زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
آئی سی اے آر کی تیار کردہ مقامی افریقی سوائن فیور (اے ایس ایف) ویکسین سے بھارت کی حیاتیاتی سلامتی ہوئی مزید مضبوط
مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ کی موجودگی میں آئی سی اے آر کے یومِ تاسیس کے موقع پر یہ ویکسین ملک کے نام وقف کی
مویشیوں کی ویکسین کی تیاری میں آتم نربھر بھارت کی جانب ایک اہم قدم، سستی اے ایس ایف ویکسین کے عالمی سپلائر کے طور پر بھارت کو مستحکم کرنے کی صلاحیت
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 4:14PM by PIB Delhi
افریقی سوائن فیور (اے ایس ایف)، جو افریقی سوائن فیور وائرس (اے ایس ایف وی) کی وجہ سے پھیلتا ہے، دنیا بھر میں گھریلو اور جنگلی خنزیروں کو متاثر کرنے والی انتہائی تباہ کن سرحد پار پھیلنے والی حیوانی بیماریوں میں سے ایک ہے۔اس بیماری کی علامات میں تیز بخار، نکسیر اور اموات کی بلند شرح شامل ہیں، جو بعض صورتوں میں 100 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس بیماری نے عالمی سطح پر خنزیر پروری کے شعبے کو شدید سماجی و اقتصادی نقصانات پہنچائے ہیں۔بھارت میں 2020 میں پہلی بار اس بیماری کی تشخیص کے بعد سے، افریقی سوائن فیور کئی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پھیل چکا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں خنزیروں کی اموات، خنزیر کی پرورش میں خلل، جانوروں کی نقل و حرکت اور تجارت پر پابندیاں اور خاص طور پر شمال مشرقی خطے میں چھوٹے درجے کے خنزیر پالنے والے کسانوں کی روزی روٹی کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔بھارت میں اس بیماری کے لیے موثر علاج یا تجارتی طور پر منظور شدہ ویکسین(ٹیکہ) دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے، اس پر قابو پانے کے لیے اب تک زیادہ تر فوری تشخیص، متاثرہ جانوروں کو تلف کرنا اور سخت حیاتیاتی حفاظتی اقدامات (بایو سیکیورٹی اقدامات) پر انحصار کیا جاتا رہا ہے۔

بھارت میں افریقی سوائن فیور (اے ایس ایف) کے پھیلاؤ سے ہونے والے معاشی نقصانات نمایاں رہے ہیں۔ آسام میں 2020 اور 2021 کے ابتدائی وبائی پھیلاؤ کے دوران خنزیروں کی اموات اور انہیں تلف کیے جانے کے باعث تقریباً 276 کروڑ روپے کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا۔ میزورم میں 2025 تک اے ایس ایف کے پھیلاؤ سے مبینہ طور پر 11,382 سے زیادہ خاندان متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں تقریباً 982 کروڑ روپے کے مالی نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ان وبائی حالات نے بیماری سے نمٹنے کی تیاری کے عمل کو مضبوط بنانے، کسانوں کی روزی روٹی کے تحفظ اور ملک کے خنزیر پروری کے شعبے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک مؤثر مقامی حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
اس اہم چیلنج سے نمٹنے کے لیے آئی سی اے آر–نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائی سیکیورٹی اینیمل ڈیزیز (آئی سی اے آر-این آئی ایچ ایس اے ڈی)، بھوپال کے سائنس دانوں نے خنزیروں کے لیے بھارت کی پہلی مقامی طور پر تیار کردہ ایم اے-104 سیل لائن -بیسڈلائیوایٹینوئیٹڈافریقن سوائن فیور (اے ایس ایف) ویکسین تیار کی ہے۔یہ ویکسین ایم اے-104 سیل لائن میں تیار کیے گئے ایک منفرد جینیاتی تبدیلیوں والے کمزور شدہ(ایٹینوئیٹڈ) اے ایس ایف وی جینو ٹائپ-2 وائرس کے استعمال سے تیار کی گئی ہے، جس میں مخصوص جینز کو حذف کیا گیا ہے۔ یہ ویکسین حیوانی طب کی تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ہے اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے موزوں ہے۔
اس ویکسین کی، جراثیم سے پاک ہونے، خالص پن، تحفظ، جینیاتی استحکام، مدافعتی صلاحیت، حفاظتی اثرات اور وائرس کے دوبارہ مہلک ہونے کی صلاحیت سے متعلق جامع لیبارٹری جانچ کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کی وزارت کے تحت حیوانات و ڈیری کے محکمہ (ڈی اے ایچ ڈی)، حکومتِ ہند کے تعاون سے اس کی میدانی سطح پر بھی توثیق کی گئی، جس سے حقیقی حالات میں اس کی حفاظت اور مؤثریت مزید ثابت ہوئی ہے۔یہ ویکسین آٹھ ہفتے سے زیادہ عمر کے صحت مند خنزیروں کے لیے تجویز کی گئی ہے۔ اسے ایک ملی لیٹر کی پٹھوں میں دی جانے والی خوراک کے طور پر لگایا جاتا ہے، جس کے بعد پہلی ویکسینیشن کے 14 دن بعد بوسٹر خوراک دی جاتی ہے۔
یہ مقامی طور پر تیار کردہ ویکسین خنزیروں کی اموات میں نمایاں کمی لانے، معاشی نقصانات کو کم کرنے اور ملک بھر میں خنزیر پالنے والے کسانوں کی روزی روٹی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔دنیا کی سب سے تباہ کن مویشی بیماریوں میں شامل ایک بیماری کے خلاف مؤثر حفاظتی ذریعہ فراہم کرکے، یہ ویکسین بھارت کی حیوانی صحت کی سلامتی کو نمایاں طور پر مضبوط کرے گی اور خنزیر پروری کے شعبے کی پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، سکریٹری، ڈی اے آر ای اور ڈائریکٹر جنرل، آئی سی اے آر نے کہا کہ یہ اہم کامیابی حیوانی سائنس کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ عالمی معیار کے حیوانی صحت سے متعلق حل تیار کرنے کی بھارت کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے اور مقامی طور پر تیار کردہ نئی نسل کی ویکسینوں اور جدید ٹیکنالوجیز کی راہ ہموار کرتی ہے، جو مویشیوں کی صحت کو مضبوط بنانے، بیماریوں سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانے اور ملک کی غذائی و حیاتیاتی سلامتی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔
اس وقت دنیا میں افریقی سوائن فیور (اے ایس ایف) کی صرف چند تجارتی طور پر منظور شدہ ویکسین دستیاب ہیں، جو ویتنام میں تیار کی جاتی ہیں۔ یہ ویکسین پیٹنٹ شدہ خصوصی سیل لائنز کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی جاتی ہیں۔اس کے برعکس، آئی سی اے آر-این آئی ایچ ایس اے ڈی کی تیار کردہ مقامی ویکسین میں وسیع پیمانے پر دستیاب ایم اے-104 سیل لائن استعمال کی گئی ہے، جو ایک بڑی تکنیکی کامیابی ہے۔ اس سے خصوصی ملکیتی مینوفیکچرنگ پلیٹ فارموں پر انحصار ختم ہوگا، ویکسین کی بڑے پیمانے پر پیداوار ممکن ہو سکے گی اور تیاری کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
******
( ش ح ۔ م م ۔ م ا )
Urdu.No-1309
(रिलीज़ आईडी: 2294486)
आगंतुक पटल : 11