صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرِ صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے نیٹ-پی جی 2026 کی تیاریوں کا جائزہ لیا؛ امتحان کو ہم وار، محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے طلبہ مرکوز اصلاحات پر زور دیا

مرکزی وزیرِ صحت نے نیٹ-پی جی 2026 کے ایسپرنٹس پر زور دیا کہ وہ افواہوں کا شکار نہ ہوں؛ امتحانی عمل کی مضبوط سیکیورٹی کو دہرایا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 AUG 2026 7:19PM by PIB Delhi

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج نیشنل ایلیجبلٹی ٹیسٹ فار پوسٹ گریجویٹ (نیٹ-پی جی) 2026 کے لیے، 30 اگست 2026 کو ہونے والے امتحان کو ہم وار، محفوظ، شفاف اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ممکن بنانے کے لیے  قومی اہلیت و داخلہ ٹیسٹ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

جائزے کے دوران، وزیر موصوف نے نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز اِن میڈیکل سائنسز (NBEMS)، ٹیکنالوجی پارٹنرز اور امتحان منعقد کرنے میں شامل دیگر اسٹیک ہولڈروں کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انھیں امتحانی لاجسٹکس، امیدواروں کی سہولت کے اقدامات، سیکیورٹی آرکیٹیکچر اور نیٹ-پی جی 2026 کے لیے متعارف کرائی گئی ٹیکنالوجی پر مبنی مداخلتوں کے بارے میں تفصیل فراہم کی گئی۔

وزیر موصوف نے زور دیا کہ ایک منصفانہ، شفاف اور امیدوار دوست امتحان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے جب کہ سالمیت اور سیکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھا جائے۔

نیٹ-پی جی 2026 کے لیے کُل 2,73,183 امیدواروں نے کام یابی سے رجسٹریشن کرائی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 12.5% سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ یہ امتحان تقریباًًً 340 شہروں اور 1,300 سے زیادہ امتحانی مراکز میں ایک ہی شفٹ میں منعقد کیا جائے گا، جس سے ملک بھر کے امیدواروں کے لیے رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

جناب جگت پرکاش نڈا نے امیدواروں پر زور دیا کہ وہ امتحان سے متعلق افواہوں یا دھوکہ دہی کے دعووں سے گم راہ نہ ہوں۔ انھوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ حتمی سوالیہ پرچہ امتحان کے آغاز سے کچھ دیر پہلے ایک انتہائی محفوظ، انکرپٹڈ اور وقت کے پابند عمل کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے، جس میں ٹیکنالوجی اور آپریشنل حفاظتی اقدامات کی کئی تہیں شامل ہوتی ہیں جو مقررہ وقت تک اس کی رازداری کو یقینی بناتی ہیں۔ لہٰذا، کسی بھی شخص کے ذریعے سوالیہ پرچے تک پہلے سے رسائی کا کوئی بھی دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے اور اس کا مقصد امیدواروں کو گم راہ کرنا ہے۔ انھوں نے خواہشمندوں کو مشورہ دیا کہ وہ صرف NBEMS اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کے ذریعے جاری کردہ سرکاری مواصلات پر بھروسا کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمیوں یا غیر منصفانہ طریقوں کی کوششوں کی فوری اطلاع دیں۔

نیٹ-پی جی 2026 میں طلبہ پر مرکوز اہم اصلاحات

امتحانی مقامات کے انتخاب میں توسیع: امیدواروں کو تین ریاستی ترجیحات کی نشان دہی کرنا ضروری ہے، جس میں خط کتابت کی ریاست لازمی پہلی ترجیح ہوگی، تاکہ ان کے رہائشی مقام کے قریب مراکز کی الاٹمنٹ میں سہولت ہو۔

امیدواروں کی سہولت میں اضافہ: امتحانی شہر کی اطلاع امتحان سے تقریباًًًً تین ہفتے پہلے جاری کی جائے گی، جس سے امیدواروں کو اپنے سفر اور رہائش کی منصوبہ بندی پہلے سے کرنے میں مدد ملے گی۔

