ٹیکسٹائلز کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت ٹیکس 2026 میں غیر معمولی تجارتی سرگرمیاں اور ریکارڈ تعداد میں شرکاء کی آمد


بھارت نے دنیا کے ممتاز ترین ٹیکسٹائل سورسنگ اور اختراعی مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کی

प्रविष्टि तिथि: 17 JUL 2026 3:11PM by PIB Delhi

بھارت ٹیکس 2026 کے ابتدائی تین دنوں نے بھارت منڈپم کو عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کا مرکز بنا دیا، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والے شرکاء کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔ دنیا کی سب سے بڑی جامع ٹیکسٹائل نمائش میں ناظرین کی ریکارڈ آمد، تجارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی، خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان وسیع پیمانے پر ملاقاتیں اور علم و تجربے کے مؤثر تبادلے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں سورسنگ، مینوفیکچرنگ، اختراع اور سرمایہ کاری کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور ابھرتی ہوئی منزل بن چکا ہے۔

سولہ لاکھ مربع فٹ سے زائد رقبے پر پھیلے بھارت ٹیکس 2026 میں 1,647 نمائش کنندگان نے شرکت کی، جبکہ تقریباً 95 ہزار تجارتی ناظرین نے نمائش کا رخ کیا، جن میں 20 ہزار سے زائد افراد نے ایک سے زیادہ مرتبہ شرکت کی۔ اس کے علاوہ 11,315 خریدار، جن میں 6,090 بین الاقوامی خریدار شامل تھے اور 138 ممالک سے تعلق رکھنے والے 3,461 مندوبین اور شرکاء نے حصہ لیا، جو بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ٹیکسٹائل شعبے پر عالمی اعتماد کا واضح مظہر ہے۔نمائش کے پہلے تین دنوں کے دوران 28,500 سے زائد کاروباری (بی ٹو بی) ملاقاتیں، 100 سے زیادہ حکومت تا حکومت (جی ٹو جی) اور کاروبار تا حکومت (بی ٹو جی) روابط، نیز متعدد اہم سرمایہ کاری مذاکرات منعقد ہوئے، جس سے نمائش کے ہال مسلسل تجارتی سرگرمیوں سے بھرپور رہے۔بھارت ٹیکس 2026 کے دوران ٹیکسٹائل کے شعبے میں تقریباً 14,300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے سامنے آئے۔ مختلف ریاستوں کی جانب سے 30 سے زائد مفاہمت ناموں (ایم او یوز) پر دستخط کیے گئے، جن میں کرناٹک (2,821 کروڑ روپے، 11,020 روزگار)، بہار (1,476 کروڑ روپے، 40,500 سے زائد روزگار)، مہاراشٹر (1,095 کروڑ روپے) اور آندھرا پردیش (4,100 کروڑ روپے) شامل ہیں۔ ان معاہدوں نے بھارت کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں ریاستی سطح پر ترقی اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اس نمائش کے کلیدی کردار کو مزید مضبوط کیا ہے۔مزید برآں، ری اینڈ اَپ  نے بھارت میں 4,800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جبکہ نمائش کے دوران تقریباً 2.8 ارب امریکی ڈالر مالیت کی سنجیدہ تجارتی استفسارات اور کاروباری مواقع بھی سامنے آئے۔

اس تقریب میں بھارت کی مختلف ریاستوں کی غیر معمولی شرکت دیکھنے میں آئی۔ بہار، مدھیہ پردیش، گجرات، اتر پردیش، پنجاب، مہاراشٹر، کرناٹک اور تمل ناڈو نے ریاستی شراکت دار (اسٹیٹ پارٹنرز) کے طور پر شرکت کی، جبکہ متعدد دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اپنے مخصوص پویلینز کے ذریعے ٹیکسٹائل کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں اور مصنوعات کی نمائش کی۔مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان اور مہاراشٹر، تمل ناڈو، آسام، اتر پردیش اور بہار کے سینئر وزراء کی موجودگی نے بھی اس بات کو مزید اجاگر کیا کہ بھارت ٹیکس ملک کا سب سے اہم اور ممتاز ٹیکسٹائل پلیٹ فارم بن چکا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس نمائش کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ نیوزی لینڈ، سری لنکا، روس، کمبوڈیا اور پرتگال کے وزارتی وفود نے شرکت کی، جبکہ یورپی یونین کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ امریکہ، جاپان، برطانیہ، اسپین، اٹلی، جنوبی کوریا، متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، فرانس، جرمنی سمیت 30 سے زائد ممالک کے صنعتی اور بین الاقوامی تجارتی وفود نے بھی اس عالمی ٹیکسٹائل میلے میں بھرپور شرکت کی۔

