عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے لوک سبھا میں عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پیش کیا
عوامی امتحانات ترمیمی بل میں تیز رفتار تحقیقات، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں اور مزید سخت تعزیری دفعات کی تجویز ہے
اس کا مقصد امتحان میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف فوری انصاف اور زیادہ مؤثر انسدادی نظام کو یقینی بنانا ہے
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 6:46PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنس، نیز وزیر اعظم کا دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلا کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 پیش کیا۔
اس ترمیمی بل کا مقصد عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024 کی دفعات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ اس کے تحت تیز رفتار تحقیقات، خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے فوری سماعت، خصوصی سرکاری وکلا کی تقرری، اپیلوں کے وقت مقررہ مدت میں تصفیے اور مزید سخت تعزیری دفعات کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کے استعمال اور منظم بے ضابطگیوں کی مؤثر روک تھام کی جا سکے۔
یہ مجوزہ ترامیم حالیہ برسوں میں سوالیہ پرچوں کے افشا ہونے اور امتحانات سے متعلق منظم بے ضابطگیوں کے واقعات کے پیش نظر موجودہ قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ ان کا مقصد جوابدہی کو بڑھانا اور اس طرح کے جرائم کے خلاف مؤثر انسدادی نظام قائم کرنا اور عوامی امتحانات کی ساکھ و سالمیت کا تحفظ کرنا ہے۔
بل میں غیر منصفانہ ذرائع کا استعمال کرنے والے افراد کے لیے سزا سخت کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت قید کی کم از کم مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ایکٹ کے تحت جرم میں ملوث سروس فراہم کرنے والے اداروں کے لیے زیادہ سے زیادہ جرمانہ 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کرنے اور عوامی امتحانات کے انعقاد سے نا اہلی کی مدت چار سال سے بڑھا کر آٹھ سال کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
بل میں ان سروس فراہم کرنے والے اداروں کے انتظامی عہدیداروں کے لیے بھی سخت سزا تجویز کی گئی ہے، جس کے تحت انہیں کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ بھی 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کیا جائے گا۔
امتحانات سے متعلق منظم جرائم سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے بل میں کم از کم قید کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر سات سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بل کے ذریعے مرکزی حکومت کو یہ اختیار بھی دیا جا رہا ہے کہ وہ ایکٹ کے تحت جرائم کی تحقیقات اس مقصد کے لیے قائم کی گئی خصوصی ٹاسک فورس کے سپرد کر سکے۔
تحقیقات اور مقدمات کی جلد تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے بل میں نئی دفعہ 12A شامل کرنے کی تجویز ہے، جس کے تحت تحقیقات دو ماہ کے اندر مکمل کی جائیں گی۔ سیشن عدالتوں کو اس ایکٹ کے تحت مقدمات کی روزانہ سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں نامزد کیا جائے گا۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد مقدمے کی سماعت تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ہر خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت کے لیے خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا جائے گا۔
اسی طرح نئی دفعہ 12B شامل کرنے کی تجویز ہے، جس کے تحت خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت کے کسی بھی فیصلے، حکم یا سزا کے خلاف 30 دن کے اندر متعلقہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی، اور جہاں تک ممکن ہو، اس اپیل کا فیصلہ تین ماہ کے اندر کر دیا جائے گا۔
عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024، جو 12 فروری 2024 کو منظور کیا گیا اور 21 جون 2024 سے نافذ العمل ہوا، عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام کے لیے ایک جامع قومی قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ یہ ایکٹ درج ذیل اداروں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے امتحانات پر لاگو ہوتا ہے: یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی)، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ (آر آر بی)، انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ پرسنل سلیکشن (آئی بی پی ایس)، نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے)۔ مرکزی حکومت کی وزارتیں، محکمے، ان کے منسلک اور ماتحت دفاتر، جہاں بھرتی کے لیے امتحانات منعقد کیے جاتے ہیں، نیز وہ دیگر ادارے جنہیں مرکزی حکومت وقتاً فوقتاً مطلع کرے۔ اس ایکٹ کے تحت تمام جرائم قابل دست اندازی پولیس، ناقابل ضمانت اور ناقابل مصالحت ہیں اور ان کے لیے قید، جرمانے اور جائیداد کی ضبطی سے متعلق سخت دفعات موجود ہیں۔
مجوزہ ترامیم سے توقع کی جاتی ہے کہ امتحانات سے متعلق بے ضابطگیوں، جیسے سوالیہ پرچوں کا افشا ہونا، کسی دوسرے شخص کی جگہ امتحان دینا اور منظم نقل کی روک تھام کے لیے قانونی نظام مزید مضبوط ہوگا، جبکہ تیز رفتار تحقیقات، فوری سماعت اور اپیلوں کے بر وقت تصفیے کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ ایسے جرائم کے خلاف مؤثر انسدادی نظام قائم کرنے اور بر وقت انصاف کی فراہمی کے ذریعے یہ ترمیمی بل عوامی امتحانات کی سالمیت، غیر جانبداری اور شفافیت کو برقرار رکھنے، مستحق اور باصلاحیت امیدواروں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور ملک کے عوامی امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو مزید مستحکم بنانے کا خواہاں ہے۔


*********
ش ح۔ ف ش ع
U: 699
(रिलीज़ आईडी: 2290129)
आगंतुक पटल : 14