زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک عظیم عہد: ورکش متروں کی عوامی تحریک کے ذریعے گرین انڈیا کے لیے ایک نیا باب
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ملک بھر کے ورکش متروں کے ساتھ گفتگو میں گرین انڈیا کا پیغام دیا
ورکش مترتحریک کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے واضح روڈ میپ؛ خاندان سے لے کر معاشرے تک، ہر خوشی کے موقع پر درخت لگانے کی اپیل
ہر سال ایک درخت اور پانچ نئے ساتھی: مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ماحولیاتی تحفظ میں ہر فرد کی ذمہ داری پر زور دیا
ورکش متر پریوار کے لیے ایک قومی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا، جس کے تحت گاؤں سے لے کر قومی سطح تک ایک منظم مہم چلائی جائے گی: جناب شیوراج سنگھ چوہان
ہریالی اماوسیہ کے موقع پر ملک بھر میں شجرکاری؛ "ٹری فیسٹیول" کو ایک روایت بنایا جائے گا: جناب شیوراج سنگھ چوہان
پنچایتوں اور شہری بلدیاتی اداروں میں شجرکاری کے مخصوص مقامات ، شجرکاری کے ساتھ ساتھ تحفظ کی ضمانت: مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ
پانی، مٹی اور متوازن زراعت پر توجہ: زراعت کے مستقبل اور کسانوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان کی پہل
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے "مشن لائف" کے تحت توانائی کی بچت اور پلاسٹک سے پاک طرزِ زندگی اختیار کرکے ماحولیاتی تحفظ کو روزمرہ کی عادت بنانے کی اپیل کی
موسمیاتی تبدیلی پر سائنسی انتباہات؛ ماہرِ ماحولیات جناب انیل جوشی اور ڈاکٹر انوپ ہجیلا نے رویّوں میں تبدیلی اور "ایک درخت کی پرورش " کے پیغام پر زور دیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 JUL 2026 7:33PM by PIB Delhi
نئی دہلی کے پوسا کیمپس میں منعقدہ "ماحولیات کے تحفظ کے حل کے پروگرام اور ورکش متر سمواد" میں زراعت اور کسانوں کی بہبود و دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ملک بھر سے جڑے تقریباً 17 ہزار ورکش متروں کے درمیان ماحولیاتی تحفظ کو ایک عوامی تحریک بنانے کا بڑا عہد کیا۔پدم بھوشن سے سرفراز ماہرِ ماحولیات جناب انیل جوشی، معروف طبیب اور سماجی کارکن ڈاکٹر انوپ ہجیلا، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ایل جاٹ، ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں ورکش متر اس پروگرام میں براہِ راست شریک ہوئے، جبکہ ہزاروں ساتھی ورچوئل طور پر شامل ہوئے۔سب نے مل کر درختوں کے تحفظ، پانی، مٹی، توانائی کی بچت اور پلاسٹک سے پاک زندگی کو عوامی شراکت سے جوڑتے ہوئے زمین کو بچانے کا مشترکہ پیغام دیا۔

ورکش متروں کے ساتھ تجاویز اور تبادلۂ خیال کی بنیاد پر، مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ماحولیاتی تحفظ کو ایک مضبوط عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ پیش کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہر خاندان ہر موقع پر، مثلاً سالگرہ، شادی کی سالگرہ، بچوں کی پیدائش اوروالدین کی یادِ خیر کے موقع پر درخت لگائے گا اور ان مواقع کو "ٹری فیسٹیولز" میں تبدیل کیا جائے گا، تاکہ یہ روایت رفتہ رفتہ گھریلو عادت بن جائے۔
ہر ورکش متر سالانہ کم از کم ایک درخت لگائے گا اور کم از کم پانچ نئے افراد کو اس مہم سے جوڑنے کا عہد کرے گا، جس کا اعلان سوشل میڈیا پر پوسٹس کے ذریعے عوامی طور پر کیا جائے گا، تاکہ 12 اگست کو ہریالی اماوسیہ کے موقع پر ایک مضبوط نیٹ ورک قائم کیا جا سکے۔
چوہان نے قومی، ریاستی، ضلع، بلاک اور گاؤں کی سطح پر "ورکش متر پریوار" کی کمیٹیاں تشکیل دینے، ان ڈھانچوں کو باضابطہ طور پر رجسٹر کرنے، اور پنچایتوں و شہری اداروں میں درخت لگانے کے لیے مخصوص مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے پوری مہم کو منظم انداز میں چلانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اہم تقریبات، سرکاری اسکیموں اور منصوبوں، جیسے پردھان منتری آواس یوجنا، لکھپتی دیدی یوجنا، اور محکمۂ زراعت و دیہی ترقی کے پروگراموں کا آغاز درخت لگانے سے کیا جائے۔
مزید برآں، گووردھن پوجا، عالمی یومِ ماحولیات اور ہریالی اماوسیہ کے موقع پر بڑے پیمانے پر شجرکاری اور فطرت کے احترام کا عہد کیا گیا۔ شادی کے دعوت ناموں اور مذہبی و سماجی تقریبات میں درخت لگانے کی اپیل شامل کرنے، سنتوں، سماجی رہنماؤں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کرنے، نیز ایک الگ لوگو اور ڈیجیٹل پورٹل بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا، تاکہ ایسا سماجی ماحول تشکیل دیا جا سکے جہاں درخت نہ لگانا شرم کی علامت بن جائے، جبکہ درخت لگانا ترقی، ذمہ داری اور وقار کی علامت سمجھا جائے۔

