کامرس اور صنعت کی وزارتہ
بھارت نے جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے تحت آٹھواں تجارتی پالیسی جائزہ مکمل کیا
کامرس سکریٹری نے کھلے، شفاف اور ڈبلیو ٹی اوکے اصولوں سے ہم آہنگ تجارتی نظام کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا
بھارت کے تجارتی پالیسی جائزے میں 68 ڈبلیو ٹی او اراکین کی شرکت، بھارت کی اقتصادی تبدیلی میں عالمی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 8:49PM by PIB Delhi
بھارت کے آٹھویں تجارتی پالیسی جائزے (ٹی پی آر) کا دوسرا اور آخری اجلاس آج جنیوا میں عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں اختتام پذیر ہوا۔ تجارتی پالیسی جائزہ عالمی تجارتی تنظیم کا ایک اہم شفافیت اور نگرانی کا طریقۂ کار ہے، جس کے تحت رکن ممالک کی تجارتی اور متعلقہ پالیسیوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے، تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو، ڈبلیو ٹی او کے ضوابط پر عمل درآمد کو مضبوط بنایا جا سکے اور رکن ممالک کے درمیان تعمیری بات چیت کو فروغ دیا جا سکے۔
بھارت کے آٹھویں تجارتی پالیسی جائزے کے لیے سرکاری وفد کی قیادت تجارت کے سیکریٹری جناب راجیش اگروال نے کی۔ ڈبلیو ٹی او کے رکن ممالک سے خطاب کرتے ہوئے اختتامی بیان میں تجارت کے سیکریٹری نے اراکین کی فعال شرکت اور بھارت کی تجارتی پالیسیوں میں ظاہر کی گئی گہری دلچسپی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور بھارت کھلے، شفاف اور قابل پیش گوئی تجارتی و سرمایہ کاری نظام کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت کی ٹیرف اصلاحات، کسٹمز کے نظام کو آسان بنانے کے اقدامات اور آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کی پُرعزم حکمت عملی نے عالمی معیشت کے ساتھ ملک کے انضمام کو مسلسل مضبوط کیا ہے، جبکہ ملکی ترقی کے اہداف کو بھی مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ بھارت عالمی طلب کو فروغ دینے والا ایک اہم محرک بنا ہوا ہے۔
اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے معاملات کا جواب دیتے ہوئے، تجارت کے سیکریٹری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کی تجارتی پالیسیاں ایک بڑی ترقی پذیر معیشت کی ترقیاتی ضروریات کے ساتھ توازن قائم رکھتے ہوئے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے اصولوں سے ہم آہنگ رہتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کا زرعی ٹیرف نظام لاکھوں چھوٹے، کم آمدنی والے اور وسائل کی کمی کا شکار کسانوں کے روزگار کے تحفظ کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ انصاف اور مساوات کو یقینی بنایا جا سکے، جبکہ صنعتی ٹیرف بدلتے ہوئے عالمی معاشی ماحول میں سپلائی چین کی مضبوطی، تنوع اور ملکی مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو فروغ دینے میں معاون ہیں۔
جائزے کے دوران بھارت کو 44 ڈبلیو ٹی او اراکین کی جانب سے 1,094 تحریری سوالات موصول ہوئے۔ 21 اور 23 جولائی 2026 کو منعقد ہونے والے دو جائزہ اجلاسوں کے دوران 68 ڈبلیو ٹی او اراکین نے اظہار خیال کیا، جو بھارت کی اقتصادی تبدیلی اور کثیرجہتی تجارتی نظام میں اس کے کردار میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ کئی اراکین نے بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کثیرجہتی تجارتی نظام میں بھارت کی تعمیری شمولیت اور مضبوط اقتصادی لچک کو سراہا۔
اراکین نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، کسٹمز اور تجارتی سہولت کاری کے نظام کو جدید بنانے، اختراع اور اسٹارٹ اَپ اقدامات، علاقائی تجارتی معاہدوں کے فروغ، اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کو عالمی ویلیو چینزسے جوڑنے کی کوششوں میں بھارت کی کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے ڈبلیو ٹی او کے ماہی گیری سبسڈی معاہدے کو قبول کرنے کے بھارت کے اقدام کا بھی خیرمقدم کیا۔
صحت و نباتاتی تحفظ سے متعلق اقدامات، تکنیکی ضوابط اور تجارتی تدارکی اقدامات کے بارے میں تجارت کے سیکریٹری نے شفافیت، متعلقہ فریقوں(اسٹیک ہولڈرز) سے مشاورت اور عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ضوابط کی پابندی کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کے کوالٹی کنٹرول احکامات کا مقصد جائز عوامی پالیسی کے اہداف کا حصول ہے، جبکہ تجارتی تدارکی تحقیقات معروضی شواہد، مناسب قانونی طریقۂ کار اور عدالتی نگرانی کی بنیاد پر شفاف انداز میں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے تجارتی تدارکی اقدامات کے تحت مجموعی تجارتی دائرہ محدود ہے اور بھارت اینٹی ڈمپنگ نظام میں کم تر ڈیوٹی اصول (لیسر ڈیوٹی رول) پر مسلسل عمل کر رہا ہے۔