علم و تجربے کا تبادلہ بھارت ٹیکس 2026 کی نمایاں خصوصیات میں شامل رہا، جہاں 100 اعلیٰ سطحی علمی نشستوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان نشستوں میں 600 سے زائد پالیسی سازوں، عالمی ماہرین، صنعتی قائدین، چیف ایگزیکٹو افسران (سی ایکس اوز) اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔ پینل مباحثوں، گول میز اجلاسوں اور ماسٹر کلاسز میں عالمی تجارتی رجحانات، پائیداری، سرکلر اکانومی، تکنیکی اختراعات، مصنوعی ذہانت، ذمہ دارانہ سورسنگ، سرمایہ کاری کے مواقع، تکنیکی ٹیکسٹائل اور دیگر اہم موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔نمائش کی نمایاں سرگرمیوں میں ٹی بی ڈی پویلین میں منعقد ہونے والا "سنرچنا ہیکاتھون" بھی شامل تھا، جس میں تکنیکی ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھارت کے نوجوان اختراع کاروں کی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ ملک بھر سے طلبہ اور اختراع کاروں نے کسانوں کے لیے حفاظتی ملبوسات، ذیابیطس کے مریضوں کے زخموں کی جدید نگہداشت کے لیے مصنوعات اور انتہائی سرد علاقوں کے لیے ہلکے وزن والے حرارتی گدوں سمیت متعدد عملی اور جدید حل پیش کیے۔مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل جناب گری راج سنگھ اور وزیر مملکت برائے ٹیکسٹائل و امورِ خارجہ جناب پبیترا مارگریٹا نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اکیڈمیا، صنعت اور حکومت کے باہمی اشتراک سے نئی نسل کے تکنیکی ٹیکسٹائل حل تیار کرنے کی بہترین مثال ہے۔جامع ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت بھارت ٹیکس 2026 میں ملک کے مختلف خواہش مند اضلاع (اسپائریشنل ڈسٹرکٹس) سے تعلق رکھنے والے 250 سے زائد کاروباری افراد اور بنکروں کے لیے خصوصی مطالعاتی دوروں کا اہتمام بھی کیا گیا۔ اس پروگرام کے ذریعے بہت چھوٹے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کو خریداروں، نمائش کنندگان اور صنعت کے ماہرین سے براہِ راست رابطے کا موقع ملا، جس سے انہیں بین الاقوامی معیار، برانڈنگ، مصنوعات میں اختراع اور برآمدی مواقع کے بارے میں مفید معلومات حاصل ہوئیں اور نچلی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو مزید تقویت ملی۔بھارت کی عالمی ملبوساتی صنعت میں بڑھتی ہوئی اہمیت کو مزید اجاگر کرتے ہوئے، انٹرنیشنل اپیرل فیڈریشن (آئی اے ایف) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس بھی بھارت ٹیکس 2026 کے موقع پر منعقد کیا گیا۔

بھارت ٹیکس 2026 کے دوران ایک اہم سنگِ میل اس وقت حاصل ہوا جب بھارت ٹیکس ٹریڈ فیڈریشن (بی ٹی ٹی ایف) اور دنیا کے ممتاز ترین ٹیکسٹائل و فیشن سورسنگ پلیٹ فارموں میں سے ایک، پریمیئر وژن پیرس، کے درمیان مفاہمتی خط (لیٹر آف انٹینٹ) پر دستخط کیے گئے۔ اس تزویراتی شراکت داری کا مقصد بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ٹیکسٹائل تعاون کو مزید مضبوط بنانا، مارکیٹ تک رسائی بڑھانا، پائیدار سورسنگ، ڈیزائن سے متعلق معلومات کے تبادلے اور خریداروں و فروخت کنندگان کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے، تاکہ بھارتی صنعت کاروں، برآمد کنندگان اوربہت چھوٹے، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے عالمی سطح پر نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔بھارت ٹیکس 2026 میں بھارت کے روایتی ٹیکسٹائل کو عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کے برانڈ کے طور پر فروغ دینے کے موضوع پر بھی بامعنی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ معروف فیشن ڈیزائنروں راہل مشرا اور ویشالی شادانگولے سمیت صنعت کے ممتاز رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی ہینڈلوم، دستکاری اور روایتی بُنائی کی شاندار وراثت، اعلیٰ کاریگری اور ثقافتی شناخت کی مؤثر پیشکش کے ذریعے بین الاقوامی منڈیوں میں ملک کی سب سے منفرد اور مضبوط پہچان بن سکتی ہے۔

نمائش کے مختلف موضوعاتی پویلینز میں تجارتی سرگرمیاں پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری رہیں۔ ہال نمبر 4 میں واقع کلاتھنگ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی ایم اے آئی) کے ’’برانڈز آف انڈیا‘‘ پویلین نے خصوصی توجہ حاصل کی، جہاں بھارت کے 70 سے زائد ممتاز ملبوساتی برانڈز نے شرکت کی اور خریداروں کو بھارتی فیشن اور گارمنٹس کی صنعت کی وسعت اور تنوع کا منفرد مظاہرہ دیکھنے کا موقع ملا۔پہلی مرتبہ اس پویلین میں بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اِنٹی میٹ اور اِنر ویئر صنعت کے لیے بھی ایک خصوصی حصہ قائم کیا گیا، جہاں ممبئی اور دہلی کے معروف برانڈز نے اپنی جدید ترین مصنوعات اور اختراعات پیش کیں۔ویسٹ سائیڈ، ٹومی ہلفیگر، کیلون کلائن، یو ایس پولو ایسوسی ایشن، ایرو، فلائنگ مشین، لوئی فلپ، وین ہیوسن، ایلن سولی، پیٹر انگلینڈ، ریباک، امریکن ایگل، رالف لارین، سبیاساچی، ترون تہلیانی، جے پور، ڈبلیو فار وومن، بیواکوف، ڈالر، باڈی کیئر، ڈیوک سمیت متعدد عالمی اور بھارتی برانڈز نے خریداروں اور خوردہ فروشوں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔بھارت ٹیکس 2026 میں پائیداری اور ماحول دوست ترقی کو بھی مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ اسی مقصد کے تحت کلاتھنگ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی ایم اے آئی) اور گلوبل الائنس فار ٹیکسٹائل سسٹین ایبلٹی (جی اے ٹی ایس) کے اشتراک سے ’’ایکو اسٹیچ سسٹین ایبلٹی اینڈ سرکیولیریٹی ہب‘‘ قائم کیا گیا۔’’پائیدار، سرکیولر اور مسابقتی بھارت‘‘کے موضوع پر مبنی اس پویلین میں ری سائیکلنگ سے وابستہ اداروں، صنعت کاروں، برانڈز، اختراع کاروں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں اور مختلف شراکت داروں نے شرکت کی۔ یہاں ’’انڈیا امپیکٹ وال‘‘، ’’سرکیولیریٹی ایٹ اسکیل‘‘، ’’فرام ویسٹ ٹو گلوبل وارڈروب‘‘، ’’میڈ اِن سرکیولر بھارت‘‘، ’’میٹیریل اینڈ انوویشن لائبریری‘‘ اور ’’سرکیولر بھارت فورم‘‘ جیسے خصوصی حصے قائم کیے گئے، جن کے ذریعے ٹیکسٹائل صنعت کو زیادہ پائیدار، ماحول دوست اور مستقبل سے ہم آہنگ بنانے کے عملی ماڈلز اور جدید حل پیش کیے گئے۔

رونق سے بھرے نمائشی ہال، شرکاء سے کھچا کھچ بھرے کانفرنس سیشنز، مؤثر نیٹ ورکنگ کے بے شمار مواقع اور پورے مقام پر بھرپور تجارتی سرگرمیوں کے ساتھ بھارت ٹیکس 2026 اس عزم کو مزید مضبوط بنا رہا ہے کہ بھارت ٹیکسٹائل کی تیاری، عالمی سورسنگ، اختراع اور ذمہ دارانہ و پائیدار ترقی کے میدان میں دنیا کی پسندیدہ منزل بنے۔ اس کے ساتھ ہی یہ عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی ویلیو چین میں بھارت کی قائدانہ حیثیت کو بھی مزید مستحکم کر رہا ہے۔

******

 

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-81


(रिलीज़ आईडी: 2285774) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Telugu , Kannada