ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ریلوے برقی کاری کے میدان میں ہندوستان دنیا میں سرفہرست رہا ،99.6 فیصد براڈ گیج نیٹ ورک کی برقی کاری کی جاچکی ہے اور اس معاملے میں وہ سوئٹزرلینڈ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے


محکمۂ ریلوے کے ٹرینوں کے چلانے کے نظام میں ڈیزل کی کھپت16- 2015میں 293 کروڑ لیٹر کے مقابلے کم ہو کر25- 2024میں 108 کروڑ لیٹر رہ گئی، جس سے زرمبادلہ کی بچت اور کاربن اخراج میں کمی ہوئی

بھارتی ریلوے کی برقی کاری مہم ماحول کے لیے ساز گارنقل و حمل کے ذریعے کوفروغ دے رہی ہے،ریل ٹرانسپورٹ میں سڑک ٹرانسپورٹ کے مقابلے تقریباً 89 فیصد کم کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا ہے

کم کاربن اخراج والے طریقوں کو فروغ دینے کے لیے بھارتی ریلوے میں 1,260 میگاواٹ سے زائد شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کی جاچکی ہے

प्रविष्टि तिथि: 22 JUL 2026 1:01PM by PIB Delhi

بھارتی ریلوے میں ریلوے نیٹ ورک کی برقی کاری مشن موڈ میں شروع کی گئی ہے۔ اب تک براڈ گیج ( بی جی) نیٹ ورک کے تقریباً 99.6 فیصد حصے کی برقی کاری مکمل کی جا چکی ہے۔ باقی ماندہ نیٹ ورک میں برقی کاری کا کام جاری ہے۔ 2014 سے 2026 کے دوران اور 2014 سے پہلے کی گئی برقی کاری کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

مدت

روٹ کلومیٹر

2014 سے پہلے (تقریباً 60 سال)

21,801

2014سے26

48,072

  اس کے علاوہ تمام نئے لائن/ملٹی ٹریکنگ پروجیکٹوں کو منظوری دی جا رہی ہے اور بجلی کاری کے ساتھ اس کی تعمیر کی جا رہی ہے۔

بھارتی ریلوے (آئی آر) نے دنیا کے تیز ترین ریلوے برقی کاری پروگراموں میں سے ایک کو انجام دیا ہے، جہاں بہت سے ممالک صرف مصروف ترین مسافر اور مال بردار ریلوے راستوں کو برقی بنانے کو ترجیح دیتے ہیں، وہیں بھارت نے اپنے مکمل براڈ گیج نیٹ ورک کو برقی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی ریلوے کی برقی کاری میں کامیابی عالمی سطح پر نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ جون 2025 میں انٹرنیشنل یونین آف ریلویز (یو آئی سی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اہم ریلوے نظاموں میں برقی کاری کی صورتحال درج ذیل ہے:

ملک

ریلوےکی برقی کاری

سوئٹزرلینڈ

100فیصد

بھارت

99.6فیصد

چین

82فیصد

اسپین

67فیصد

جاپان

64فیصد

فرانس

60فیصد

برطانیہ

39فیصد

 

نیٹ ورک کوریج کے لحاظ سے، بھارتی ریلوے اب دنیا کے ان بڑے ریلوے سسٹمز میں شامل ہو چکی ہے جہاں سب سے زیادہ برقی کاری مکمل کی جا چکی ہے۔ بھارتی ریلوے نے اپنے براڈ گیج نیٹ ورک کے 99.6 فیصد حصے کی برقی کاری مکمل کر لی ہے، جو کہ ایک دہائی میں انفراسٹرکچر کی تبدیلی کا دنیا کے سب سے بڑے پروگراموں میں سے ایک ہے۔

بجلی پر مبنی ٹرینوں کے آمد ورفت کا نظام نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ توانائی کے لحاظ سے بھی انتہائی موثر ہے۔ سڑک کے مقابلے میں ریلوے کے ذریعے نقل و حمل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ  کے اخراج میں کمی کی تفصیلات درج ذیل ہیں (حوالہ:- نیتی آیوگ کی رپورٹ بعنوان ’فاسٹ ٹریکنگ فریٹ ان انڈیا‘، جون 2021):

 

نقل و حمل کا طریقہ

ایک ٹن مال کے ایک کلو میٹرنقل و حمل کے لیے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج

سڑک

101 گرام

ریل

11.5 گرام (تقریباً 89 فیصد کم)

اس کے علاوہ ریلوے ٹریکس کی برقی کاری سے فوسل فیول پر انحصار کم ہوتا ہے اور ڈیزل کی کھپت میں کمی کے نتیجے میں کاربن کا اخراج گھٹ جاتا ہے۔ برقی کاری سے مال ڈھلائی کی صلاحیت  بہتر ہوتی ہے اور رفتار میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے سفر کے وقت میں کمی اور کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

بھارتی ریلوے کی جانب سے ٹرینیں چلانے  کے لیے ڈیزل کی کھپت میں 185 کروڑ لیٹر کی نمایاں کمی آئی ہے۔ سال 16-2015 میں ڈیزل کی کھپت 293 کروڑ لیٹر تھی جو کہ 25-2024 میں کم ہو کر تقریباً 108 کروڑ لیٹر رہ گئی۔ اس کے نتیجے میں حکومت ہند کے قومی خزانے کے اس قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوئی ہے، جو بصورت دیگر ایندھن کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے۔

