صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
مرکزی وزیر صحت جناب جگت پرکاش نڈا نے ٹی بی مکت بھارت ابھیان کی حمایت کو مضبوط بنانے کے لیے نوجوانوں کے امور و کھیل، محنت و روزگار اور دفاع کی وزارتوں کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی
ٹی بی مکت بھارت ابھیان کو ملک گیر عوامی تحریک بنانے کے لیے ہندوستان کے نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانا ضروری ہے: جناب جے پی نڈا
ٹی بی سے پاک ہندوستان کے ہدف کے حصول کے لیے نوجوانوں اور تمام متعلقہ فریقوں کی فعال شمولیت ناگزیر ہے: مرکزی وزیر صحت
دسمبر 2024 میں ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے آغاز کے بعد سے 28 کروڑ سے زائد کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے؛ 39 لاکھ ٹی بی مریضوں کی نشاندہی اور اطلاع دی گئی، جن میں فعال اسکریننگ کے ذریعہ شناخت کیے گئے 12.93 لاکھ بغیر علامات والے مریض بھی شامل ہیں
وزارتوں پر زور دیا گیا کہ وہ نوجوانوں اور این سی سی رضاکاروں کی شمولیت میں اضافہ کریں، کام کی جگہوں پر ٹی بی اسکریننگ کو یقینی بنائیں اور دفاعی اہلکاروں اور کیڈٹس کے ذریعہ کمیونٹی آؤٹ ریچ کو وسعت دیں
प्रविष्टि तिथि:
07 JUL 2026 3:21PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے آج نوجوانوں کے امور و کھیل اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر من سکھ منڈاویہ اور وزارت دفاع کے وزیر مملکت جناب سنجے سیٹھ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی بین الوزارتی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا مقصد مکمل حکومتی نقطۂ نظر (ڈبلیو جی اے) کے ذریعے ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا اور ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے نفاذ کو تیز کرنا تھا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جناب جگت پرکاش نڈا نے حال ہی میں منعقدہ پرگتی جائزہ اجلاس میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ریمارکس کا حوالہ دیا، جن میں وزیر اعظم نے ٹی بی مکت بھارت ابھیان کو ملک گیر عوامی تحریک میں تبدیل کرنے کے لیے ہندوستان کے نوجوانوں کی طاقت سے بھرپور استفادہ کرنے پر زور دیا تھا۔ اس ویژن کے مطابق جناب نڈا نے کہا کہ تپ دق (ٹی بی) کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے حکومت کے تمام شعبوں اور پورے معاشرے کی مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، جن میں ہر وزارت، ادارہ اور متعلقہ فریق اپنی صلاحیت اور رسائی کے مطابق کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، سماجی تنظیموں، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور سرکاری محکموں کی فعال شمولیت عوامی بیداری، بیماری کی بروقت تشخیص، علاج کی پابندی اور مریضوں کی معاونت کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی، جس سے ٹی بی سے پاک بھارت کے قومی ہدف کو حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
نوجوانوں کے امور و کھیل کی وزارت سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر صحت نے وزارت پر زور دیا کہ وہ ایم وائی بھارت ( مائے بھارت) کے رضاکاروں اور نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کے کیڈٹس کی مہم میں شمولیت کو مزید وسعت دے اور موجودہ ٹی بی مکت بھارت ٹولی ماڈل کو مزید مضبوط بنائے۔ انہوں نے وزارت سے کہا کہ اسکریننگ کیمپوں کے لیے رضاکاروں کی قیادت میں عوامی متحرک کاری کو فروغ دیا جائے، تجرباتی تعلیمی پروگرام (ای ایل پی) کے ذریعے رضاکاروں کو‘لیڈ نکشے متر (ایل این کے ایم) کے طور پر تربیت دینے کے نظام کو مستحکم کیا جائے اور اسکولوں، کالجوں اور مقامی برادریوں میں نوجوانوں کی قیادت میں بیداری مہم کو مزید وسعت دی جائے۔
