وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام 2026 کے شرکاء کے قابل ستائش کام کی تعریف کی


تنہا سفر دنیا کو دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو جاننے کا بھی ایک ذریعہ ہے: وزیر اعظم

ملک کے ہر نوجوان اور ہر بیٹی کو اعتماد اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے: وزیر اعظم

سرحدی گاؤں جغرافیائی لحاظ سے اگرچہ دور ہیں، لیکن وہاں کے باشندے جذباتی طور پر قوم سے گہرا تعلق رکھتے ہیں: وزیر اعظم

جو پہلے ترجیحات میں سب سے آخر میں تھے، اب وہ سب سے پہلے ہیں: وزیر اعظم

نوجوان شرکاء کا سفر ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے: وزیر اعظم

شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سفری بجٹ کا کم از کم پانچ فیصد مقامی مصنوعات کی خریداری پر خرچ کریں: وزیراعظم

प्रविष्टि तिथि: 26 JUL 2026 10:27PM by PIB Delhi

آج وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے وکست وائبریَنٹ ولیج پروگرام 2026 کے شرکاء سے ورچوئل ذریعے سے گفتگو کی، جس کے دوران مائی بھارت کے نوجوان رضاکاروں نے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور لداخ کے سرحدی گاؤں میں اپنے تجربات بیان کیے۔ اس گفتگو میں بہتر بنیادی ڈھانچے، رابطہ سہولیات اور عوامی خدمات کے ذریعے ان گاؤں میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کیا گیا، ساتھ ہی خواتین کی قیادت میں ترقی، سیاحت، کمیونٹی کی شمولیت اور قومی یکجہتی کے فروغ پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ملک بھر کے 245 اضلاع سے 5,000 سے زائد مائی بھارت رضاکار اس پروگرام میں ورچوئل طور پر شریک ہوئے۔

پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو سے تعلق رکھنے والے مائی بھارت رضاکار جناب دیویانش جوشی نے وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ، وکست بھارت یوتھ پارلیمنٹ، بجٹ ٹوئسٹ، رہنمائی اور رضاکارانہ پروگراموں سمیت مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مائی بھارت کے اقدامات سے اب تک 2.30 کروڑ سے زائد نوجوان مستفید ہو چکے ہیں، جبکہ ملک گیر کوئز مقابلے میں 2.86 لاکھ نوجوانوں نے حصہ لیا، جن میں سے 403 رضاکاروں کا انتخاب سرحدی گاؤں کے دورے کے لیے کیا گیا۔

انہوں نے ہماچل پردیش کے ضلع کنور کے لیوو گاؤں کے اپنے دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں انہوں نے مقامی باشندوں، بزرگوں اور اسکول کے بچوں سے ملاقات کی، نوجوانوں کو کیریئر سے متعلق رہنمائی فراہم کی، کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، خاتون سرپنچ کی قیادت کو قریب سے دیکھا اور آیوشمان آروگیہ مندر کے کام کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہوم اسٹے کے تجربے نے انہیں یہ احساس دلایا کہ اپنائیت زبان اور ریاستی سرحدوں سے بالاتر ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رضاکاروں نے کارگل وار میموریل پر ملک کے بہادر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور اپنے تجربات کو مرتب کر کے وزیر اعظم کو پیش کریں گے، جبکہ وہ وکست بھارت کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم رہیں گے۔

دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو سے تعلق رکھنے والی مائی بھارت رضاکار محترمہ نکیتا پروین سولنکی نے کہا کہ مائی بھارت کوئز کے ذریعے منتخب ہونے کے بعد انہیں پہلی بار اکیلے سفر کرنے کا موقع ملا، جس کے تحت انہوں نے ضلع کنور کے دھر چانگو نچلا گاؤں کا دورہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گاؤں  کے لوگوں کی پُرخلوص مہمان نوازی نے ان کے اعتماد میں اضافہ کیا اور خواتین کے بارے میں معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی کی عکاسی کی۔خاتون پردھان، پنچایت نمائندوں، کسانوں، بزرگوں اور بچوں سے ملاقاتوں کے دوران انہوں نے دیہی خواتین کی متعدد ذمہ داریوں کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سابقہ تصور کے برعکس وہاں معیاری سڑکیں، باقاعدہ بجلی، پینے کے پانی کے کنکشن اور ڈیجیٹل رابطے کی سہولیات موجود تھیں، جن کا مقامی لوگوں نے پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، جل جیون مشن اور آیوشمان بھارت سے منسوب کیا۔ انہوں نے صفائی، کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا، گاؤں کے بچوں کی اپنے آبائی علاقے کے بارے میں دلچسپی کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ اب بھی اپنے میزبان خاندان سے رابطے میں ہیں۔

 سال 2016 میں چانگو خطے کے اپنے دیوالی دورے کو یاد کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ محترمہ سولنکی کا سفر بھارت کی بیٹیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے اور مائی بھارت نے انفرادی سفر کو ایک قومی خاندان میں بدل دیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ’’تنہا سفر دنیا کو دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو جاننے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔‘‘