تجارت کے سیکریٹری نے پائیدار ترقی، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، دانشورانہ املاک سے متعلق اصلاحات، خدماتی تجارت، سرمایہ کاری میں سہولت کاری اور کاروبار میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے بھارت کی مسلسل کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے مالی شمولیت، ڈیجیٹل تجارت، لاجسٹکس نظام کو جدید بنانے اور ماحولیاتی پائیداری کے شعبوں میں بھارت کی نمایاں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے جامع اور اختراع پر مبنی ترقی کے ماڈل کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔
عالمی تجارتی تنظیم میں اصلاحات کے حوالے سے تجارت کے سیکریٹری نے کھلے، جامع، شفاف اور قواعد پر مبنی کثیرجہتی تجارتی نظام کے لیے بھارت کے مضبوط عزم کو دہرایا۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈبلیو ٹی او میں اصلاحات ترقی پر مبنی ہونی چاہئے، ترقی پذیر ممالک کے لیے پالیسی سازی کی گنجائش کو برقرار رکھنا چاہیے، تنظیم کی ساکھ کو مضبوط بنانا چاہیے اور موجودہ ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔ بھارت نے یہ بھی عزم ظاہر کیا کہ وہ ڈبلیو ٹی او کے بنیادی اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے کثیرجہتی تجارتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔
تجارت کے سیکریٹری نے تجارتی پالیسی جائزہ ادارے کی سربراہ، ساموا کی سفیر نیلا پیپی ٹویٹا لیوی، اور جائزے کے مبصر، برازیل کے سفیر گیلہرمے ڈی آگویار پٹریوتا کا جائزہ عمل کے دوران ان کی قیادت اور قیمتی تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے سیکریٹریٹ، ڈبلیو ٹی او کے رکن ممالک اور جنیوا و نئی دہلی میں موجود بھارتی ٹیموں کا بھی شکریہ ادا کیا، جن کی مسلسل کوششوں سے بھارت کے آٹھویں تجارتی پالیسی جائزے کی کامیاب تکمیل ممکن ہوئی۔
جائزے کے اختتام پر تجارت کے سیکریٹری نے ڈبلیو ٹی او کے اندر شفافیت، بات چیت اور تعمیری تعاون کے لیے بھارت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ بھارتی فلسفے "وسودھیو کٹمبکم" یعنی دنیا ایک خاندان ہے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کثیرجہتی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، تاکہ بین الاقوامی تجارت مشترکہ خوشحالی، جامع ترقی اور پائیدار ترقی کے فروغ کا ذریعہ بنی رہے۔
اختتامی کلمات میں جائزے کے مبصر، عالی جناب جناب گیلہرمے ڈی آگویار پٹریوتا (برازیل، اپنی ذاتی صلاحیت میں) نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے وقت، کئی رکن ممالک نے اس توقع کا اظہار کیا کہ بھارت بات چیت کو فروغ دے کر، اتفاق رائے پیدا کرکے اور قواعد پر مبنی، جامع اور مضبوط کثیرجہتی تجارتی نظام کو مستحکم بنا کر ایک پل کا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے عالمی جنوب کی ایک نمایاں آواز کے طور پر بھارت کی منفرد حیثیت اور ڈبلیو ٹی او کے اندر اجتماعی اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے رکن ممالک کے درمیان اختلافات کو کم کرنے میں بھارت کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
اختتامی کلمات میں تجارتی پالیسی جائزہ ادارے کی سربراہ، ساموا کی سفیر نیلا پیپی ٹویٹا لیوی نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او کے اراکین نے عالمی معیشت میں بھارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بڑے پیمانے پر تسلیم کیا ہے اور عالمی ترقی و تجارت کے فروغ میں بھارت کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ بھارت ان کا مناسب طریقے سے ازالہ کرے گا۔
مجموعی طور پر بھارت کا آٹھواں تجارتی پالیسی جائزہ مثبت انداز میں اختتام پذیر ہوا، جس نے کثیرجہتی تجارتی نظام میں بھارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس کے ساتھ ہی رکن ممالک کی اس توقع کی بھی عکاسی ہوئی کہ بھارت قواعد پر مبنی عالمی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے اور اس کے مستقبل کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔
***
)ش ح۔ش آ۔ص ج)
724: UN No
(रिलीज़ आईडी: 2290310)
आगंतुक पटल : 16