ریلوے کی وزارت
بھارتی ریلوے نے نمپورہ مغربی آؤٹر کیبن سے مدناپور تک تیسری ریلوے لائن بچھانے کے لئے 440 کروڑ روپے کےمنصوبےکومنظوری دی
اس14.52 کلومیٹر طویل تیسری ریلوے لائن کا مقصد انتہائی مصروف ریلوے روٹ پر مسافروں اور مال برداری کی نقل و حمل کو مزید مؤثر اور تیز بنانا ہے
یہ منصوبہ سالانہ مزید 3.52 ملین میٹرک ٹن مال برداری کی صلاحیت پیدا کرے گا اور کوئلہ، لوہے کی کان سے حاصل ہونے والی معدنیات، فولاد، سیمنٹ اور دیگر ضروری اشیاء کی نقل و حمل کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگا
प्रविष्टि तिथि:
23 JUL 2026 12:05PM by PIB Delhi
ملک کے اہم مال برداری راہداریوں میں سے ایک پر ریلوے کی گنجائش میں اضافے کی سمت ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے بھارتی ریلوے نے جنوب مشرقی ریلوے کے نمپورہ ویسٹ آؤٹر کیبن اور مدناپور کے درمیان 14.52 کلومیٹر طویل تیسری ریلوے لائن کی تعمیر کو 440 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دے دی ہے۔
یہ منصوبہ بھارتی ریلوے کی ان مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد زیادہ مصروف ریلوے روٹس پر نیٹ ورک کی استعداد میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ مسافر اور مال بردار ٹرینوں کی تیز اور ہموار آمدورفت کو یقینی بنایا جا سکے، نیز صنعتوں اور ضروری اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی نقل و حمل کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
نمپورہ ویسٹ آؤٹر کیبن اور مدناپور کے درمیان تیسری ریلوے لائن
منظور شدہ منصوبے کے تحت جنوب مشرقی ریلوے کے نمپورہ ویسٹ آؤٹر کیبن اور مدناپور کے درمیان 14.52 کلومیٹر طویل تیسری ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی۔
یہ سیکشن ہائی یوٹیلائزیشن نیٹ ورک (ایچ یو این -2) روٹ کا حصہ ہے۔ اس روٹ پر نمپورہ ویسٹ آؤٹر کیبن-گوکل پور سیکشن فی الحال سنگل لائن پر مشتمل ہے، جبکہ اس کے ڈبل لائن میں تبدیل کرنے کا کام پہلے ہی جاری ہے۔ اضافی تیسری ریلوے لائن کی تعمیر سے اس روٹ کی گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا اور اس تزویراتی لحاظ سے اہم راہداری پر ٹرینوں کی آمدورفت کو زیادہ مؤثر، پائیدار اور ہموار بنانے میں مدد ملے گی۔
مال برداری کی استعداد اور مسافر ٹرینوں کی آمدورفت کو فروغ ملے گا
یہ ریلوے روٹ مسافروں کے ساتھ ساتھ مال برداری کے لیے بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے مینگنیز، آہنی خام (آئرن اور)، کنٹینرز، کوئلہ، کلنکر، آئرن پیلیٹس، لوہا اور فولاد، گندم، پتھر، ریلوے سلیپر، سلیگ، نمک، چاول، پٹرولیم مصنوعات، چونا پتھر، جپسم، کھاد، خوردنی تیل، کیمیائی نمک، چارکول، سیمنٹ، بجری اور راکھ سمیت متعدد اہم اشیاء کی نقل و حمل کی جاتی ہے۔ اس روٹ پر سالانہ تقریباً 23.80 ملین میٹرک ٹن مال برداری ہوتی ہے۔
اس وقت یہ سیکشن اپنی 115.71 فیصد صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے، جو شدید بھیڑ اور گنجائش کی کمی کی عکاسی کرتا ہے۔ تیسری ریلوے لائن کی تعمیر سے بڑھتی ہوئی مسافر اور مال بردار ٹریفک کے لیے اضافی گنجائش فراہم ہوگی، جبکہ پورے کوریڈور میں آپریشنل کارکردگی، ٹرینوں کی روانی اور نقل و حمل کی مجموعی استعداد میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
ریلوے کی استعداد میں اضافہ، معاشی ترقی کو استحکام
منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اس سے سالانہ 35 لاکھ میٹرک ٹن (3.5 ملین میٹرک ٹن) اضافی مال برداری کی سہولت فراہم ہونے کی توقع ہے۔ بہتر ریلوے بنیادی ڈھانچہ ضروری اشیاء کی نقل و حمل کو مزید مؤثر بنائے گا، آپریشنل رکاوٹوں میں کمی لائے گا، ریلوے نیٹ ورک کی قابلِ اعتمادیت میں اضافہ کرے گا اور اس اہم ریلوے راہداری پر انحصار کرنے والی صنعتوں اور کاروباری اداروں کے لیے رابطے کو مزید مضبوط بنائے گا۔
یہ منظوری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارتی ریلوے زیادہ مصروف ریلوے روٹس پر استعداد میں اضافے کو مسلسل ترجیح دے رہی ہے، تاکہ مسافروں اور مال برداری کی تیز، ہموار اور مؤثر نقل و حمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی جدید، مؤثر اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی کو بھی فروغ دیا جا سکے۔
***********
ش ح۔ع و ۔ ر ض
(U: 427)
(रिलीज़ आईडी: 2288341)
आगंतुक पटल : 10