ورکش متر جن آندولن نے زمین کو بچانے کا عہد کیا
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے خطاب کا آغاز ماحولیاتی بحران کی سنگینی پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وجود کا بحران ہے۔ سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح، بڑھتی ہوئی گرمی، آلودہ ہوا، آلودہ پانی اور تیزی سے کم ہوتی حیاتیاتی تنوع آنے والی نسلوں کی زندگی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے عالمی واقعات اور سائنسی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ابھی ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو 2050ء اور اس کے بعد کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہو سکتی ہے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے جذباتی انداز میں کہا کہ ہر کوئی اپنے لیے جیتا ہے، لیکن حقیقی زندگی وہ ہے جو دوسروں کو زندگی بخشے، اور اس مقصد کے لیے درختوں کو زندگی دینے کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ درخت صرف سرسبز و شاداب مناظر ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ ہمیں سانس لینے کے لیے آکسیجن بھی مہیا کرتے ہیں، زمین کے درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے میں ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں، پرندوں، حشرات الارض اور بے شمار دیگر مخلوقات کے لیے مسکن ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے حفاظتی حصار بھی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب وہ ایک درخت لگاتے ہیں اور اسے بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں تو انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ زمین کو گلے لگا رہے ہوں۔ ان کے مطابق یہی احساس ورکش متر تحریک کی روح ہے۔

ہر سال ایک درخت لگانے کا عہد کریں، ورکش متر پانچ نئے دوست شامل کریں گے
مسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے پورے پروگرام کو محض ایک تقریر تک محدود رکھنے کے بجائے واضح طور پر کہا کہ ہمیں اس دن یہاں سے ایک مضبوط عزم کے ساتھ جانا چاہیے۔ انہوں نے متعدد ورکش متروں سے تجاویز لیں اور ایک سادہ سا عہد پیش کیا: ہر سال کم از کم ایک درخت لگانا اور درخت لگانے کی مہم میں کم از کم پانچ نئے افراد کو شامل کرنا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ہر شخص اپنی سالگرہ، شادی کی سالگرہ، بچوں کی سالگرہ یا اپنے والدین کی برسی جیسے مواقع پر درخت لگائے۔ انفرادی اقدامات بالآخر ایک اجتماعی قوت بن جائیں گے۔ ہال میں موجود تمام ورکش متروں نے بھی ان کے ساتھ یہ عہد کیا۔ مسٹر چوہان نے کہا کہ یہی وہ توانائی ہے جو آہستہ آہستہ پورے ملک میں پھیلے گی اور ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کرے گی۔ انہوں نے آن لائن جنابک افراد کو بھی اس عہد میں شامل ہونے کی ترغیب دی اور واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ اگر ہر شہری ہر سال ایک درخت لگائے اور پانچ مزید افراد کو اس کی ترغیب دے تو آنے والے برسوں میں ہرے بھرے ہندوستان کی تصویر نمایاں طور پر بدل سکتی ہے۔
"ورکش متر پریوار" کے لیے ایک قومی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے ملک گیر مہم چلائی جائے گی
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے اعلان کیا کہ درخت لگانے کی کوششوں کو بکھرے ہوئے اور الگ تھلگ اقدامات کے طور پر نہیں چھوڑا جائے گا، بلکہ "ورکش متر پریوار" کے نام سے ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک خاندان ہوگا، جہاں بھائی، بہنیں، بیٹے، بیٹیاں، چچا اور بھتیجے، سب درخت لگانے اور ان کی حفاظت کے مشترکہ عزم کے ساتھ متحد ہوں گے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ ورکش متر پریوار ایک قومی اکائی قائم کرے گا، جس کے بعد ہر ریاست، ضلع، بلاک اور گاؤں کی سطح تک یونٹس تشکیل دیے جائیں گے، تاکہ منصوبہ بندی، نگرانی اور باہمی تال میل آسان بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ ڈھانچہ اوپر سے نیچے تک مربوط ہو جائے گا تو ہر علاقے کے لیے شجرکاری کے اہداف مقرر کیے جا سکیں گے، درختوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں تفویض کی جا سکیں گی، اور یہ یقینی بنایا جا سکے گا کہ شجرکاری محض ایک وقتی تصویری تقریب نہ رہے بلکہ ایک پائیدار مہم بن جائے۔
ہریالی اماوسیہ پر ملک بھر میں شجرکاری
