وزیراعظم کا دفتر
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے راجستھان کے بالوترا میں تقریباً 1.06 لاکھ کروڑ روپئے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا
راجستھان کے لئے ایک بیحد خاص دن، ہوا بازی، توانائی اور رابطے کے شعبوں میں ترقیاتی اقدامات سے بنیادی ڈھانچے مضبوط ہوں گے، ترقی کی رفتار تیز ہو گی اور زندگی میں آسانی بہتر ہو گی : وزیر اعظم
اس بات سے قطع نظر کہ چیلنج کتنا ہی بڑا اور غیر متوقع کیوں نہ ہو، نیا بھارت نہ تو اپنے عزائم سے پیچھے ہٹتا ہے اور نہ ہی اپنی رفتار کو سست کرتا ہے: وزیر اعظم
آج ہی جودھ پور میں نئے ایئرپورٹ ٹرمینل کا افتتاح ہوا ہے ۔ اس سے مارواڑ کےخطے میں سیاحت، تجارت اور روزگار کو ایک نئی تحریک ملے گی: وزیراعظم
اکیسویں صدی کے نئے بھارت کے عزم اور کوششوں کی بدولت 21ویں صدی کے توانائی کے سب سے بڑے بحران پر فتح حاصل ہوئی ہے: وزیر اعظم
بھارت نے ہر سطح پر درست فیصلے کیے، بروقت بحران کا درست اندازہ لگایا، ایک موثر حکمت عملی وضع کی اور ملک کے وسائل کو متوازن طریقے سے استعمال کیا۔ اس سے مثبت طور پر بھارت کی سفارتی قوت کا فائدہ ملا اور اس طرح وہ بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوا: وزیر اعظم
آج، میں اپنے 1.4 بلین شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اظہار ممنونیت کرتا ہوں ۔ مشکل وقت میں ملک کے ساتھ جس پرعزم طریقے سے کھڑے رہے، افواہوں، خوف اور کنفیوژن پھیلانے والوں کا مقابلہ کیا اور عدم استحکام پیدا کرنے والی سازشوں کو ناکام بنایا۔ اسی اعتماد کے بل بوتے پر قوم آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئی ہے: وزیراعظم
اب، شیخاوتی تک پانی پہنچانے کے لیے راجستھان اور ہریانہ کی حکومتیں تعاون کریں گی۔ دونوں صوبوں کے درمیان ایک معاہدے کو بھی حال ہی میں حتمی شکل دی گئی ہے۔ اس معاہدے کی شرائط کے تحت راجستھان کو ہتھنی کنڈ بیراج سے پانی پہنچایا جائے گا، اس مقصد کے لیے زیر زمین پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ سیکر، چورو، جھنجھنو اور پورے ملحقہ شیخاوتی خطے کے باشندے اس پروجیکٹ سے فیضیاب ہوں گے: وزیر اعظم
प्रविष्टि तिथि:
04 JUL 2026 4:50PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج راجستھان کے بالوترا میں تقریباً 1.06 لاکھ کروڑ روپئے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کیا، افتتاح کیا اور ان کا سنگ بنیاد رکھا۔ شدید گرمی کا مقابلہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں یہاں جمع ہونے والے عوام کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اسے اس بات کا مظہر قرار دیا کہ موجودہ حکمرانی پر ان کا اعتماد بڑھا ہے ۔ جناب مودی نے کہا کہ’’ میں راجستھان کی سرزمین کا اس بے پناہ تعاون کے لئے مقروض ہوں، جو ہماری حکومت کی کوششوں پر آپ کے زبردست اعتماد کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے‘‘۔
خطے کے تاریخی ورثے کی عکاسی کرتے ہوئے وزیر اعظم نےصوبے کے ان گنت بہادروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ حقیقی قومی فخر اندرونی طور پر خود کفالت سے منسلک ہے۔ انہوں نے غیر ملکی انحصار کو کم کرنے کے لئے انفرادی وقار اور قوم کی ا سٹریٹجک ضرورت کے درمیان ایک براہ راست متوازی لکیر کھینچی ۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ خواہ یہ کسی فرد کی عزت نفس کی ہو یا ملک کی، یہ تب ہی بلند رہ سکتی ہے جب وہ مکمل طور پر خود انحصار ہو‘‘ ۔
قوم کے نام یادگاری راجستھان ریفائنری کو وقف کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بھارت کے وسیع تر مشن کو جامع ترقی اور اقتصادی آزادی کی طرف لے جانے میں اس کے اہم رول کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ یہ وسیع ریفائنری ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار کے ایک مستقل ذریعہ کے طور پر کام کرے گی اور میں خاص طور پر راجستھان کے نوجوانوں کو اس حصولیابی کے لیے مبارکباد دیتا ہوں‘‘ ۔
انتظامی ورک کلچر میں رونما ہونے والی زبردست تبدیلی پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نےکہا کہ ان کی اپنی حکومت میں پروجیکٹوں پر مسلسل عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے جبکہ سابقہ حکومتوں میں سنگ بنیاد رکھ کر انہیں چھوڑ دیا جاتا تھا ۔ اس مقام پر صرف دو ماہ قبل پیش آنے والے ایک بدقسمت حادثے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ کو بے مثال رفتار سے مکمل کرنے میں افرادی قوت کی غیر معمولی لچک کی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ اس بات سے قطع نظر کہ چیلنج کتنا ہی بڑا اور غیر متوقع کیوں نہ ہو، نیا بھارت نہ تو اپنے عزائم سے پیچھے ہٹتا ہے اور نہ ہی اپنی رفتار کو سست کرتا ہے ‘‘۔
پورے صوبے میں تیز رفتار سلسلہ وار ترقیاتی سنگ میلوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جودھپور میں نئے ائیرپورٹ ٹرمینل کے افتتاح اور دور افتادہ ہوائی رابطے میں انقلاب لانے کے لیے نئی اڑان اسکیم کے مرحلے کے آغاز کا فخر سے جشن منایا۔ ہوا بازی کی ان پیشرفتوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے شیخاوتی خطے میں پانی کے بحران کو ختم کرنے کا وعدہ کیا اور جے پور میٹرو نیٹ ورک کی بڑی توسیع کا اعلان کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ یہ اہم بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ بنیادی طور پر پورے مارواڑ خطے میں سیاحت، تجارت اور روزگار کو ایک نئی تحریک فراہم کریں گے‘‘۔
نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انتظامی استعداد کی سمت بڑے پیمانے پر آگے بڑھنے پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے راجستھان بھر میں تقریباً 54,000 نوجوان امیدواروں میں سرکاری ملازمت کے تقرری ناموں کی تقسیم کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ۔ انہوں نے نوجوانوں کو رسمی طور پر پبلک سروس میں اپنا کیریر شروع کرنے کے لئے انہیں مبارکباد پیش کی ۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’میں آج ان تمام نوجوانوں کے غیر معمولی طور پر روشن اور خوشحال مستقبل کے تئیں اپنی نیک خواہشات ظاہر کرتا ہوں جنہیں آج یہ تقرری نامے موصول ہوئے ہیں‘‘ ۔
جغرافیائی سیاسی توجہ کو مغربی ایشیا میں تباہ کن تنازعات کی طرف مبذول کراتے ہوئے وزیر اعظم نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عدم استحکام سے بڑے پیمانے پر دنیا بھر میں ہنگامہ برپا ہے۔ انہوں نے صورتحال کو 21ویں صدی کا سب سے شدید توانائی بحران قرار دیا، جس سے بڑی ترقی یافتہ قومیں بھی ایندھن کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے، پوری دنیا میں ہنگامہ برپا ہے اور بڑے ممالک آج ایندھن کی قلت سے نبرد آزما ہیں ‘‘۔
