وزارت دفاع
وزیرِ دفاع نے پہلی تینوں افواج کی پوری طرح خواتین پر مشتمل پوری دنیا کے گرد جہاز رانی کی مہم کو جھنڈی دکھاکر روانہ کیا
نو خواتین افسران تقریبا 25,500 ناٹیکل میل کا سفر چار سمندروں میں طے کرنے کے بعد 314 دن کے کام یاب سفر کے بعد وطن واپس آئیں
’سمدرا پردکشنا‘ نے نئے بھارت کے عزم، ناری شکتی اور تینوں افواج کی مشترکہ صلاحیت کی عکاسی کی: جناب راجناتھ سنگھ
”آئی اے ایس وی تریوینی بھارت کی انجینئرنگ کی مہارت، مقامی صلاحیت اور اسٹریٹجک اعتماد کا ثبوت ہے“
प्रविष्टि तिथि:
22 JUL 2026 4:23PM by PIB Delhi
وزیرِ دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے 22 جولائی 2026 کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ’سمدرا پردکشنا‘، جو پہلی تینوں فوجوں کی مکمل خواتین کی دنیا کے گرد جہاز رانی کی مہم ہے، کو جھنڈی دکھاکر روانہ کیا۔ انڈین آرمی سیلنگ وہیکل (آئی اے ایس وی) تریوینی پر سوار، تینوں افواج کی نو خواتین افسران نے چار سمندروں میں تقریبا 25,500 ناٹیکل میل کا سفر طے کرنے کے بعد 314 دن کے کام یاب سفر کو مکمل کر کے ممبئی واپس پہنچیں۔ اس مہم کو جناب راجناتھ سنگھ نے 11 ستمبر 2025 کو ممبئی سے ورچوئلی جھنڈی دکھاکر روانہ کیا تھا۔


اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، وزیرِ دفاع نے مہم کی کام یاب تکمیل کو بھارت کی ناری شکتی کا ثبوت، قوم کے عزم کا مظہر، تینوں فوجوں کے ہم آہنگی اور مشترکہ صلاحیت کے ثبوت، اور ایک ایسے ’نئے بھارت‘ کا جشن قرار دیا جو تاریخ رقم کرنے کے لیے چیلنجوں پر قابو پاتا ہے۔
مشن کی کام یابی کو باریک بینی سے منصوبہ بندی، تقریبا دو سال کی سخت تربیت، ایک وقف شدہ 24X7 زمینی معاون نیٹ ورک اور متعدد تنظیموں اور معاون ایجنسیوں کے اٹل عزم کے ذریعے ممکن بنایا گیا۔ اس مہم نے تمام طول البلد کو عبور کرنے، خط استوا کو دو بار عبور کرنے، بین الاقوامی خط تاریخ کو عبور کرنے اور تین عظیم کیپوں - کیپ لیووین، کیپ ہارن اور کیپ آف گڈ ہوپ کا چکر لگانے کے تمام بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیارات کو کام یابی سے مکمل کیا۔

مشکل ڈریک پاس سے گزرنے اور کیپ ہارن کا چکر لگانے سے عملے کو کیپ ہارنرز کی معزز برادری کی رکنیت حاصل ہوئی، جو دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب سمندری راستوں میں سے ایک کو فتح کرنے والے ملاحوں کے لیے مخصوص اعزاز ہے۔ آئی اے ایس وی تریوینی کے عملے کی ہمت، جذبے اور عزم کی تعریف کرتے ہوئے، جناب راجناتھ سنگھ نے کہا کہ اس مہم نے ثابت کیا ہے کہ انسانی ہمت کسی بھی طوفان سے کہیں زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا، ”سمندر کی لہریں اونچی اٹھ سکتی ہیں، لیکن بھارت کی بیٹیوں کا جذبہ اس سے بھی اونچا اڑتا ہے“، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج ملک کی خواتین مواقع پیدا کر رہی ہیں، آگے سے قیادت کر رہی ہیں، اور تاریخ کی کتابوں میں اپنے نام لکھ رہی ہیں۔