وزارت دفاع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے این سی سی کیڈٹس اور دفاعی اہلکاروں سے مطالبہ کیا کہ وہ کمیونٹی بیداری ریلیوں، اسکریننگ کیمپوں کے لیے عوامی متحرک کاری، گھریلو رابطہ رکھنے والے افراد کی آگاہی اور ٹی بی مریضوں کے لیے غذائی معاونت کی مہمات میں اپنی حمایت کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید وسعت دیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این سی سی کے موجودہ تربیتی کیمپوں، یوم جمہوریہ اور یوم آزادی جیسی تقریبات، ایڈونچر کیمپوں اور دیہی رسائی کے پروگراموں میں ٹی بی سے متعلق بیداری کو بھی شامل کیا جائے۔
اس موقع پر نوجوانوں کے امور و کھیل اور محنت و روزگار کے مرکزی وزیر ڈاکٹر من سکھ منڈاویہ نے ٹی بی مکت بھارت ابھیان کو مزید رفتار دینے کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مربوط کارروائی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً 6 لاکھ انڈرگریجویٹ اور2 لاکھ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ موجود ہیں، جو تربیت یافتہ انسانی وسائل کا ایک بڑا ذخیرہ ہیں، اور انہیں ملک بھر کے میڈیکل کالجوں کے ذریعے اس مہم میں مؤثر انداز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ضلع سطح پر بہتر ہم آہنگی کے لیے ڈاکٹر منڈاویہ نے تجویز دی کہ پرتیبھا سیتو پروگرام (پی ایس پی) کے امیدواروں کو مناسب طور پرضلع ٹی بی رابطہ کمیٹی (ڈی ٹی بی-سی سی) میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت تقریباً 600 افسران حکومت ہند، میڈیکل کالجوں کے ڈینز اور ریاستی حکومتوں کے ضلع ٹی بی افسران کے درمیان مؤثر رابطہ کار کا کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے ضلع سطح پر ٹی بی کے خاتمے سے متعلق منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی مزید مؤثر ہوگی۔
ڈاکٹر منڈاویہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارت تعلیم کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے تاکہ میڈیکل کالجوں، تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کے نیٹ ورکس کے ساتھ بہتر ہم آہنگی قائم ہو، زیادہ سے زیادہ عوامی شرکت کو فروغ ملے، اور ٹی بی مکت بھارت کے ہدف کے حصول کے لیے حکومت کے تمام شعبوں پر مشتمل مشترکہ حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

دسمبر 2024 میں شروع کیے گئے ٹی بی مکت بھارت ابھیان نے فعال مریضوں کی تلاش (اے سی ایف)، مریضوں کی بہتر معاونت اور حکومت کے تمام شعبوں پر مشتمل مشترکہ حکمت عملی (ڈبلیو جی اے) کے ذریعے بھارت میں تپِ دق (ٹی بی) کے خاتمے کی کوششوں کو نمایاں طور پر تیز کیا ہے۔اس مہم کے آغاز کے بعد سے ملک بھر میں خطرے سے دوچار 28 کروڑ سے زائد افراد کی ٹی بی کے لیے اسکریننگ کی جا چکی ہے، جس کے نتیجے میں39 لاکھ سے زائد ٹی بی مریضوں کی نشاندہی اور رجسٹریشن کی گئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ فعال اسکریننگ کے دوران سینے کے ایکسرے کے ذریعے 12.93 لاکھ ایسے ٹی بی مریضوں کی بھی شناخت ہوئی جن میں بیماری کی کوئی ظاہری علامت موجود نہیں تھی۔ اس سے ایسے افراد کی بروقت تشخیص ممکن ہوئی جو بصورتِ دیگر تشخیص سے محروم رہتے اور اپنی برادریوں میں بیماری پھیلانے کا سبب بن سکتے تھے۔

اس مہم نے مریضوں پر مرکوز امدادی نظام کو بھی مزید مضبوط بنایا ہے۔ اس اقدام کے تحت اب تک 5.7 لاکھ سے زائد نکشے متر (این کے ایم) رجسٹر ہو چکے ہیں، جنہوں نے ٹی بی مریضوں میں 38.9 لاکھ غذائیت سے بھرپور امدادی ٹوکریاں (نیو ٹریشن باسکٹس) تقسیم کی ہیں۔ اس کے علاوہ، پروگرام کےتفریق شدہ نگہداشت ( ڈی سی) کے طریق کار کے تحت20 لاکھ سے زائد مریضوں کا جائزہ لے کر انہیں ان کی طبی اور سماجی ضروریات کے مطابق انفرادی نوعیت کی معاونت فراہم کی گئی، تاکہ علاج اور دیکھ بھال ہر مریض کی مخصوص ضروریات کے مطابق یقینی بنائی جا سکے۔