مضبوط گھریلو لچک کے ساتھ اس بین الاقوامی مایوسی کا مقابلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے معیشت کو کامیابی سے محفوظ رکھنے کا کریڈٹ قوم کے درست اسٹریٹجک جائزوں، وسائل کے متوازن استعمال اور فعال سفارت کاری کو دیا ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جدید ہندوستانی ریاست کی غیر متزلزل قوت ارادی عالمی جھٹکوں پر بھاری پڑی ہے ۔ ’’بھارت نے ہر سطح پر درست فیصلے کیے، بروقت بحران کا درست اندازہ لگایا اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے اپنی سفارتی طاقت کا مثبت استعمال کیا ‘‘ ۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران افواہیں اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کی مذمت کی اور اسی کے ساتھ تحمل ، دن و رات انتظامی تدبیروں اور حساس سفارتی اقدامات کے بے مثال پیمانے کی ستائش کی ۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’جب کچھ طاقتیں افواہیں پھیلانے میں مصروف تھیں، صورتحال سے نمٹنے کے لیے پالیسی اور سفارتی سطح پر جو حساس اقدامات کیے گئے وہ بالکل بے مثال تھے‘‘ ۔
ٹل جانے والی تباہی کے پیمانے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے انکشاف کیا کہ تنازعہ سے قبل ، ہندوستان اپنی ایل پی جی کے 60 فیصد کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا تھا، جس میں سے 90 فیصد خاص طور پر انتہائی غیر مستحکم خلیجی خطے سے آتا تھا۔ انہوں نے ملک میں خوف وگھبراہٹ پیدا ہونے کی ایک واضح تصویر پیش کی جو اس وقت پیدا ہوتی جب جنگ نے اچانک ان اہم سپلائی لائنوں کو بند کر دیا تھا ۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ آپ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جب جنگ کی صورتحال نے اس اہم سپلائی کو تقریباً مکمل طور پر روک دیا تھا، تو اس وقت کیا ہنگامہ برپا ہونے والا تھا‘‘ ۔
ہنگامی انسدادی اقدامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ کس طرح گھریلو ریفائنریز کی صلاحیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ صنعتی کام کے لئے جو گیس بنتی تھی، اس کی جگہ ریفائنریز کو رسوئی گیس- ایل پی جی بنانے کے لئے کہا گیا۔ انہوں نے فخر کے ساتھ کہا کہ صرف سات دنوں کے اندر ان تدبیری تبدیلیوں نے قومی ایل پی جی کی پیداوار کو 35,000 میٹرک ٹن سے بڑھا کر 54,000 میٹرک ٹن تک پہنچا دیا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ ہماری ریفائنریز پر فعال طور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، وہ سہولیات جنہوں نے قبل ازیں کبھی بھی ایل پی جی کی پیداوار نہیں کی تھی ، چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیزی سے انہیں کنفیگر کیا گیا ۔
صارفین کے تحفظ کی جامع حکمت عملیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے روایتی سلنڈر گیس کی بڑے پیمانے پر قومی مانگ کو کم کرنے کے لیے پی این جی (پائپڈ قدرتی گیس) کنکشن کی توسیع کی وضاحت کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے ناقابل یقین حد تک مختصر مدت میں 11 لاکھ گھرانوں کو پائپڈ نیٹ ورک سے کامیابی کے ساتھ جوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ حکومت نے خاص طور پر اس بات کو یقینی بنایا کہ کھانا پکانے کی گیس کی مانگ کا سارا بوجھ صرف ایل پی جی پر نہ پڑے‘‘ ۔
شہریوں کو فراہم کردہ مالی تحفظ پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے باوجود کہ مارکیٹ کے ماہرین یہی پیشین گوئی کر رہے تھے کہ گھریلو سلنڈر کی قیمت 2000 روپئے تک پہنچ سکتی ہے، حکومت نے سختی سے قیمتوں کو 950 روپے سے نیچے رکھا اور اجولا سلنڈر 650 روپے سے کم میں فراہم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے صرف دو دن قبل کمرشیل گیس کی قیمتوں میں تخفیف کی تھی۔ جناب مودی نے زور دے کر کہا،’’ قیمتوں پر پیشگی قابو پانا واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ہماری حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کتنی حساسیت سے کام کر رہی ہے کہ گھریلو صارفین پر بھاری بوجھ نہ پڑے‘‘۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر ہونے والے شدید اضافے کے بارے میں بات کرتے ہوئے جہاں خام تیل 70 سے 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھ گیا، وزیر اعظم نے سامعین کو یاد دلایا کہ ہندوستان میں تیل کے بڑے بڑے کنوئیں نہیں ہیں ۔ انہوں نے یاد کیا کہ کس طرح متعدد ممالک سخت ایندھن کوٹہ نظام نافذ کرنے پر مجبور ہوئے کیونکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ جناب مودی نے کہا کہ ’’ دنیا کے بہت سے ممالک میں، بند درآمدی راستوں کی وجہ سے ڈیزل اور پٹرول کو کوٹے کی بنیاد پر سختی سے تقسیم کیا جا رہا ہے‘‘۔
شہریوں کے تحفظ کے لیے حکومت کے ذریعہ دی گئی مالی قربانیوں کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے صرف اپریل اور جون کی مدت کے دوران 75000 کروڑ روپے سے زائد کا بڑا نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے دور دراز واقع علاقوں میں بھی بلارکاوٹ اور کفایتی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے محصول میں 10 روپے کی کٹوتی کے فیصلے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’بھارت میں، اتنی بڑی قلت کی صورتحال ایک دن بھی پیدا نہیں ہوئی، اور ہم نے عوام پر زیادہ بوجھ بھی نہیں آنے دیا۔‘‘
سپلائی کی شدید کی قلت پر قابو پانے کا سہرا بھارت کی مضبوط اور فعال خارجہ پالیسی کے سر باندھتے ہوئے، وزیر اعظم نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح ملک نے حکمتِ عملی کے تحت اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ایندھن درآمد کرنے والے ممالک کی تعداد، جو محض 25-26 تھی، کو بڑھا کر 40 سے زائد ممالک تک پہنچایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس فیصلہ کن قدم نے عالمی برادری کو ایک طاقتور اور واضح پیغام دیا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’ بھارت نے پوری دنیا کو بالکل واضح پیغام دیا ہے کہ ہمارے لیے، قومی مفاد اور ہمارے شہریوں کی فلاح و بہبود سب سے اہم ہیں۔‘‘
ملک کی اس مضبوطی کی جڑیں ایک دہائی پر محیط انتہائی بصیرت افروز پالیسی سازی سے جوڑتے ہوئے، وزیر اعظم نے موجودہ حکومت کے تحت راجستھان ریفائنری کی تیز رفتار تکمیل کا موازنہ اس مکمل رکاوٹ سے کیا جس کا اسے سابقہ حکومت کے عدم تعاون کی وجہ سے 2018 اور 2023 کے درمیان سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے یہ بات بھی کہی کہ اس کا اصل معاہدہ سال 2017 میں ہی طے پا گیا تھا۔ جناب مودی نے کہا، ’’جیسے ہی موجودہ حکومت برسرِ اقتدار آئی، کام تیزی سے آگے بڑھا، اور آج ہم اسے قوم کے نام وقف کر رہے ہیں۔‘‘
عالمی سطح پر بھارت کی صنعتی ترقی کا احاطہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جہاں امریکہ نے گذشتہ 50 برسوں میں کوئی نئی ریفائنری نہیں بنائی اور یورپ کی صلاحیت مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے، وہیں بھارت نے فخر کے ساتھ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی ریفائنری صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اس کلیدی صلاحیت کو مزید بڑھایا جائے گا۔ جناب مودی نے کہا، ’’اِن اَن تھک کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت نے صدی کے سب سے بڑے توانائی بحران کا کامیابی سے مقابلہ کیا اور مکمل طور پر اس بحران سے نکل کر باہر آیا۔‘‘