 

برقی ریلوے نظام شمسی توانائی ، ہوا سے حاصل ہونے والی  توانائی اور دیگر قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو اپنے  بجلی کے نظام میں شامل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ، جو اسے قابل تجدید بجلی کے استعمال کے لیے سب سے موثر نقل و حمل کا نظام بناتا ہے۔ بھارتی ریلوے توانائی کی حکمت عملی کے منصوبہ بندی کے تحت قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال اور تقریباً تمام ریلوے نیٹ ورک کی برقی کاری کے ذریعے پائیدار طریقوں کے لیے پرعزم ہے، جس سے کاربن کے اثرات کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

بھارتی ریلوے کا مقصد شمسی توانائی، ہواسے حاصل ہونے والی توانائی اور ہائبرڈ سسٹمز (شمسی، ہواپر مبنی اور توانائی ذخیرہ کرنے والے نظام) سمیت قابل تجدید توانائی کے ذرائع سے اپنی الیکٹرک پر مبنی توانائی کی ضروریات کو بتدریج پورا کرنا ہے تاکہ کاربن کے اخراج کو مزید کم کیا جا سکے۔ جون 2026 تک تقریباً 1161 میگاواٹ (ایم ڈبلیو) کے سولر پاور پلانٹس (چھتوں اور زمین دونوں پر) اور تقریباً 103 میگاواٹ کے ونڈ پاور پلانٹس فعال کیے جا چکے ہیں۔

مشن 100فیصد برقی کاری ایک انتہائی چیلنجنگ پروجیکٹ ہے، کیونکہ اس میں ان ریلوے لائنوں کی برقی کاری شامل ہے جو پہلے سے زیراستعمال ہیں اور کام کے دوران غیر متوقع مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ریلوے کی برقی کاری کے کام کو تیز کرنے کے لیے بھارتی ریلوے کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں جن میں پروجیکٹ مانیٹرنگ گروپ ( پی ایم جی) پورٹل کا قیام،تاکہ کام کےدوران  درپیش رکاوٹوں کو حل کیا جا سکے، موثر پروجیکٹ  کی نگرانی کا نظام ، فنڈز کی یقینی فراہمی اور فیلڈ یونٹس کو زیادہ مالی اختیارات کی تفویض شامل ہیں۔

زون کے لحاظ  سے برقی کاری کی صورتحال درج ذیل ہے:

نمبر شمار

زون

برقی کاری کا فیصد

1

وسطی ریلوے

100فیصد

2

مشرقی ساحلی ریلوے

100فیصد

3

مشرقی وسطی ریلوے

100فیصد

4

مشرقی  ریلوے

100فیصد

5

کونکن ریلوے

100فیصد

6

کولکاتا میٹرو

100فیصد

7

شمال وسطی ریلوے

100فیصد

8

شمال مشرقی ریلوے

100فیصد

9

شمالی ریلوے

100فیصد

10

جنوب وسطی ریلوے

100فیصد

11

جنوبی ساحلی ریلوے

100فیصد

12

جنوب مشرقی وسطی ریلوے

100فیصد

13

جنوب مشرقی ریلوے

100فیصد

14

مغربی وسطی  ریلوے

100فیصد

15

مغربی ریلوے

100فیصد

16

شمال مغربی ریلوے

99.8فیصد

17

شمال مشرقی سرحدی ریلوے

98.7فیصد

18

جنوبی ریلوے

98.7فیصد

19

جنوب مغربی ریلوے

96.1فیصد

 

بہار ، اتر پردیش ، آندھرا پردیش اور مدھیہ پردیش سمیت بجلی کاری کی ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے صورتحال درج ذیل ہے:

نمبر شمار

ریاست

برقی کاری کا فیصد

نمبر شمار

ریاست

برقی کاری کا فیصد

1

آندھرا پردیش

100فیصد

16

میزورم

100فیصد

2

اروناچل پردیش

100فیصد

17

ناگالینڈ

100فیصد

3

بہار

100فیصد

18

اڈیشہ

100فیصد

4

چنڈی گڑھ

100فیصد

19

پڈوچیری

100فیصد

5

چھتیس گڑھ

100فیصد

20

پنجاب

100فیصد

6

دہلی

100فیصد

21

تلنگانہ

100فیصد

7

گجرات

100فیصد

22

تریپورہ

100فیصد

8

ہریانہ

100فیصد

23

اتر پردیش

100فیصد

9

ہماچل پردیش

100فیصد

24

اتراکھنڈ

100فیصد

10

جموں و کشمیر

100فیصد

25

مغربی بنگال

100فیصد

11

جھارکھنڈ

100فیصد

26

راجستھان

99.8فیصد

12

کیرالہ

100فیصد

27

تمل ناڈو

98.3فیصد

13

مدھیہ پردیش

100فیصد

28

آسام

97.9فیصد

14

مہاراشٹر

100فیصد

29

کرناٹک

96.8فیصد

15

میگھالیہ

100فیصد

30

گوا

91.4فیصد

یہ معلومات ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

 

*****

 

ش ح۔ م ش  ۔ ص ج

U. No-326

 


(रिलीज़ आईडी: 2287706) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Gujarati , English , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Kannada