کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈبلیو ٹی او میں ہندوستان کا 8واں ٹریڈ پالیسی جائزہ 21 اور 23 جولائی 2026 کو


کامرس سکریٹری جناب راجیش اگروال 8ویں ڈبلیو ٹی او ٹریڈ پالیسی ریویو کے لیے ہندوستانی وفد کی قیادت کریں گے

प्रविष्टि तिथि: 20 JUL 2026 7:13PM by PIB Delhi

عالمی تجارتی تنظیم(ڈبلیو ٹی او)  میں ہندوستان کے آٹھویں تجارتی پالیسی جائزے (ٹریڈ پالیسی ریویو- ٹی پی آر) کا اجلاس 21 اور 23 جولائی 2026 کو منعقد ہوگا۔ اس جائزے کے لیے ہندوستانی وفد کی قیادت تجارت سکریٹری جناب راجیش اگروال کریں گے۔

تجارتی پالیسی کا جائزہ دو بنیادی دستاویزات کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، جن میں زیرِ جائزہ رکن ملک کی جانب سے پیش کردہ پالیسی بیان (حکومتی رپورٹ) اور عالمی تجارتی تنظیم کے سیکریٹریٹ کی تیار کردہ رپورٹ شامل ہوتی ہے، جو تمام رکن ممالک میں تقسیم کی جاتی ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے تمام ارکان کا ان کے عالمی تجارت میں حصے کے تناسب سے مقررہ وقفوں پر جائزہ لیا جاتا ہے۔ ہندوستان کا تجارتی پالیسی جائزہ ہر پانچ سال بعد ہوتا ہے۔ آٹھواں جائزہ یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر 2025 تک کی مدت کا احاطہ کرتا ہے۔

ہندوستان کے تجارتی پالیسی جائزے کا عمل جون 2025 میں شروع ہوا تھا۔ اس چودہ ماہ کے عرصے کے دوران محکمۂ تجارت نے 100 سے زائد وزارتوں، محکموں اور اداروں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے اس عمل میں حصہ لیا۔

جائزے کی مدت کے دوران ہندوستان کی اقتصادی کارکردگی نے غیر معمولی مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ کووڈ-19 وبا کے باعث معاشی سست روی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود معیشت نے تیزی سے بحالی حاصل کی اور مسلسل بلند شرح نمو برقرار رکھتے ہوئے دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کی۔

مشکل عالمی حالات کے باوجود ہندوستان کی بیرونی تجارت بھی مستحکم رہی۔ مالی سال 2025-26 میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات 863.1 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں، جو مالی سال 2021-22 کے 676.5 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں 6.3 فیصد زیادہ ہیں۔

حکومت ہند کی رپورٹ اور عالمی تجارتی تنظیم کے سیکریٹریٹ کی رپورٹ میں جائزے کی مدت کے دوران ہندوستان کی متعدد کامیابیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں مختلف آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے ذریعے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعاون، اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے ڈھانچے کو آسان اور زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ٹیکس اصلاحات، نیز یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی) اور تجارت میں سہولت فراہم کرنے کے لیے دیگر ڈیجیٹل اقدامات شامل ہیں۔

20 جولائی 2026 تک عالمی تجارتی تنظیم کے رکن ممالک ہندوستان سے تحریری وضاحت طلب کرنے کے لیے 900 سے زائد سوالات جمع کرا چکے ہیں، جو ہندوستان کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اور تجارتی حیثیت میں عالمی دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان سوالات میں ڈیجیٹلائزیشن اور اس سے متعلق اصلاحات، بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (ایم ایس ایم ایز)، معیشت میں خواتین کی شمولیت، وکست بھارت اور آتم نربھر بھارت ابھیان جیسے موضوعات شامل ہیں۔

توقع ہے کہ جائزے کے دوران 40 سے زائد رکن ممالک اپنے بیانات پیش کریں گے۔ ہندوستانی وفد مختلف امور پر رکن ممالک کے سامنے ہندوستان کا مؤقف اور نقطۂ نظر پیش کرے گا، ساتھ ہی مستقبل کے لیے ہندوستان کے وژن سے بھی آگاہ کرے گا۔

تجارتی پالیسی کا جائزہ عالمی تجارتی تنظیم کے تحت شفافیت کو فروغ دینے کا ایک اہم طریقۂ کار ہے۔ اس کے تحت کسی بھی رکن ملک کی تجارتی پالیسیوں، سرحدی اور داخلی تجارتی اقدامات کا جامع جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، پیش بینی اور باہمی تفہیم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ جائزے ٹریڈ پالیسی ریویو باڈی (ٹی پی آر بی) کے تحت کیے جاتے ہیں، جس میں عالمی تجارتی تنظیم کے تمام رکن ممالک شامل ہوتے ہیں۔

************

ش ح۔ک ح ۔ م ا

 U. No.  205


(रिलीज़ आईडी: 2286794) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Punjabi , Tamil