بہتر امتحانی پیٹرن: امتحان کو 180 سوالات میں معقول بنایا گیا ہے جن کا جواب 210 منٹ میں دینا ہوگا، جس سے امیدواروں کو فی سوال زیادہ وقت ملے گا جب کہ مجموعی امتحانی مدت برقرار رہے گی۔

مضبوط تصدیق: آدھار پر مبنی تصدیق کو درخواست کے دوران اور امتحان کے دن دونوں میں شامل کیا گیا ہے۔ جہاں فنگر پرنٹ کی تصدیق ناکام ہوگی وہاں آئیرس پر مبنی بائیو میٹرک تصدیق کا استعمال کیا جائے گا، جس سے امتحانی عمل کی سالمیت مزید مضبوط ہوگی۔

مضبوط کثیر سطحی سیکیورٹی فریم ورک

وزیر موصوف نے امتحان کے لیے کیے گئے جامع سیکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں امتحانی مراکز کی پیشگی سیلنگ اور تصدیق، سی سی ٹی وی نگرانی، بائیو میٹرک تصدیق، امیدواروں کی تلاشی، سگنل جیمرز کی تعیناتی، ڈائنامک کمپیوٹ، مرکزی اور علاقائی کمانڈ سینٹرز کے ذریعے براہ راست نگرانی، اور آزاد مبصرین اور جائزہ کاروں کے ذریعے حقیقی وقت کی نگرانی شامل ہے۔ امتحان کو ہم وار طریقے سے منعقد کرنے کے لیے 60,000 سے زیادہ امتحانی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

سوالیہ پرچہ کی تیاری اور ترسیل کے مکمل عمل کو انکرپشن کی کئی تہوں، محفوظ آف لائن تیاری، امتحان سے کچھ دیر پہلے سوالیہ پرچہ کو وقت کے پابند طریقے سے حتمی شکل دینے، اور ٹیسٹ کے مقررہ آغاز پر ہی کنٹرول شدہ ڈیجیٹل ڈکرپشن کے ذریعے مزید مضبوط کیا گیا ہے۔

شفافیت کو مزید مضبوط کرنے اور غیر منصفانہ طریقوں کو روکنے کے لیے، NBEMS نے نقالی، دلالوں اور دیگر غیر منصفانہ ذرائع کی اطلاع دینے کے لیے ایک وقف شدہ ای میل ایڈریس کو فعال کیا ہے، جب کہ امیدواروں کو بیداری اور چوکسی کو فروغ دینے کے لیے باقاعدہ مشورے جاری کیے ہیں۔

وزیر موصوف نے تمام متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ قریبی ہم آہنگی برقرار رکھیں اور یقینی بنائیں کہ ہر امیدوار کو ایک ہم وار، محفوظ اور پریشانی سے پاک امتحانی عمل کا تجربہ ہو۔ انھوں نے طبی داخلہ امتحانات کو شفافیت، انصاف اور تکنیکی مضبوطی کے اعلیٰ ترین معیارات کے ساتھ منعقد کرنے کے لیے بھارت سرکار کے عزم کو دہرایا۔

محترمہ پونیا سلیلہ سریواستو، سکریٹری، مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود؛ ڈاکٹر لوونیش جی کرشنا، ڈی جی ایچ ایس؛ ڈاکٹر ابھیجات سیٹھ، صدر، این بی ای ایم ایس؛ ڈاکٹر ونود کوٹوال، ایڈیشنل سکریٹری، مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود؛ جناب کمار راہول، ڈائریکٹر، مرکزی وزارتِ صحت؛ ڈاکٹر راگھو لانگر، سکریٹری، این ایم سی اور ڈاکٹر مینو باجپائی، اعزازی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، این بی ای ایم ایس بھی میٹنگ میں موجود تھے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 1122


(ریلیز آئی ڈی: 2293109) وزیٹر کاؤنٹر : 9