امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

حکومت نے پیاز کی خریداری کی قیمت میں 13 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 2,125 روپے فی کوئنٹل مقرر کر دیا ہے، جس سے پیاز کے کاشتکاروں کو بہتر منافع حاصل ہوگا اور بفر اسٹاک کے لیے خریداری کو مزید مضبوطی ملے گی

प्रविष्टि तिथि: 04 JUL 2026 12:47PM by PIB Delhi

حکومت نے قیمتوں کے استحکام کے بفر اسٹاک کے لیے پیاز کی خریداری کی قیمت میں 13 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 1,875 روپے فی کوئنٹل سے بڑھا کر 2,125 روپے فی کوئنٹل کر دیا ہے۔ نظرثانی شدہ خریداری قیمت 4 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہے۔ حکومت کے پرائس اسٹیبلائزیشن بفر کے لیے نافیڈ  اور این سی سی ایف کے ذریعے پیاز کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ نئی خریداری قیمت سے پیاز کے کاشتکاروں کو بہتر معاوضہ ملے گا اور بفر اسٹاک کی خریداری کی کوششوں کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔

محکمہ زراعت و کسان بہبود کے سال 26-2025 کے دوسرے پیشگی تخمینے کے مطابق، پیاز کی پیداوار 307.37 لاکھ میٹرک ٹن  رہنے کا اندازہ ہے، جو سال25-2024کی 307.67 لاکھ میٹرک ٹن پیداوار کے تقریباً برابر ہے۔ پیداوار کے موجودہ اندازوں کو دیکھتے ہوئے مجموعی دستیابی تشویش کا باعث نہیں ہے، تاہم قیمتوں میں موسمی رجحانات کے مطابق معمولی اضافہ متوقع ہے۔

مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور گجرات میں پیاز کا ذخیرہ وافر مقدار میں موجود ہے اور فی الحال ذخیرہ شدہ پیاز کی قلت کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

ملک بھر میں روزانہ منڈیوں میں پیاز 50 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ آنے کا سلسلہ برقرار ہے، جبکہ صرف مہاراشٹر میں یہ مقدار 30 ہزار میٹرک ٹن سے زائد ہے۔ ان علاقوں میں اوسط خوردہ قیمت تقریباً 18 روپے فی کلوگرام ہے، جبکہ ملک گیر اوسط خوردہ قیمت تقریباً 31 روپے فی کلوگرام ہے۔ بہتر معیار کا پیاز اب بھی ذخیرہ گاہوں میں موجود ہے اور توقع ہے کہ قیمتوں میں کمی آنے پر اسے مارکیٹ میں جاری کیا جائے گا۔

مانسون کی آمد میں تاخیر اور بعض علاقوں میں معمول سے کم بارش کے باعث تاجروں کا ایک طبقہ قیاس آرائی کی بنیاد پر خریداری کر رہا ہے، حالانکہ بڑے صارف مراکز میں موجودہ قیمتوں پر مانگ  میں کوئی خاص اضافہ نہیں دیکھا جا رہاہے۔ صارفین کی منڈیوں میں مجموعی صورتحال مثبت ہونے کے باوجود، ناسک اور مدھیہ پردیش کے بعض پیداواری علاقوں میں سٹہ بازی کی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں، جو حقیقی مانگ  کے بجائے مستقبل میں قیمتوں میں بہتری کی توقعات پر مبنی ہیں۔

پیاز کی برآمدات معمول کے مطابق جاری ہیں اور جون 2026 کے دوران تقریباً 1.50 لاکھ میٹرک ٹن پیاز برآمد کیا گیا۔ تاہم تاجروں کا خیال ہے کہ آئندہ کچھ عرصے کے لیے برآمدات کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، کیونکہ پاکستان اور چین کی نئی فصلیں خلیجی ممالک، سری لنکا اور مشرق بعید کی اہم منڈیوں میں نسبتاً مسابقتی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔

اگرچہ مہاراشٹر کے ناسک علاقے میں خریف سیزن کی بوائی میں تقریباً 15 دن کی تاخیر ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن کرناٹک کے چتردرگ اور چلاکیری علاقوں میں بوائی کی پیش رفت معمول کے مقابلے میں تقریباً 60 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

 

*****

ش ح۔ ع ح۔م ش

 


(रिलीज़ आईडी: 2281445) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam