دیہی ترقیات کی وزارت
حکومت نے وی بی–جی رام جی ایکٹ-2025 کے تحت نظرثانی شدہ اجرت کی شرحوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اجرت کی شرحوں میں اضافہ، کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں مقررہ یومیہ اجرت 300 روپے سے کم نہیں، اوسطاً 10 فیصد سے زیادہ اضافہ
اتر پردیش، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال، آسام، اروناچل پردیش اور ہماچل پردیش میں اجرت کی شرحوں میں 15 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوگا
کیرالہ، ہریانہ، پنجاب اور کرناٹک میں یومیہ اجرت کی شرح 360 روپے سے بڑھ کر 409 روپے تک ہوگی
تاریخی طور پر کم اجرت والی ریاستوں میں سب سے زیادہ اضافہ، جس سے لاکھوں دیہی مزدوروں کے ذریعۂ معاش کو مزید مضبوطی ملے گی
प्रविष्टि तिथि:
30 JUN 2026 11:46PM by PIB Delhi
حکومت ہند نےوکست بھارت – روزگار اور آجیویکا گارنٹی مشن (دیہی) [وی بی–جی ریم جی] ایکٹ، 2025 کے تحت قابل ادائیگی نظرثانی شدہ یومیہ اجرت کی شرحوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جو یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اسی روز ملک بھر میں اس ایکٹ کا باضابطہ آغاز بھی کیا گیا ہے۔
نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن دیہی روزگار اور ذریعۂ معاش کو مضبوط بنانے، اجرتوں میں اضافہ، علاقائی تفاوت کو کم کرنے اور محنت کی عزت و وقار کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس نوٹیفکیشن کی نمایاں خصوصیت 300 روپے کی عبوری بنیادی یومیہ اجرت کا نفاذ ہے، جس کے تحت اس پروگرام میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے لیے مقررہ یومیہ اجرت 300 روپے سے کم نہیں ہوگی۔
دیہی ترقی اور زراعت و کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا:
‘‘وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہماری حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ ترقی کے ثمرات ہر غریب خاندان تک پہنچیں۔ وی بی–جی رام جی ایکٹ کا آغاز خوشحال دیہات کے ذریعے وکست بھارت کی تعمیر کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ہم نے روزگار کی گارنٹی کو بڑھا کر 125 دن کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی مزدوروں کے لیے بہتر اجرت کو بھی یقینی بنایا ہے۔ جن ریاستوں میں تاریخی طور پر اجرتیں کم تھیں، وہاں سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے تاکہ جنہیں سب سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے، وہ زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔ اجرتوں میں یہ تاریخی نظرثانی دیہی روزگار کو مضبوط کرے گی، لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ کرے گی اور دیہی بھارت میں جامع و ہمہ گیر ترقی کو مزید تیز کرے گی۔’’
ملک بھر میں اجرتوں میں تاریخی اضافہ
نظرثانی شدہ اجرتی نوٹیفکیشن کے تحت تمام ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مختلف اجرتی خطوں میں یومیہ اجرت کی شرحوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جو قومی دیہی روزگار پروگرام کے تحت اب تک کی نمایاں ترین اجرتی نظرثانیوں میں سے ایک ہے۔
اہم نکات درج ذیل ہیں:
- تمام 34 ریاستوں- مرکز کے زیرانتظام علاقوں اور اجرتی خطوں میں یومیہ اجرت کی شرحوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
- 21 ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور انتظامی اکائیوں کی اجرتوں کو بڑھا کر300 روپے کی نئی عبوری بنیادی یومیہ اجرت تک پہنچا دیا گیا ہے۔
