وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں وشاکھاپٹنم میں بھارت میں تیار کردہ جدید اسٹیلتھ جنگی جہاز ’’آئی این ایس مہندراگیری‘‘ بھارتی بحریہ میں شامل


75 فیصد مقامی آلات سے تیار، جدید ہتھیاروں کے نظام اور چھُپ  کر وار کرنے کی صلاحیتوں سے لیس پروجیکٹ 17 اے کا چھٹا جنگی جہاز  فضائی، سطحی اور زیرِ آب خطرات سے ملک کا دفاع کرے گا

’’آئی این ایس مہندراگیری ‘‘ آتم نربھر بھارت کی ایک اور علامت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس، جنگی صلاحیت رکھنے والی بحریہ کی تعمیر کے قومی عزم کا مظہر ہے: جناب راج ناتھ سنگھ

’’آئی این ایس مہندراگیری بھارت کی گہرے سمندروں تک رسائی کی صلاحیت میں اضافہ کرے گا اور بحرِ ہند کے خطے میں اس کی موجودگی کو مزید مضبوط بنائے گا‘‘

’’بھارتی بحریہ کی بروقت اور مؤثر آپریشنل کارروائیوں نے اسے ہند-بحرالکاہل خطے میں اولین امدادی قوت اور ترجیحی سلامتی شراکت دار بنا دیا ہے‘‘

’’حکومت روایتی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے لیے بھی پُرعزم ہے‘‘: وزیر دفاع

प्रविष्टि तिथि: 11 JUL 2026 12:56PM by PIB Delhi

گیارہ جولائی 2026 کو آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی موجودگی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران بھارت میں تیار کردہ جدید چھُپ کر وار کرنے والے ’’آئی این ایس مہندراگیری‘‘ کو بھارتی بحریہ کے مشرقی بیڑے میں شامل کر لیا گیا۔اپنے خطاب میں وزیر دفاع نے اس جدید جنگی بحری جہاز کو جہاز سازی کے شعبے میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خود انحصاری کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی غیر معمولی ڈیزائننگ صلاحیت، اعلیٰ درجے کی مینوفیکچرنگ، بحری صنعتی نظام کی تیز رفتار ترقی اور بروقت عالمی معیار کے بحری پلیٹ فارم تیار کرنے کی صلاحیت کا مظہر ہے۔

 

’’آئی این ایس مہندراگیری‘‘ پروجیکٹ 17 اے کے تحت تیار کیا گیا مقامی ساختہ اسٹیلتھ فریگیٹس کاچھٹا جنگی جہاز ہے، جسے محض ڈیڑھ سال کے عرصے میں بھارتی بحریہ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کےپہلے جنگی جہاز ’’آئی این ایس نیلگیری‘‘ کو جنوری 2025 میں بحریہ میں شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد اگست میں ’’آئی این ایس اُدےگیری‘‘ اور ’’آئی این ایس ہِمگیری‘‘، رواں سال اپریل میں ’’آئی این ایس تاراگیری‘‘ اور گزشتہ ماہ ’’آئی این ایس دوناگیری‘‘ کو کمیشن کیا گیا۔بھارتی بحریہ کے وارشپ ڈیزائن بیورو کی جانب سے ڈیزائن کی گئی اور ممبئی میں واقع مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل) کی تیار کردہ یہ جنگی جہاز بحری  کرروائیوں کے تمام شعبوں میں خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جن میں بحری بیڑے کا فضائی دفاع، سطحی جنگ، آبدوز شکن کارروائیاں، بحری ناکہ بندی، نگرانی، انسانی امداد اور آفات کے دوران امدادی کارروائیاں (ایچ اے ڈی آر) شامل ہیں۔

 

75 فیصد سے زائد مقامی آلات سے تیار کیے گئیے اس جنگی جہاز کا وزن تقریباً 6,670 ٹن ہے اور یہ 28 ناٹ تک کی رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ سپرسونک سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائلوں، درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں، آبدوز شکن جنگی صلاحیتوں اور ایک کثیرالمقاصد ہیلی کاپٹر سے لیس ہے۔ اس کے علاوہ اس میں جدید اسٹیلتھ خصوصیات، جدید سینسرز، نیٹ ورک پر مبنی جنگی نظام اور جدید ترین ہتھیاروں کے نظام بھی نصب ہیں۔

 

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’آئی این ایس مہندراگیری‘‘ کو براہموس سطح سے سطح پر مار کرنے والے میزائل سے لیس کیا جا سکتا ہے، جو دنیا کے تیز ترین اور انتہائی مہلک کروز میزائلوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس جنگی جہاز میں کثیر المقاصد ریڈار اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے سطح سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کا ایسا مربوط نظام نصب ہے، جو دور سے فضائی خطرات کا پتہ لگا کر انہیں مؤثر طریقے سے ناکام بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں مقامی ساخت کا راکٹ لانچر، ٹارپیڈو لانچرز، مربوط آبدوز شکن دفاعی نظام، الیکٹرانک وارفیئر سسٹم اور کلوز اِن ویپن سسٹم بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام صلاحیتوں کی بدولت یہ جنگی جہاز نہایت طاقتور، مؤثر اور ہر طرح کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ بلیو واٹر جنگی جہاز نہ صرف ساحلی علاقوں بلکہ گہرے سمندروں میں بھی ہندوستان کے بحری مفادات کا مؤثر تحفظ کرے گا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اگرچہ ڈرون، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سائبر وارفیئر، خلائی صلاحیتوں، ہائپرسونک ہتھیاروں اور بغیر پائلٹ کے نظام جیسی نئی ٹیکنالوجیوں نے جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم روایتی فوجی صلاحیتیں اب بھی مؤثر دفاع کی  بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مستقبل کی جنگیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے لڑی جا سکتی ہیں، لیکن ان میں کامیابی قومی عزم، تربیت یافتہ فوجیوں اور قابلِ اعتماد عسکری طاقت ہی سے حاصل ہوگی۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور روایتی عسکری پلیٹ فارم ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نئی نسل کی دفاعی ٹیکنالوجیوں میں سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ روایتی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متوازن حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آپریشن سندور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے روایتی اور جدید عسکری صلاحیتوں کے مؤثر امتزاج کی بہترین مثال ہے۔‘‘ ان کے مطابق ’’آئی این ایس مہندراگیری‘‘ جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور ہر وقت جنگی کارروائی کے لیے تیار بحریہ کی تعمیر کے قومی عزم کی علامت ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بحری سلامتی اور اقتصادی سلامتی ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، جبکہ سمندر نہ صرف قومی سلامتی بلکہ تجارت، سپلائی چین، توانائی کے تحفظ اور اقتصادی ترقی کے لیے بھی انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے ہند-بحرالکاہل خطے کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے (’’ساگر‘‘   ) خطے میں سب کے لیے سلامتی اور ترقی) کے وژن کے تئیں حکومت کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔

 

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’ہندوستان خطے میں سلامتی فراہم کرنے والا ایک قابلِ اعتماد ملک اور ایسا شراکت دار ہے جو پورے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے پُرعزم ہے۔‘‘ انہوں نے قدرتی آفات کے دوران انسانی امداد (HADR)، قزاقی کے خلاف کارروائیوں اور بحرانی حالات سے دوچار علاقوں سے بھارتی اور غیر ملکی شہریوں کے انخلا میں بھارتی بحریہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ بحریہ نے اپنے مؤثر اور بروقت آپریشنز کے ذریعے اس عزم کا مسلسل مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت اور مؤثر کارروائیوں کی بدولت بھارتی بحریہ نے ہند-بحرالکاہل خطے میں ’’فرسٹ ریسپانڈر‘‘ اور ’’ترجیحی سلامتی شراکت دار‘‘ کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔

مغربی ایشیا کے تنازعے کے دوران بھارتی بحریہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ’’آپریشن اُرجا سرکشا‘‘ کے تحت بحریہ نے 18 تجارتی جہازوں کو بحفاظت منزل تک پہنچایا، جو 9 ہزار کروڑ روپے سے زائد مالیت کا ضروری سامان لے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ بھارتی بحریہ صرف ایک جنگی قوت ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے اقتصادی مفادات کی ایک مضبوط محافظ بھی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ’’آئی این ایس مہندرگیری‘‘ مجموعی بحری حکمت عملی کو مزید مضبوط بنائے گا، کیونکہ اس سے مشرقی ساحلی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، گہرے سمندروں تک ہندوستان کی رسائی مزید وسیع ہوگی اور بحرِ ہند کے خطے میں اس کی موجودگی پہلے سے زیادہ مستحکم ہوگی۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مقامی سطح پر جنگی بحری جہازوں کی تیاری صرف دفاعی پلیٹ فارم بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس سے ڈیزائننگ کی صلاحیت، تکنیکی مہارت، ہنرمند افرادی قوت اور مجموعی بحری صنعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاز سازی کی صنعت فولاد، الیکٹرانکس، سینسرز، پروپلشن سسٹمز، سافٹ ویئر، پریسیژن انجینئرنگ اور لاجسٹکس سمیت متعدد شعبوں کی ترقی کو فروغ دیتی ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اختراع کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اقتصادی ترقی کو تقویت ملتی ہے۔

 

 

وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا وژن ہندوستان کو جہاز سازی اور بحری دفاعی اختراعات کا عالمی مرکز بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ٹائم انڈیا وژن 2030 جیسے اقدامات کے ذریعے ملک تیزی سے اس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، جن کا مقصد بندرگاہوں کو جدید بنانا، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کو وسعت دینا، لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط کرنا اور عالمی معیار کا بحری ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میری ٹائم ڈیولپمنٹ فنڈ، شپ بلڈنگ فنانشل اسسٹنس اسکیم اور شپ بلڈنگ ڈیولپمنٹ اسکیم جیسے اہم اقدامات صنعتی صلاحیت میں اضافہ، خود انحصاری کو فروغ دینے اور ملک کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔

راج ناتھ سنگھ نے ملک کے نوجوان صنعت کاروں، انجینئروں، اختراع کاروں، محققین اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ مستقبل کی جنگوں کی نوعیت متعین کرنے والی جدید ٹیکنالوجیوں اور ایسے نظام تیار کرکے قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں، جو ہندوستان کو دفاعی شعبے میں مزید خود کفیل بنائیں۔

بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن نے ’’آئی این ایس مہندراگیری‘‘ کو ہندوستان کی بڑھتی ہوئی بحری صلاحیت اور تکنیکی خود انحصاری کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ 17 اے کے تحت تیار کی گئی چھٹی فریگیٹ کی شمولیت مقامی سطح پر جنگی بحری جہازوں کی تیاری میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے، جس سے بھارتی بحریہ کی آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ بھارتی بحریہ ہر وقت جنگی کارروائی کے لیے تیار، قابلِ اعتماد، منظم اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مضبوط دفاعی قوت ہے۔

 


 

بھارتی بحریہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں 75 فیصد سے زیادہ مقامی پرزوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل) اور بھارتی بحریہ نے کئی نئے سنگِ میل بھی قائم کیے ہیں۔ ان میں جنگی جہاز کے پانی میں اتارنے سے لے کر اس کی حوالگی تک کا عرصہ تقریباً 50 فیصد کم کرنا شامل ہے، جو 63 ماہ سے گھٹ کر صرف 31 ماہ رہ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جہاز کی مجموعی تعمیر کا دورانیہ بھی تقریباً 20 فیصد کم ہو کر 95 ماہ سے 75 ماہ تک آ گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام تکنیکی جانچ اور تجزیے معمول کے مطابق پانچ سے سات سمندری آزمائشی مراحل (سی ٹرائلز) کے بجائے صرف ایک ہی سی ٹرائل میں مکمل کر لیے گئے۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں ایم ڈی ایل، بھارتی صنعت کاروں، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، وارشپ اوورسیئنگ ٹیم، آزمائشی ایجنسیوں اور جہاز کے عملے کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔

 

 

تقریب کے دوران کمیشننگ پیننٹ کو روایتی انداز میں کھولا گیا اور جنگی جہاز پر پہلی مرتبہ قومی پرچم لہرایا گیا۔ اس موقع پر مشرقی بحری کمان کے فلیگ آفیسر کمانڈنگ اِن چیف وائس ایڈمرل سنجے بھلا، مزگاؤں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ (ایم ڈی ایل) کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر کیپٹن جگموہن (ریٹائرڈ)، بھارتی بحریہ کے سینئر افسران، سابق فوجی افسران، جہاز سازی کی صنعت کے نمائندے اور دیگر معزز مہمان موجود تھے۔

آئی این ایس مہندراگیری

مشرقی گھاٹ کی مہندراگیری پہاڑی سلسلے کے نام پر رکھے گئے آئی این ایس مہندراگیری کو طاقت، ثابت قدمی اور ناقابلِ تسخیر عزم کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ اس کا نصب العین "طاقتور، باوقار، بے مثال  ہے۔

200 سے زائد بھارتی صنعتوں، جن میں بڑی تعداد چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کی ہے، کی شراکت سے تیار ہونے والایہ جنگی جہاز دفاعی سازوسامان کی مقامی تیاری میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس فریگیٹ میں جدید اسٹیلتھ خصوصیات، کمبائنڈ ڈیزل یا گیس پروپلشن سسٹم، انٹیگریٹڈ پلیٹ فارم مینجمنٹ سسٹم اور جدید مقامی جنگی نظام نصب ہیں۔

بھارتی بحریہ کے سن رائز فلیٹ کہلانے والے مشرقی بیڑے میں شامل ہونے کے بعد آئی این ایس مہندرگیری بحرِ ہند کے خطے میں ہندوستان کی بحری جنگی صلاحیت اور آپریشنل رسائی میں نمایاں اضافہ کرے گااور مہاساگر وژن کے تحت مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مضبوط بحریہ کی تعمیر کے ہندوستان کے عزم کو مزید تقویت بخشے گا۔

 

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U : 9826 )


(रिलीज़ आईडी: 2283627) आगंतुक पटल : 16
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Tamil , Telugu_Vw , Telugu , Malayalam