اجلاس میں مختلف شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، تاکہ تپ دق (ٹی بی) کی روک تھام، بروقت تشخیص، علاج کی پابندی، غذائی معاونت اور کمیونٹی کی شمولیت کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جا سکے، ساتھ ہی شریک وزارتوں کی ادارہ جاتی صلاحیتوں اور وسیع عوامی رسائی کے نیٹ ورکس سے بھرپور استفادہ بھی کیا جا سکے۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں کے درمیان مربوط کارروائی کے ذریعے ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد مشترکہ اقدامات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایم وائی بھارت-‘مائے بھارت’ کے رضاکاروں،نیشنل کیڈٹ کور ( این سی سی) کے کیڈٹس اور نوجوانوں کی تنظیموں کے وسیع عوامی رابطہ نیٹ ورک سے استفادہ کرتے ہوئے موجودہ ٹی بی مکت بھارت ٹولی ماڈل کو مزید وسعت دی جائے گی، ٹی بی اسکریننگ کیمپوں کے لیے کمیونٹی کو متحرک کیا جائے گا،تجرباتی تعلیمی پروگرام (ای ایل پی ) کو مزید مضبوط بنا کرلیڈ نکشے مترایل این ایم) تیار کیے جائیں گے اور اسکولوں، کالجوں اور مقامی برادریوں میں نوجوانوں کی قیادت میں بیداری مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔
کام کی جگہوں پر ٹی بی سے متعلق اقدامات کو مؤثر بنانے کے لیے اجلاس میں ایسے ادارہ جاتی فریم ورک کی تیاری پر بھی غور کیا گیا جس کے ذریعے ٹی بی سے پاک کام کی جگہیں ( ٹی بی-فری ورکس پلیس) قائم کی جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے بالخصوص کان کنی، تعمیرات، ٹیکسٹائل، نقل و حمل اور مہاجر مزدوروں جیسے زیادہ خطرے والے شعبوں میں پیشہ ورانہ صحت کے نظام کے ساتھ ٹی بی اسکریننگ کو مربوط کرنے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آجرین، ٹریڈ یونینوں اور مزدوروں کی فلاح و بہبود سے متعلق اداروں، بشمول ایمپلائز اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن (ای ایس آئی سی) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل فیکٹری ایڈوائس سروس اینڈ لیبر انسٹی ٹیوٹس (ڈی جی ایف اے ایس ایل آئی) ، کو متحرک کیا جائے تاکہ کام کی جگہوں پر ٹی بی اسکریننگ کو فروغ دیا جا سکے، مریضوں کے علاج کا تسلسل برقرار رکھا جائے اور ٹی بی کے زیرِ علاج کارکنوں کے لیے معاون اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے تحت عوامی شمولیت کو مضبوط بنانے میں دفاعی اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ نیشنل کیڈٹ کور (این سی سی) کے کیڈٹس اور دفاعی اہلکاروں کے وسیع نیٹ ورک سے مزید مؤثر انداز میں استفادہ کیا جائے تاکہ عوامی بیداری ریلیوں، ٹی بی اسکریننگ کیمپوں کے لیے کمیونٹی کو متحرک کرنے، گھریلو رابطوں ( ایچ ایچ سی) کی آگاہی اور ٹی بی مریضوں کے لیے غذائی معاونت کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں صحت کی سکریٹری محترمہ پنیا سلیلا سریواستو، محکمۂ امورِ نوجوانان کی سکریٹری ڈاکٹر پلوی جین گوول، محکمۂ کھیل کے سکریٹری جناب ہری رنجن راؤ، ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر، نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) محترمہ آرادھنا پٹنائک، آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز کی ڈائریکٹر جنرل وائس ایڈمرل آرتی سرین،ایم وائی بھارت ( مائےبھارت) کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر پرینکا شکلا اور وزارت صحت و خاندانی بہبود، وزارت امور نوجوانان و کھیل، وزارت محنت و روزگار، وزارت دفاع اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
*****
ش ح- ظ الف- ن ع
UR-9651
(रिलीज़ आईडी: 2282034)
आगंतुक पटल : 12