- قومی سطح پر مقررہ اوسط یومیہ اجرت منریگا ( ایم جی این آر ای جی اے) کے تحت298.8 روپے سے بڑھ کر وی بی–جی رام جی کے تحت یہ اجرت 327.4 روپے ہو گئی ہے، یعنی اوسطاً28.6 روپے یومیہ کا اضافہ۔
- ملک بھر میں اوسط اضافہ10 فیصد سے زیادہ ہے۔
وی بی–جی رام جی کے تحت 300 روپے دیہی یومیہ اجرت کا نیا قومی معیار
قومی دیہی روزگار پروگرام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ300 روپے یومیہ کی عبوری بنیادی اجرت متعارف کرائی گئی ہے۔
اس نوٹیفکیشن سے قبل کئی ریاستوں میں یومیہ اجرت 300 روپے سے کم تھی، جبکہ سب سے کم مقررہ اجرت 241 روپے یومیہ تھی۔ نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن کے بعد ایسی تمام ریاستوں کی اجرت بڑھا کر300 روپے کر دی گئی ہے، جس سے دیہی مزدوروں کی آمدنی کے تحفظ میں نمایاں بہتری آئے گی اور مختلف ریاستوں کے درمیان اجرت کے دیرینہ تفاوت میں بھی کمی ہوگی۔ اس نئی عبوری بنیادی اجرت سے ملک کی 21 ریاستوں اور انتظامی اکائیوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔
تاریخی طور پر کم اجرت والی ریاستوں کو سب سے زیادہ فائدہ
نظرثانی شدہ اجرتی ڈھانچہ اس انداز سے تیار کیا گیا ہے کہ تاریخی طور پر کم اجرت والی ریاستوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے، تاکہ مساوات اور متوازن علاقائی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
اروناچل پردیش اور ناگالینڈ میں مزدوروں کی یومیہ اجرت میں تقریباً 24.5 فیصد کا سب سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہاتر پردیش، اتراکھنڈ، بہار، جھارکھنڈ، آسام، تری پورہ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش، اڈیشہ اور متعدد دیگر ریاستوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
پہلے سے زیادہ اجرت والی ریاستوں میں بھی اضافہ
جن ریاستوں میں پہلے ہی یومیہ اجرت عبوری بنیادی شرح سے زیادہ تھی، ان کی اجرتوں پر بھی مقررہ طریق کار کے مطابق نظرثانی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے بعدہریانہ (409 روپے) ،گوا (406 روپے) ،کیرالہ (401 روپے) اورسکم کے بلند پہاڑی گرام پنچایت علاقوں (450 روپے) میں مقررہ یومیہ اجرت 400 روپے سے زیادہ ہو گئی ہے، جبکہ سابقہ اجرتی ڈھانچے میں صرف ایک اجرتی خطہ ایسا تھا جہاں اجرت 400 روپے سے زائد تھی۔
شفاف اور سائنسی بنیادوں پر اجرتوں کا تعین
نظرثانی شدہ اجرتیں وی بی–جی رام جی ایکٹ- 2025 کی دفعات کے تحت ایک شفاف، معروضی اور سائنسی طریق کار کی بنیاد پر مقرر کی گئی ہیں۔ اس نوٹیفکیشن میں سالانہ اشاریہ بندی (اے آئی) کو نئی 300 روپے کی عبوری بنیادی اجرت کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے تاکہ دیہی مزدوروں کو منصفانہ اجرت فراہم کی جا سکے اور تاریخی اجرتی تفاوت کو کم کیا جا سکے۔
وکست بھارت کے ویژن کے تحت دیہی خوشحالی کو فروغ
نظرثانی شدہ اجرتی نوٹیفکیشن وی بی–جی رام جی ایکٹ- 2025 کی انقلابی دفعات کی تکمیل کرتا ہے، جس کے تحت ہر اہل دیہی خاندان کو ایک سو پچیس (125) دن کی ضمانت شدہ اجرتی روزگار فراہم کیا جائے گا۔
توسیع شدہ روزگار کی ضمانت اور بہتر اجرتی شرحوں کے امتزاج سے دیہی آمدنی میں اضافہ، قوت خرید میں بہتری، پائیدار دیہی اثاثوں کی تخلیق اور جامع و پائیدار دیہی ترقی کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اس ایکٹ کے نفاذ اور نظرثانی شدہ اجرتی شرحوں کے نوٹیفکیشن کا اجرا غریب کلیان، انتیودیہ اور‘وکست بھارت @2047’ کے ویژن کی تکمیل کی جانب حکومت کے عزم کا ایک اور اہم سنگ میل ہے، تاکہ بھارت کی ترقی کے ثمرات ہر گاؤں اور ہر دیہی خاندان تک پہنچ سکیں۔
********
ش ح- ظ الف- ع ن
UR-9374
(रिलीज़ आईडी: 2279677)
आगंतुक पटल : 12