ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

   بادل نما(جسم پر بادلوں جیسے دھبے ہوتے ہیں) چیتے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر بھارت نے جنگلی بلی کے تحفظ کے لیے خصوصی حفاظتی منصوبے کے ذریعے اپنی کوششوں کو مزید مضبوط کیا 


یہ حفاظتی منصوبہ شمال مشرقی بھارت میں   قدرتی مسکن کے تحفظ، سائنسی نگرانی، جنگلاتی علاقوں کے باہمی ربط اور مقامی برادریوں کی شمولیت   پر توجہ مرکوز کرتا ہے

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 12:41PM by PIB Delhi

بادل نما(جسم پر بادلوں جیسے دھبے ہوتے ہیں) چیتے کے بین الاقوامی دن کے موقع پر بھارت نے کلاؤڈڈ لیپرڈ کنزرویشن ایکشن پلان (سی اے پی) کی لانچنگ کے ذریعے ایشیا کی نایاب اور کم نظر آنے والی جنگلی بلی نماں جانوروں میں سے ایک، بادل نما چیتے کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔  یہ عملی منصوبہ حکومتِ ہندکے تحت   عالمی ماحولیاتی سہولت (جی ای ایف)   اور   اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)   کے مشترکہ اقدام کے تحت تیار کیا گیا ہے۔   کلاؤڈڈ لیپرڈ کنزرویشن ایکشن پلان (سی اے پی)   کو جولائی 2026 کے دوسرے ہفتے میں کوئمبٹور میں منعقدہ قومی جنگلی حیات بورڈ کی قائمہ کمیٹی (ایس سی این بی ڈبلیو ایل)   کے 91ویں اجلاس کے دوران جاری کیا گیا۔یہ عملی منصوبہ اس نوع کی بقا اور تحفظ کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے، جس میں قدرتی مسکن کا تحفظ، جنگلاتی علاقوں کے باہمی ربط کی بحالی، سائنسی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا اور مقامی برادریوں کو تحفظاتی سرگرمیوں میں بااختیار بنانا شامل ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001DI7K.jpg

 

کلاؤڈڈ لیپرڈ کنزرویشن ایکشن پلان (سی اے پی) شمال مشرقی بھارت میں بادل نما چیتے کے طویل مدتی تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اس منصوبے میں بڑے پیمانے پر تحفظ، سائنسی جائزے، مقامی برادریوں کی شمولیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کے ذریعے اس نسل اور اس کے قدرتی مساکن کے تحفظ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اس ایکشن پلان کا ایک اہم جزو شمال مشرقی بھارت میں 14 ترجیحی تحفظاتی شعبوں  کی نشاندہی کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلاتی مساکن کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر قدرتی مساکن کی بحالی اور جنگلاتی گزرگاہوں  کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔ حکومت نے مربوط جنگلی حیات مساکن کی ترقی (آئی ڈی ڈبلیو ایچ) اسکیم کے تحت اسپیشیز ریکوری پروگرام میں بادل نما چیتے کو شامل کرکے اس کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوط کیا ہے۔

سی اے پی کے تحت کیمرہ ٹریپس، رہائش گاہوں کے جائزے، جینیاتی تحقیق اور ماحولیاتی ڈی این اے (ای ڈی این اے) کے ذریعے معیاری سائنسی نگرانی کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے اس نسل اور اس کی ضروریاتِ مسکن کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبے میں غیر قانونی شکار کی روک تھام اور جنگلی حیات سے متعلق جرائم کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ صف اول کے عملے کی صلاحیت سازی بھی اس کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں زمینی سطح پر تحفظاتی کوششوں کو مؤثر بنانے کے لیے ایم-اسٹرائپس  اسمارٹ ایپلی کیشن کے استعمال کو فروغ دینا شامل ہے۔

مقامی برادریوں کے جنگلی حیات کے تحفظ میں اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، اس ایکشن پلان میں برادری پر مبنی تحفظ اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی حمایت کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اس میں پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحد پار تعاون کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ اس نسل کے قدرتی مسکن والے تمام علاقوں میں مربوط انداز سے تحفظ کے اقدامات کیے جا سکیں۔ کلاؤڈڈ لیپرڈ کے تحفظ کے منصوبہ بندی کے عمل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور حالات کے مطابق انتظامی حکمت عملیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے اس نوع کے مسکن اور قدرتی علاقوں کی طویل مدتی مضبوطی میں اضافہ ہوگا۔

کلاؤڈڈ لیپرڈ کا تحفظ شمال مشرقی ہندوستان کے جنگلات اور قدرتی ورثے کے تحفظ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ کنزرویشن ایکشن پلان کے ذریعے ہندوستان ایک مربوط حکمت عملی کو آگے بڑھا رہا ہے، جس میں مسکن کا تحفظ، سائنسی نگرانی، قدرتی علاقوں کی بحالی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، مقامی برادریوں کی شمولیت اور بین الاقوامی تعاون کو یکجا کرکے اس منفرد جنگلی بلی نما جانور کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

(تحفظاتی عملی منصوبہ کے دستاویز حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں )

*****

ش  ح۔ ع ح - ف ر

Uno-1266


(रिलीज़ आईडी: 2294190) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Bengali , English , हिन्दी , Bengali-TR , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam