زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
این آر اے اے کی مالی اعانت یافتہ وائلڈ رائس کنزرویشن پروجیکٹ کو آسام میں اہم سنگ میل حاصل ہوا
سونیت پور میں برجولی سائٹ کو حیاتیاتی تنوع کی وراثت کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
02 JUL 2026 11:19AM by PIB Delhi
وزارت زراعت اور کسانوں کی بہبود کے تحت نیشنل رینفیڈ ایریا اتھارٹی (این آر اے اے) نے آسام کے ضلع سونیت پور میں وائلڈ رائس (اوریزا روفیپوگون) کے ’’ان سیٹو کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ‘‘نامی اپنی مالی اعانت کے پروجیکٹ کے ذریعے ہندوستان کے وائلڈ رائس کے جینیاتی وسائل کے تحفظ میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے ۔ اس پروجیکٹ کو 2022 سے آئی سی اے آر-نیشنل بیورو آف پلانٹ جینیٹک ریسورس (آئی سی اے آر-این بی پی جی آر) نئی دہلی نے آسام اسٹیٹ بائیو ڈائیورسٹی بورڈ کے اشتراک سے نافذ کیا ہے ۔
آئی سی اے آر-این بی پی جی آر کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر چندر شیکھر کمار ، آئی اے ایس ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ، این آر اے اے سے ملاقات کی اور انہیں وائلڈ رائس کے جرمپلازم کی دریافت ، تحفظ اور خصوصیت میں پروجیکٹ کی حصولیابیوں سے باخبر کیا ۔ ٹیم نے بتایا کہ آسام کے ضلع سونیت پور میں برجولی سائٹ ، جس کی نشاندہی پروجیکٹ کے تحت کی گئی ہے ، کو نیشنل بائیو ڈائیورسٹی اتھارٹی نے بائیو ڈائیورسٹی ہیریٹیج سائٹ کے طور پر نوٹیفائی کیا ہے ۔ یہ شناخت ہندوستان کے بھرپور وائلڈ رائس کے تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی لحاظ سے مستحکم زراعت کو مضبوط بنانے کی طرف بڑا قدم ہے ۔
تحقیقاتی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر چندر شیکھر کمار نے کہا کہ وائلڈ رائس کی انواع ماحولیاتی لحاظ سے مضبوط ، زیادہ پیداوار دینے والی اور تغذیہ کے لحاظ سے بہتر چاول کی اقسام تیار کرنے کے لیے انمول جینیاتی ذریعہ ہیں ۔ انہوں نے ہندوستانی زراعت کی لچک ، پائیداری اور طویل مدتی خوراک تحفظ کو مضبوط کرنے کے لیے ملک بھر میں دیگر فصلوں کی مساوی انواع کے لیے اسی طرح کے تحفظ کے اقدامات کو دہرانے کی ضرورت پر زور دیا ۔
ڈاکٹر پنکج کمار شاہ ، ڈائریکٹر (زراعت اور باغبانی) این آر اے اے اور ڈاکٹر انل کمار مشرا ، تکنیکی ماہر (واٹرشیڈ مینجمنٹ) این آر اے اے نے میٹنگ کی سہولت فراہم کی ۔
***
ش ح۔م ش ع۔ع د
Urdu No. 9449
(रिलीज़ आईडी: 2280238)
आगंतुक पटल : 7