وزیراعظم کا دفتر
وزیراعظم نے اقتصادی روڈ میپ سے متعلق کاروباری پروگرام سے خطاب کیا
प्रविष्टि तिथि:
09 JUL 2026 10:09AM by PIB Delhi
آپ سب کو میرا نمسکار!
آج اس ہال میں بھارت اور آسٹریلیا کی کاروباری طاقت اور کاروباری امنگیں ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ آپ سب کی یہاں موجودگی ہمارے مشترکہ اعتماد اور مشترکہ امنگوں کی علامت ہے۔
آج دنیا غیر یقینی صورتحال، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور توانائی کے بحران کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے وقت میں بھارت اور آسٹریلیا کا فطری اور قابلِ اعتماد شراکت داروں کے طور پر آگے بڑھنا نہ صرف فطری ہے بلکہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔
گزشتہ برسوں میں ہم نے دونوں ممالک کی صلاحیتوں کی بنیاد پر مستقبل کی شراکت داری کے لیے ایک مضبوط ڈھانچہ تیار کیا ہے۔ سال 2022 میں ریکارڈ مدت میں طے پانے والے اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدے (ای سی ٹی اے) نے ہماری اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ اس معاہدے کے نفاذ کے بعد بھارت سے آسٹریلیا کو ہونے والی برآمدات دوگنی ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔
لیکن ہم یہیں رکنے والے نہیں ہیں۔ اب ہم جامع اقتصادی تعاون کے معاہدے (سی ای سی اے) کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کے ذریعے دونوں ممالک کی حکومتوں نے ایک نئی بنیاد فراہم کر دی ہے۔
اب اس بنیاد پر سرمایہ کاری اور اختراع کا طیارہ اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے، اور آپ سب کو اسے نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔
ساتھیوں!
یہاں صاف توانائی کے شعبے سے وابستہ کئی کمپنیاں موجود ہیں۔ ہم بھارت میں آبی بجلی کے منصوبوں، گرین ہائیڈروجن، شمسی توانائی کے ماڈیولز اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنوں کے لیے مینوفیکچرنگ کا مضبوط ماحولیاتی نظام تیار کر رہے ہیں۔
بھارت نے سال 2030 تک 500 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت حاصل کرنے اور سال 2070 تک خالص صفر اخراج کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آسٹریلیا کی ٹیکنالوجی، سرمایہ اور وسائل اس تبدیلی کو مزید تیز رفتار بنا سکتے ہیں۔
چند ماہ قبل بھارت نے ‘‘شانتی ایکٹ’’ کے ذریعے جوہری توانائی کے شعبے کو نجی کمپنیوں کے لیے کھول دیا ہے۔ ہم نے سال 2047 تک 100 گیگاواٹ جوہری توانائی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آسٹریلیا کے وسیع یورینیم کے ذخائر، بھارت کے جوہری توانائی کے سفر سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔ اس شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ہمارے پاس ایک تاریخی موقع موجود ہے۔
بھارت میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، سڑکوں، ریلوے اور شہری بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں آسٹریلیا کے طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ آج بھارت میں قومی شاہراہیں تقریباً 34 کلومیٹر یومیہ کی رفتار سے تعمیر ہو رہی ہیں، جبکہ ہر روز 8 کلومیٹر سے زیادہ نئی ریلوے پٹریاں بچھائی جا رہی ہیں۔ یہ وسعت، رفتار اور استحکام کا منفرد امتزاج ہے۔
اسٹیل کے شعبے میں ہم پہلے ہی مضبوط شراکت دار رہے ہیں۔ آج بھارت دنیا میں خام اسٹیل پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہم مل کر کم کاربن ایلومینیم، ماحول دوست آہن اور صاف ستھری مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت مشن، کوانٹم مشن اور سیمی کنڈکٹر پروگرام کے تحت حکومت ہند 10 ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کی معاونت فراہم کر چکی ہے۔ ہم ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، سیمی کنڈکٹرز اور عوامی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مل کر عالمی سطح کے حل تیار کر سکتے ہیں۔
آسٹریلیا کے پنشن فنڈز اس وقت 4 کھرب امریکی ڈالر سے زائد کے اثاثوں کو مینیج کر رہے ہیں۔ بھارت میں پنشن کی بچت کو ایک مقدس امانت سمجھا جاتا ہے۔ ہم اسے محض سرمایہ نہیں بلکہ کروڑوں خاندانوں کے اعتماد کی علامت مانتے ہیں۔ بھارت آپ کے فنڈز کو محفوظ، مستحکم اور پائیدار ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ آپ کا اعتماد بھی بڑھے اور آپ کا سرمایہ بھی ترقی کرے۔
تعلیم اور مہارت کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان فطری ہم آہنگی موجود ہے۔ ڈیکن یونیورسٹی اور وولونگونگ یونیورسٹی نے گفٹ سٹی میں اپنے کیمپس قائم کر کے ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ یہ بھارت پر ان کے اعتماد کا مظہر ہے۔ ہمارا مشترکہ ہدف یہ ہونا چاہیے کہ طلبا کی نقل و حرکت کو صلاحیتوں پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
ساتھیوں!
ان تمام شعبوں میں مزید پیش رفت کے لیے ہمیں ایک اور اہم پہلو پر توجہ دینی ہوگی۔ ہماری شراکت داری صرف دونوں ممالک کے دارالحکومتوں یا چند شہروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ ہمیں اپنی ریاستوں، چھوٹے اور بڑے شہروں، یونیورسٹیوں اور صنعتوں، سب کو اس عمل کا شراکت دار بنانا ہوگا۔
ہم مغربی آسٹریلیا کی اہم معدنیات کی صلاحیت کو اڈیشہ اور گجرات کی مینوفیکچرنگ کی استعداد سے جوڑ سکتے ہیں۔ کوئنزلینڈ اور ٹیسمینیہ کی صاف توانائی اور زرعی مہارت پنجاب، تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کے قابلِ تجدید توانائی کے مراکز اور غذائی پراسیسنگ کے نظام کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز اور وکٹوریہ کے مالیاتی، تعلیمی، طبی ٹیکنالوجی اور اختراعی نظام مہاراشٹر، کرناٹک اور تلنگانہ کے ساتھ مل کر عالمی سطح کے حل تیار کر سکتے ہیں۔ جنوبی آسٹریلیا کی دفاع، خلائی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اتر پردیش اور کیرالہ کے ساتھ مل کر نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
میری تجویز ہے کہ آئندہ برسوں میں ہم ریاست سے ریاست اور شعبے سے شعبے کی بنیاد پر چند مرکوز شراکت داریوں کی نشاندہی کریں اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کریں۔
ساتھیوں!
جمہوری اقدار اور ہند-بحرالکاہل کے مشترکہ وژن کی بنیاد پر ہمارے درمیان گہرااسٹریٹجک اشتراک قائم ہوا ہے۔ ہم اپنی کاروباری شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں، اور اس کوشش میں آپ سب کا کردار نہایت اہم ہے۔
مجھے یقین ہے کہ آج کا یہ تبادلۂ خیال نئے خیالات، نئی شراکت داریوں اور نئے عزم کو جنم دے گا۔
میں ایک بار پھر وزیراعظم کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس پروگرام کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالا۔
آپ سب کو میری جانب سے نیک تمنائیں۔
شکریہ
*******
) ش ح – ع ح –ج ا)
U.No. 9734
(रिलीज़ आईडी: 2282691)
आगंतुक पटल : 17
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
Odia
,
हिन्दी
,
English
,
Assamese
,
Bengali
,
Bengali-TR
,
Manipuri
,
Punjabi
,
Gujarati
,
Kannada
,
Malayalam