وزارت خزانہ
حکومت اور آر بی آئی نے بہتر ریگولیٹری فریم ورکس اور صارفین کے تحفظ سے متعلق کارروائیوں کے ساتھ مالی تکنالوجی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کیا
اقدامات میں ڈی پی ڈی پی ایکٹ، اے آئی پر مبنی جعل سازی کا پتہ لگانے، قومی سائبر جرائم رپورٹنگ نظام کے ساتھ سائبر سلامتی کو مضبوط بنانا شامل ہے
प्रविष्टि तिथि:
20 JUL 2026 4:41PM by PIB Delhi
حکومت ملک میں ڈیجیٹل قرضہ دینے والے پلیٹ فارموں اور ادائیگیوں کو مربوط کرنے والے نظام سمیت فن ٹیک ایکو سسٹم سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے مالیاتی شعبے کے ریگولیٹرز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
اس طرح کے جائزہ اور تشخیصی عمل کی بنیاد پر، وقتاً فوقتاً مختلف تنظیمی اور نگرانی پر مبنی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں دیگر امور کے علاوہ درج ذیل شامل ہیں:
- ریزرو بینک آف انڈیا نے 30 مئی 2024 کو "فن ٹیک سیکٹر میں سیلف ریگولیٹری آرگنائزیشنز کے لیے فریم ورک" جاری کیا ہے، جس کا مقصد تنظیمی معیارات کو قائم کرنا اور نافذ کرنا، اخلاقی طرزِ عمل کو فروغ دینا، مارکیٹ کی سالمیت کو یقینی بنانا، تنازعات کو حل کرنا، اور اپنے اراکین کے درمیان شفافیت اور جوابدہی کو بڑھانا ہے۔
- ریزرو بینک آف انڈیا نے ویب سائٹ اور موبائل ایپ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فروری 2021 میں 'ڈیجیٹل پیمنٹ سیکیورٹی کنٹرولز' پر ماسٹر ڈائریکشنز جاری کی ہیں۔ یہ رہنما خطوط بینکوں کے لیے مختلف پیمنٹ چینلز جیسے انٹرنیٹ، موبائل بینکنگ، کارڈ پیمنٹ وغیرہ کے لیے سکیورٹی کنٹرولز کے ایک مشترکہ کم از کم معیار کو نافذ کرنا لازمی قرار دیتے ہیں۔ مزید برآں، نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈی) تمام بینکوں کو فراڈ مانیٹرنگ کا ایک حل فراہم کرتا ہے تاکہ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس لین دین کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ پر مبنی ماڈلز کا استعمال کر کے الرٹس پیدا کیے جا سکیں اور مشکوک ٹرانزیکشنز کو روکا جا سکے۔
- الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) نے افراد کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے 'ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ (ڈی پی ڈی پی ایکٹ) اور 'ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن رولز 2025' کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔
- مزید برآں، ریزرو بینک آف انڈیا نے اگست 2019 میں 'ریگولیٹری سینڈ باکس' کے لیے ایک فعال فریم ورک متعارف کرایا ہے، جو تنظیمی رعایتوں کے ساتھ یا ان کے بغیر، ایک کنٹرول شدہ تنظیمی ماحول میں نئی اور جدید مالیاتی مصنوعات یا خدمات کی جانچ کی اجازت دیتا ہے۔
مذکورہ بالا اقدامات کے علاوہ، صارفین کے مفادات کے تحفظ اور شہریوں کو غیر قانونی لون ایپس سمیت سائبر جرائم کی رپورٹ درج کرانے کی سہولت دینے کے لیے، وزارتِ داخلہ نے 'نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل' اور نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر "1930" شروع کیا ہے۔ بینک، عوام کے لیے دستیاب 'سچیت' پورٹل اور ریاستی سطح کی رابطہ کمیٹی کے ذریعے شہریوں کو غیر قانونی طور پر رقم جمع کرنے یا رقم کا لین دین کرنے والے مخصوص اداروں کے خلاف شکایات درج کرانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا اور بینک مختصر ایس ایم ایس، ریڈیو مہمات اور تشہیری پروگراموں کے ذریعے 'سائبر کرائم' سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔ مزید برآں، آر بی آئی 'الیکٹرانک بینکنگ اویرنس اینڈ ٹریننگ' (ای بات) پروگراموں کا انعقاد کر رہا ہے، جو دھوکہ دہی سے بچاؤ اور خطرات کو کم کرنے کی آگاہی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
یہ معلومات وزیر وزارت خزانہ میں وزیر مملکت جنا ب پنکج چودھری کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جوا ب میں دی گئی۔
***
(ش ح –م ف)
U.No:196
(रिलीज़ आईडी: 2286718)
आगंतुक पटल : 12