زرعی شعبے کی کمزوریوں کی جانبتوجہ مبذول کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے یوکرین جنگ کے باعث پیدا ہونے والی کھاد کی شدید قلت کے بارے میں بات کی، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر یوریا کی قیمتیں 3,000 روپے فی بوری سے تجاوز کر گئی تھیں۔ انہوں نے ایک بڑے کثیر جہتی دفاعی ردعمل کا خاکہ پیش کیا، جس میں لاکھوں کروڑ روپے کی سبسڈی کے ذریعے یوریا کو محض 300 روپے میں فراہم کرنا، متبادل عالمی راستے محفوظ کرنے کے لیے سفارت خانوں کو ذمہ داری سونپنا، اور فطری طریقہ کاشت کو بھرپور طریقے سے فروغ دینا شامل ہے؛ انہوں نے ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف سخت کارروائی پر بھی زور دیا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’بڑے پیمانے پر دی جانے والی رعایات اور متبادلہ سپلائی چینوں کے ذریعہ، ہم نے اس امر کو یقینی بنایا کہ ہمارے کاشتکاروں کو کم سے کم قیمتوں پر اہم کھاد حاصل ہو۔‘‘
صنعتی ریڑھ کی ہڈی کے تحفظ کی انتہائی اہمیت پر زور دیتے ہوئے، وزیر اعظم نے بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتی اکائیوں (ایم ایس ایم ایز) کو آسمان چھوتی ہوئی آپریشنل لاگت سے بچانے کے لیے 'ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم' کے اگلے مرحلے کے اسٹریٹجک نفاذ کی وضاحت کی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ 100 فیصد سرکاری گارنٹی سے بینکوں سے اضافی 20 فیصد قرض کی سہولت فراہم کر کے، چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کو معاشی تباہی سے مؤثر طریقے سے بچایا گیا۔ جناب مودی نے کہا، ’’یہ اس طرح کے متعدد اہم مالی اقدامات کا ہی نتیجہ ہے کہ ہماری چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو آج مکمل طور پر تحفظ کا احساس ہو رہا ہے۔‘‘
بھارت کے 140 کروڑ شہریوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ملک کے اجتماعی استحکام کا سہرا حکومت اور عوام کے درمیان گہرے باہمی اعتماد کے سر باندھا۔ انہوں نے مشکل وقت میں غیر معمولی طور پر مضبوط رہنے، خوف و ہراس پھیلانے کی غرض سے کی جانے والی بدنیتی پر مبنی سازشوں کو فعال طور پر ناکام بنانے، اور بالآخر ان گروہوں کو مایوس کرنے پر عوام کی تعریف کی جو بے صبری سے بھارت کی ناکامی کی پیش گوئیاں کر رہے تھے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ملک اپنے غیر معمولی طور پر مضبوط شہریوں کے غیر متزلزل یقین اور بڑی صلاحیتوں کی طاقت کے بل بوتے پر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ چکا ہے۔‘‘
بنیادی ڈھانچے کی بڑی ترقی کو ماحولیاتی ذمہ داری سے جوڑتے ہوئے، وزیر اعظم نے متبرک 'کھیجڑی' کا پودا لگانے کا بڑا اعزاز حاصل ہونے پر اظہار خیال کیا، اور زمین کے بنجر ہونے کو روکنے میں اس کے اہم نباتاتی کردار کو سراہا۔ قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی کے بارے میں تفصیل سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے عالمی معیار کے سولر پارکوں کے قیام، 'پی ایم سوریہ گھر اسکیم' کے تحت 1.5 لاکھ سے زیادہ گھروں کو جوڑنے، اور 'پی ایم کسم یوجنا' کے ذریعے مقامی کاشتکاروں کو 65,000 سے زائد سولر پمپوں کی فراہمی پر روشنی ڈالی۔ جناب مودی نے کہا، ’’اس پودے کو لگانے سے ہماری کام کاج کی ثقافت اجاگر ہوتی ہے، اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں ترقی کی نئی بلندیاں سر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ماحولیات کو بھی سختی کے ساتھ تحفط کرنا چاہئے۔‘‘
