستان برآمد کیا گیا۔ درآمد کنندگان نے مبینہ طور پر اہم حقائق چھپائے اور اصل ملک کے بارے میں غلط معلومات فراہم کیں، تاکہ پاکستان سے تجارتی اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی سے بچا جا سکے۔ اس کے پیش نظر مکمل کھیپ کو کسٹمز ایکٹ1962 کی متعلقہ دفعات کے تحت ضبط کر لیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے محکمہ ریوینیو انٹلی جنس (ڈی آر آئی) کے افسران نے توتیکورن بندرگاہ پر تقریباً 14 میٹرک ٹن پاکستان سے منسوب گُگّل ریزن درآمد کرنے کی ایک کوشش کا پردہ فاش کیا تھا، جس کی مالیت تقریباً 1.4 کروڑ روپے تھی۔ یہ کھیپ تجارتی اشیاء کی تفصیل اور اصل ملک کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرکے درآمد کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کھیپ کو غلط طور پر صومالیہ سے تعلق رکھنے والی قدرتی ریزن ظاہر کیا گیا تھا اور اسے دبئی کے راستے ہندوستان لایا گیا تھا۔
گُگّل ریزن ایک ایسی نوع ہے جو ہندوستان اور پاکستان کے خشک علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ یہ خطرے سے دوچار انواع کی عالمی تجارت کے کنونشن (سی آئی ٹی ای ایس) کے ضمیمہ دوم میں شامل ہے اور آئی یو سی این کی سرخ فہرست میں اسے انتہائی خطرے سے دوچار زمرے میں رکھا گیا ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ کھیپ دراصل گُگّل ریزن پر مشتمل تھی، اس کا اصل ملک پاکستان تھا اور اسے جعلی دستاویزات کے ذریعے دوسرے ملک کے راستے منتقل کیا گیا تھا۔ اس سازش میں ملوث دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
غیر ملکی تجارتی پالیسی 2023 ترمیم شدہ بموجب ڈی جی ایف ٹی کے نوٹیفکیشن نمبر 06/26-2025 مورخہ02 مئی2025 کےمطابق پاکستان میں پیدا ہونے والی یا پاکستان سے برآمد کی جانے والی تمام اشیاء کی براہِ راست یا بالواسطہ درآمد اور نقل و حمل پر پابندی عائد ہے۔ دونوں معاملات میں تجارتی سامان کی درآمدات مذکورہ پابندی کی خلاف ورزی پائی گئیں۔
ان کامیاب کارروائیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ محکمہ ریوینیو انٹلی جنس (ڈی آر آئی) اسمگلنگ، کسٹمز سے متعلق دھوکا دہی اور سرحد پار غیر قانونی تجارت میں ملوث منظم گروہوں کی نشاندہی، ان کی سرگرمیوں کو روکنے اور ان کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے مسلسل مؤثر اقدامات کر رہا ہے۔
*********
ش ح۔م ش ع۔ش ت
Urdu No-1361
(रिलीज़ आईडी: 2294740)
आगंतुक पटल : 13