اس مہم نے فوج، بحریہ اور فضائیہ کے افسران کو ایک مشن پر یکجا کیا، جس نے مربوط منصوبہ بندی، ہم وار باہمی عمل اور مشترکہ قیادت کی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ دس ماہ سے زیادہ عرصے تک ایک ساتھ رہ کر، تربیت حاصل کر کے اور کشتی رانی کر کے، عملے نے ایک مربوط ٹیم کے طور پر کام کیا، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ مشترکہ صلاحیت محض ایک تنظیمی تصور نہیں بلکہ ایک طاقت کا ضرب ہے جو آپریشنل تاثیر اور قومی صلاحیت کو بڑھاتی ہے۔

وزیرِ دفاع نے زور دیا کہ ’سمدرا پردکشنا‘ کو صرف ایک سمندری مہم کے طور پر ہی یاد نہیں رکھا جائے گا، بلکہ ایک ایسی مہم کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں تینوں افواج کی خواتین افسران ایک پرچم، ایک عزم اور ایک مقصد کے تحت متحد ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت کی طاقت اس کی اتحاد میں ہے۔ انھوں نے کہا، ”ایسے وقت میں جب دنیا مشترکہ آپریشنز، مربوط کمانڈز اور ملٹی ڈومین جنگ پر بحث کر رہی ہے، آئی اے ایس وی تریوینی نے مشترکہ صلاحیت کی اہمیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جب ہم آہنگی ہوتی ہے تو صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ جب تینوں افواج مل کر چلتی ہیں تو فتح اپنی راہ خود ہم وار کرتی ہے۔“
اس کی قابلِ ذکر سمندری کام یابی سے آگے، ’سمدرا پردکشنا‘ فوجی سفارت کاری کے ایک اہم آلے کے طور پر ابھری۔ دنیا بھر میں بندرگاہوں پر قیام کے دوران، آئی اے ایس وی تریوینی نے بھارت کے بھرپور ثقافتی ورثے، سمندری روایات، فوجی پیشہ ورانہ مہارت اور پائیدار اقدار کا مظاہرہ کیا، جب کہ دوستانہ ممالک کے ساتھ نیک نیتی کو فروغ دیا۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ یہ مہم محض ایک کشتی رانی کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ بھارت کے تیرتے ہوئے سفیر کے طور پر کام کیا، اور یہ کہ مختلف ممالک میں بندرگاہوں پر قیام نے قوم کی ’نرم طاقت‘ کو مضبوط کیا ہے۔
جناب راجناتھ سنگھ نے آئی اے ایس وی تریوینی کو ’آتمِ نربھر بھارت‘ کا مظہر قرار دیا کیوں کہ مقامی طور پر تعمیر شدہ 50 فٹ کی یہ کشتی بھارت کی تکنیکی مہارت، جدت طرازی اور خود اعتمادی کا مظاہرہ کر چکی ہے۔ انھوں نے بیان کیا کہ ”یہ کشتی بھارت کی انجینئرنگ کی مہارت، مقامی صلاحیت اور اسٹریٹجک اعتماد کا ثبوت ہے۔“

چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجہ سبرا منی، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن، چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل دھیراج سیٹھ، وائس چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر مارشل آشوتوش دِکسِت، ڈائریکٹر جنرل انٹیگریٹڈ ٹریننگ لیفٹیننٹ جنرل اجے رام دیو، اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ارجنٹائن اور جنوبی افریقہ کے دفاعی مندوبین نے نئی دہلی کے کرتویہ بھون-2 سے وزیرِ دفاع کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کی۔
جنرل آفیسر کمانڈنگ-ان-چیف، سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل راجیش پشکر، ایئر آفیسر کمانڈنگ-ان-چیف، ساؤتھ ویسٹرن ایئر کمانڈ ایئر مارشل پی وی شِوانند، ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل وپل سنگھال، چیف آف اسٹاف، ویسٹرن نیول کمانڈ وائس ایڈمرل راہل ولاس گوکھلے، دیگر فوجی معززین، سابق فوجی اور عملے کے اہلِ خانہ نے گیٹ وے آف انڈیا پر عملے کی وطن واپسی پر استقبال کے لیے جمع ہوئے۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 365
(रिलीज़ आईडी: 2287833)
आगंतुक पटल : 9