مائی بھارت کے رضاکار جناب سنیل کمار کیلا، جو راجستھان کے ضلع جالور سے تعلق رکھتے ہیں، نے بتایا کہ چونکہ وہ خود بھی ایک سرحدی گاؤں سے ہیں، اس لیے ہماچل پردیش کے دھار چانگو اُپریلا گاؤں کے لوگوں سے ان کا فوری تعلق قائم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی اور موسم کا فرق  ہونے کے باوجود دونوں علاقوں کے لوگ بہادری، حب الوطنی اور خلوص کے جذبے میں یکساں ہیں۔ وہ ویڈیو کالز کے ذریعے اپنے اہل خانہ سے رابطے میں رہے اور انہیں دریائے ستلج، اسکول، جن اوشدھی کیندر، اسپتال اور کھیلوں کی سہولیات کا دورہ کرایا، جبکہ سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹس نے ان کے دوستوں کو مائی بھارت سے جڑنے کی ترغیب دی۔

انہوں نے بتایا کہ سڑکوں، رہائش، بجلی اور موبائل رابطے کے حوالے سے ان کے ابتدائی خدشات اس وقت دور ہو گئے جب انہوں نے ہوم اسٹے تک معیاری سڑکیں، شمسی توانائی کے نظام اور بہتر بنیادی ڈھانچہ دیکھا، جس نے روزمرہ زندگی کو نمایاں طور پر بدل دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آج بھی اپنے میزبان خاندان سے رابطے میں ہیں اور انہیں راجستھان آنے کی دعوت بھی دے چکے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ راجستھان، کشمیر، ہماچل پردیش اور شمال مشرق کے سرحدی علاقوں کے نوجوانوں کی سوچ میں ایک مشترکہ جذبہ پایا جاتا ہے اور سرحدی علاقوں کے باشندے اگرچہ جغرافیائی لحاظ سے دور ہیں، لیکن جذباتی طور پر قوم سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو پہلے ترجیحات میں سب سے آخر میں تھے، اب وہ سب سے پہلے ہیں۔‘‘

مائی بھارت کی رضاکار محترمہ بھاویا شری، جو آندھرا پردیش کے ضلع چتور سے تعلق رکھتی ہیں، نے بتایا کہ نصابی تعلیم سے آگے سیکھنے کی خواہش انہیں مائی بھارت کے ذریعے اتراکھنڈ کے ضلع اترا کاشی کی ہرشِل وادی تک لے گئی۔ انہوں نے کہا کہ نامانوس موسم، خوراک، ثقافت اور طرزِ زندگی کے بارے میں ان کے ابتدائی خدشات مقامی لوگوں اور حکام کی مہمان نوازی سے دور ہو گئے، جبکہ ہندو۔تبتی بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے اہلکاروں سے ملاقاتوں نے ان کے نظم و ضبط، انکساری، لگن اور حب الوطنی کے جذبے کے لیے ان کے احترام میں مزید اضافہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں، زبانوں اور ثقافتوں سے آنے والے شرکاء اجنبی بن کر آئے تھے، لیکن ایک خاندان بن کر واپس لوٹے، جو ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیلانگ اور جادونگ وادیوں اور سیب کے باغات کی تصاویر نے ان کے دوستو میں خاصی دلچسپی پیدا کی، جس کے بعد ان میں سے بہت سے افراد نے مائی بھارت میں اندراج کرایا۔انہوں نے سرد موسم سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے فراہم کیے گئے آلات کا بھی ذکر کیا، ایک ایسے مقامی باشندے کی ثابت قدمی کو یاد کیا جس نے مشکلات کے باوجود لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ اپنے آبائی گاؤں کو نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، اور کہا کہ گڑھوالی رقص کا پُرسکون اور مراقبہ نما انداز ان کی ریاست کے پُرجوش لوک رقصوں سے بالکل مختلف تھا۔

اتراکھنڈ کے مکھوا گاؤں کے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس گفتگو نے ان کے اس یقین کو مزید مضبوط کیا ہے کہ بھارت کے نوجوان  ملک کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’آپ سب نے جس انداز میں ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے کو عملی شکل دی ہے، وہ مزید بہت سے نوجوانوں کے لیے باعثِ تحریک بنے گا۔‘‘