علاقائی پانی کے دیرینہ تنازعات کے تاریخی حل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے راجستھان میں پانی کی شدید قلت کو نظر انداز کرنے پر سابقہ حکومتوں پر سخت تنقید کی، اور اس کا موازنہ موجودہ حکومت کے اشتراکِ عمل پر مبنی 'ملک کو اولیت' کے نظریے سے کیا۔ انہوں نے گجرات کی اس تاریخی مثال کا حوالہ دیا جب اس ریاست نے راجستھان کے دیہاتوں کے ساتھ ماں نرمدا کا پانی بخوشی ساجھا کیا تھا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’ مشکل ترین عزائم بھی کامیابی سے حاصل ہو جاتے ہیں جب ان کے پس پشت نیت صاف اور سچی ہو۔‘‘
راجستھان اور ہریانہ کی حکومتوں کے درمیان 34,000 کروڑ روپے کے ایک تاریخی معاہدے کا فخر سے اعلان کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ہتھنی کنڈ بیراج سے زیرِ زمین پائپ لائن بچھانے کے منصوبے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بے مثال باہمی رضامندی سیکر، چورو، جھنجھنو اور پورے شیخاوتی خطے کے لاکھوں باشندوں کے لیے مؤثر طریقے سے حیات بخش پانی فراہم کرے گی۔ جناب مودی نے کہا، ’’اب جبکہ مرکز اور ریاست دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے، تو پہلی مرتبہ باہمی رضامندی سے کامیابی کے ساتھ حل تلاش کر لیے گئے ہیں۔‘‘
مستقبل کے آبی بنیادی ڈھانچے (ہائیڈرو انفراسٹرکچر) کے منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے، وزیر اعظم نے دیہی علاقوں میں نل کے پانی کی فراہمی کے 'رام جل سیتو' پروجیکٹ کے ساتھ ساتھ، اپر یمنا بیسن میں رینوکا، لکھوار، اور کیشاؤ ڈیموں کی تکمیل کے مستقبل کے انقلابی فوائد کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے 'جل سنچے، جن بھاگیداری' (پانی کا تحفظ، عوامی شراکت داری) مہم کی شاندار کامیابی کا جشن بھی منایا، جس کے تحت ملک بھر میں 25 لاکھ سے زائد اور راجستھان میں 1.25 لاکھ سے زیادہ سوک پٹس (پانی جذب کرنے والے گڑھے) بنائے گئے ہیں تاکہ زیرِ زمین پانی کی انتہائی گرتی ہوئی سطح کو نمایاں طور پر بہتر بنایا جا سکے۔ جناب مودی نے کہا، ’’ان بڑی مشترکہ کوششوں کے ذریعہ، قیمتی پانی کا منظم طریقے سے تحفظ کیا جا رہا ہے اور علاقے میں زیر زمین پانی کی سطح مستحکم طریقے سے بہتر ہو رہی ہے۔‘‘
اس امر کا اعادہ کرتے ہوئے کہ راجستھان کو ملک کے جدید ترین بنیادی ڈھانچے کو آگے بڑھانے کی مہم مرکزی حیثیت حاصل ہے، وزیر اعظم نے جودھپور ہوائی اڈے کے نئے ٹرمینل اور جے پور میٹرو کے مرحلہ-2 کے سنگِ بنیاد کو مستقبل کی ترقی کے لیے بنیادی عوامل کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے خاص طور پر کہا کہ مرحلہ-2 جے پور کے کل نیٹ ورک کو 50 کلومیٹر سے آگے تک وسعت دے گا، جو مشرقی-مغربی اور شمالی-جنوبی راہداریوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے آپس میں مربوط کر کے مقامی لوگوں اور سیاحوں دونوں کے لیے سہولت کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔ جناب مودی نے کہا، ’’آج، جدید بنیادی ڈھانچہ اتنی تیزی کے ساتھ تعمیر کیا جا رہا ہے کہ نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں۔‘‘
اپنے خطاب کے آخر میں، وزیر اعظم نے عوام کو اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ تبدیلی کے وسیع تر نیٹ ورکس اور توانائی پروجیکٹس ریاست کے تغیراتی سفر کا آغاز ہیں۔ انہوں نے موجودہ قیادت کے تحت ریاست کے نئے خوشحال مستقبل کی مشترکہ طور پر تعمیر کے لیے عوام کی مسلسل حمایت کا اظہار کیا۔ جناب مودی نے زور دیتے ہوئے کہا، ’’مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری حکومت کے لیے آپ کے آشیرواد کے ساتھ، ہم مل کر راجستھان کے لیے ایک نیا شاندارمستقبل تعمیر کریں گے۔‘‘
**********
(ش ح –ن ا ۔س ا)
U.No:9554
(रिलीज़ आईडी: 2281182)
आगंतुक पटल : 6