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوستانی ثقافت میں درختوں اور پانی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے خاص طور پر ہریالی اماوسیہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری روایت نے ہمیشہ درختوں، تالابوں اور آبی ذخائر کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔ ’’ایک درخت دس بیٹوں کے برابر ہے‘‘ جیسی کہاوتیں ہماری سوچ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اسی ثقافتی بنیاد پر انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس سال 12 اگست کو منائی جانے والی ہریالی اماوسیہ، ورکش متر پریوار کی پہلی بڑی قومی تقریب ہوگی۔ مرکزی وزیر جناب چوہان نے کہا کہ اس دن ملک بھر کے تمام ورکش متر اپنے اپنے علاقوں میں ایک ایک درخت لگائیں گے اور آہستہ آہستہ یہ دن پورے ملک میں "ٹری فیسٹیول" کے نام سے جانا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے ثقافتی تہواروں کو ماحولیات سے جوڑ دیں، جیسے ہریالی اماوسیہ پر شجرکاری، عالمی یومِ ماحولیات پر پودوں کی تقسیم، اور یومِ آزادی و یومِ جمہوریہ کے موقع پر درخت لگانا، تو آنے والے برسوں میں لاکھوں نئے درخت اُگیں گے، جس سے ہماری ثقافت اور ماحول دونوں مضبوط ہوں گے۔
پنچایتیں اور شہری ادارے درخت لگانے اور ان کے تحفظ کو فروغ دیں گے
مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے درخت لگانے سے زیادہ ان کی حفاظت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ آج سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ درخت تو لگا دیے جاتے ہیں، تصویریں بھی کھینچ لی جاتی ہیں، لیکن بعد میں کوئی یہ دیکھنے واپس نہیں آتا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں، انہیں پانی مل رہا ہے یا نہیں، یا وہ جانوروں سے محفوظ ہیں یا نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس رجحان کو بدلنا ہوگا؛ مقصد صرف درخت لگانا نہیں بلکہ ان کی پرورش اور حفاظت بھی ہونا چاہیے۔
اسی تناظر میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر پنچایت اپنے علاقے میں دو سے تین ایکڑ اراضی مختص کرے اور "ورکش متر استھل" قائم کرے، جہاں باقاعدگی سے درخت لگائے جائیں اور ان کی دیکھ بھال اجتماعی ذمہ داری بن جائے۔ اسی طرح ہر نگر پنچایت، میونسپل کارپوریشن اور دیگر شہری اداروں کو بھی اپنے اپنے علاقوں میں ایسے مقامات کی نشاندہی کرنی چاہیے جہاں درخت لگائے جائیں اور ان کی مسلسل نگرانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب پنچایتیں اور شہری ادارے زمین اور سہولیات فراہم کریں گے، اور ورکش متر پریوار درختوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالے گا، تو درخت محفوظ رہیں گے اور ہر سال لگائے جانے والے پودے حقیقی معنوں میں ایک سرسبز و شاداب ہندوستان کی بنیاد بنیں گے۔
زراعت کے مستقبل اور کسانوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات
اپنے خطاب میں جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ماحولیاتی تحفظ کو براہِ راست زراعت اور کسانوں کے مستقبل سے جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ آج کسانوں کو درپیش اہم مسائل صرف بیج اور کھاد تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پانی کی دستیابی، مٹی کا معیار اور کھیتوں کی طویل مدتی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کیمیائی کھادوں اور زرعی ادویات کے غیر متوازن استعمال اور قدرتی وسائل کے اندھا دھند استحصال سے زمین کی زرخیزی کم ہو رہی ہے، جس سے نہ صرف پیداوار بلکہ فصلوں کے معیار اور صحتِ عامہ پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے پانی اور مٹی کے متوازن استعمال اور تحفظ کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ صرف ضرورت کے مطابق وسائل استعمال کیے جائیں، مٹی کی قدرتی زرخیزی کا احترام کیا جائے، اور ایسی زراعت کو فروغ دیا جائے جو کرۂ ارض کی صحت اور کسانوں کی آمدنی، دونوں کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیتی باڑی کو مستقبل کے ماحولیاتی بحرانوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سائنسی نقطۂ نظر اور سماجی شراکت، دونوں ناگزیر ہیں۔
مشن لائف: پلاسٹک سے پاک زندگی، توانائی کی بچت اور ماحولیاتی تحفظ
مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے "مشن لائف (ماحول کے لیے طرزِ زندگی)" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں ماحولیاتی تحفظ کے لیے سب سے مؤثر اور پائیدار حل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمرے سے باہر نکلتے وقت بتیاں بند کرنا، رسنے والے نل کی فوری مرمت، پانی کے ضیاع سے بچنا، گیلے اور خشک کچرے کو الگ کرنا، پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال سے گریز کرنا، اور خوراک میں موٹے اناج اور مقامی مصنوعات کو شامل کرنا چھوٹے اقدامات ضرور ہیں، لیکن ان کے اثرات نہایت اہم ہیں۔
جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ڈاکٹر انوپ ہجیلا کی تجویز کردہ توانائی بچانے کی تدابیر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایل ای ڈی لائٹس، بی ایل ڈی سی پنکھے، توانائی کی بچت والے ایئر کنڈیشنرز اور ریفریجریٹرز کا استعمال نہ صرف بجلی کے بل کم کرتا ہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے جیسے الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، توانائی کی پیداوار اور اس کا مؤثر استعمال مزید اہم ہو جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر گھر اور ادارہ توانائی بچانے والے آلات اپنائے اور اپنی روزمرہ زندگی سے پلاسٹک کے استعمال کو کم کرے۔ تب ہی مشن لائف کے حقیقی نتائج سامنے آئیں گے۔
انیل جوشی اور ڈاکٹر ہجیلا نے رویے میں تبدیلی اور "درخت کی پرورش" کا پیغام دیا
پدم بھوشن سے سرفراز ماہرِ ماحولیات انیل جوشی نے جناب شیوراج سنگھ چوہان کے شجرکاری کے عزم کو محض درخت لگانے کی مہم نہیں بلکہ ایک طویل مدتی اور متاثر کن سوچ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جناب شیوراج سنگھ چوہان کی زندگی اور طرزِ عمل اس بات کی مثال ہیں کہ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی سادگی، حساسیت اور فطرت سے محبت کے ساتھ کام کیا جا سکتا ہے، اور یہی خوبی انہیں منفرد بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ برسوں سے جناب شیوراج سنگھ چوہان کے کام کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور انہوں نے محسوس کیا ہے کہ ان کی شخصیت میں ذاتی مفاد نہیں بلکہ معاشرے اور ماحولیات کی خدمت کا مستقل جذبہ موجود ہے، جو پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔
انیل جوشی نے مزید بتایا کہ آئی آئی ٹی کے سائنس دانوں نے جناب شیوراج سنگھ چوہان کی شجرکاری اور ماحولیاتی سرگرمیوں کا سائنسی مطالعہ شروع کیا ہے۔ ریموٹ سینسنگ اور دیگر جدید تکنیکی ذرائع کے ذریعے ان کے لگائے ہوئے درختوں اور شروع کی گئی مہمات کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالعہ مستقبل کے پالیسی سازوں، سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں کے لیے ایک اہم "کیس اسٹڈی" ثابت ہوگا، جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ پائیدار، سادہ اور عوامی شراکت پر مبنی اقدامات کس طرح مؤثر ماحولیاتی بہتری لا سکتے ہیں۔
معروف معالج اور سماجی کارکن ڈاکٹر انوپ ہجیلا نے موسمیاتی تبدیلی اور پائیداری کو سادہ الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی، ناکام ہوتے نظام، شدید موسمی حالات اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بحران کسی ایک ملک یا شہر تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے توانائی کےتحفظ، پانی کے ریڈیوس (پانی کے کم استعمال کرنے )ری یوز (دوبارہ استعمال کرنے ) اور ری سائیکل ماڈل، گرے واٹر کے استعمال، کاغذ اور پلاسٹک کے استعمال میں کمی، اور ری سائیکلنگ کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اہم ذرائع قرار دیا۔
ڈاکٹر ہجیلا نے "درخت لگاؤ، درخت کی پرورش کرو" کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ فلیٹوں میں رہتے ہیں اور نئی زمین پر درخت نہیں لگا سکتے، وہ بھی کسی مناسب جگہ ایک پودا اپنائیں، اسے باقاعدگی سے پانی دیں، اس کی دیکھ بھال کریں اور اسے ایک تناور درخت بنتے ہوئے دیکھیں۔ انہوں نے اپنے اسپتال کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں عالمی یومِ ماحولیات، 15 اگست اور 26 جنوری جیسے مواقع پر پھل دار سینکڑوں پودے تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ ہر پودا بڑھ کر ایک درخت بن سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک میں زیادہ سے زیادہ ادارے گرین سرٹیفیکیشن کے لیے کام کریں تو توانائی، پانی، فضلے اور پلاسٹک کے استعمال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے، جس سے ماحولیاتی تحفظ کو ادارہ جاتی سطح پر مزید تقویت ملے گی۔
***
UR-9861
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2283963)
وزیٹر کاؤنٹر : 13