اکیس سالہ مائی بھارت رضاکار محترمہ سائنتیکا مستری، جو انڈمان و نکوبار جزائر سے تعلق رکھتی ہیں، نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مائی بھارت کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جہاں کروڑوں نوجوان قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے سطحِ سمندر سے تقریباً 17,000 فٹ بلند لداخ کے مان گاؤں تک اپنے سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں شدید بلندی کی بیماری کا سامنا کرنا پڑا، لیکن مائی بھارت کی ٹیم اور آئی ٹی بی پی کے اہلکاروں، خصوصاً ڈاکٹروں نے ان کی بھرپور دیکھ بھال کی اور اپنے اہلکاروں سے پہلے انہیں مہمان سمجھ کر علاج فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے انہیں احساس ہوا کہ آئی ٹی بی پی کے اہلکار نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ شہریوں کی بھی دل سے دیکھ بھال کرتے ہیں، اور اس سے انہیں بلند پہاڑی علاقوں میں زندگی گزارنے کے لیے درکار حوصلے اور ثابت قدمی کی قدر کا اندازہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کو توقع تھی کہ سرحدی علاقے میں رابطے کی سہولیات کمزور ہوں گی، لیکن وہاں انہیں قابلِ اعتماد انٹرنیٹ،  کیو آر کوڈ، یو پی آئی ادائیگی کی سہولت اور وائی فائی دستیاب ملا۔ انہوں نے مقامی بچوں سے بھی ملاقات کی، جن میں سے ایک بچے نے انڈمان و نکوبار جزائر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے اس اجتماعی جذبے کو بھی سراہا جس کے تحت مقامی باشندوں نے مل کر شادیوں اور خانقاہ کی تقریبات کا انتظام کیا، خراب موبائل ٹاور کی مرمت کی اور اس کی بیٹریوں  کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایک جگہ کی  بھی تعمیر کی۔

محترمہ مستری کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اپنے تجربات کو مضامین یا کتاب کی صورت میں قلم بند کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی ملک کی وسعت، اس کے لوگوں اور مشترکہ احساسِ وابستگی کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’جب آپ خوشی بانٹتے ہیں تو وہ کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔‘‘

مائی بھارت کے رضاکار جناب آشیش سونی، جو اتر پردیش کے ضلع جون پور سے تعلق رکھتے ہیں اور سول سروسز کے امتحان کی تیاری کر رہے ہیں، نے وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے نوجوانوں کو بجٹ سازی کے عمل میں اپنی تجاویز پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔انہوں نے ہماچل پردیش کے اسپیتی خطے کے کازا خاص میں اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین، جنہیں وہ زمانہ یاد تھا جب دور دراز علاقوں میں موبائل رابطہ ممکن نہیں ہوتا تھا، تقریباً 14,000 فٹ کی بلندی سے ان کی ویڈیو کال وصول کر کے حیران رہ گئے۔انہوں نے مائی بھارت کو ایک ایسے پل سے تشبیہ دی جو ایک ایسی نسل کو، جس نے مشکلات کا دور دیکھا، اس نسل سے جوڑتا ہے جو آج تبدیلی کا مشاہدہ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ہِکّم میں واقع دنیا کے بلند ترین ڈاک خانے سے وزیر اعظم، اپنے اہلِ خانہ، وزارتِ امورِ نوجوانان، وزیرِ دفاع اور اپنے ضلع مجسٹریٹ کو خطوط بھی لکھے۔انہوں نے کہا کہ بھارت صرف میٹرو اور ہوائی اڈوں کے ذریعے ہی نہیں بلکہ ان اداروں کے ذریعے بھی جڑا ہوا ہے جو دور افتادہ علاقوں تک خدمات پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے تقریباً 14,500 فٹ کی بلندی پر  کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ ڈیجیٹل انڈیا پورے ملک میں اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔خواتین کے  اپنی مدد آپ گروپوں سے ملاقاتوں کے دوران انہیں ہوم اسٹے، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سی بَک تھورن سے تیار کردہ مصنوعات کے ذریعے کاروباری مواقع کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں، جبکہ پردھان منتری مدرا یوجنا اور دین دیال انتودیہ یوجنا پر ہونے والی گفتگو میں روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دی گئی۔انہوں نے بارڈر روڈز آرگنائزیشن کی تعمیر کردہ چچم پل کے کردار کو بھی سراہا، جس نے رابطہ، سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا، اور ساتھ ہی اس خطے میں نائٹ ٹورازم کی صلاحیت کا بھی ذکر کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکنالوجی ملک کے ہر کونے تک پہنچ چکی ہے اور مقامی مصنوعات کی خریداری سے روزگار پیدا ہوگا، لوگوں کے ذریعۂ معاش کو تقویت ملے گی اور مختلف علاقوں کی شناخت پورے ملک تک پہنچے گی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’آپ جہاں بھی سفر کریں، اپنے سفری بجٹ کا کم از کم پانچ فیصد مقامی لوگوں کی مصنوعات خریدنے پر ضرور خرچ کریں۔‘‘

گفتگو کے اختتام پر وزیر اعظم نے تمام نوجوان شرکاء کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس پروگرام نے اس بات کو اجاگر کیا کہ مائی بھارت نوجوانوں کو بھارت کے سرحدی گاؤں میں ہونے والی ترقی کو قریب سے دیکھنے، پرانے تصورات کو بدلنے، اور ملک کی ثقافتی تنوع، ترقیاتی سفر، عوامی شمولیت اور ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے جذبے کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

********

ش ح۔  ع و۔ ش ب ن

U-NO-631


(रिलीज़ आईडी: 2289774) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Malayalam