صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر صحت جناب جے پی نڈا  16ویں سی سی ایچ ایف ڈبلیو میٹنگ کے دوران انیمیا مکت بھارت ابھیان – آپریشنل رہنما خطوط جاری کریں گے


نئے رہنما خطوط انیمیا کے مرض کو کم کرنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے 7x7x7 حکمت عملی، ٹی 4 نقطہ نظر اور ملک گیر جن بھاگیداری مہم متعارف کرائیں گے

انیمیا مکت بھارت اب مزید جامع، عوام پر مرتکز اور تکنالوجی پر مبنی نظریے کے ساتھ ’انیمیا مکت بھارت ابھیان‘ میں تبدیل ہو جائے گا

प्रविष्टि तिथि: 28 JUN 2026 1:44PM by PIB Delhi

انیمیا سے نمٹنے کے لیے بھارت کی کوششوں میں اضافہ کرنے کی غرض سے اٹھائے گئے ایک اہم قدم کے تحت، صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جے پی نڈا  نئی دہلی کے وگیان بھون میں 29 جون 2026 کو منعقد ہونے والی سینٹرل کونسل آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر (سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کی 16ویں میٹنگ کے دوران انیمیا مکت بھارت (اے ایم بی) ابھیان – آپریشنل رہنما خطوط جاری کریں گے۔

رہنما خطوط کا اجراء  انیمیا کے خلاف بھارت کی نبردآزمائی میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر نمایاں ہوگا، کیونکہ پروگرام انیمیا مکت بھارت سے انیمیا مکت بھارت ابھیان میں تبدیل ہو رہا ہے، جس سے  اس پروگرام کے ایک مزید جامع، عوام پر مرتکز اور تکنالوجی سے آراستہ پہل قدمی میں تبدیل ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ اجراء اس پروگرام کے تغیر کو رسمی شکل بھی دے گا، جس سے اس کے ایک جامع نقطہ نظر میں تبدیل ہونے کا اظہار ہوتا ہے جو آئرن کی کمی کو پورا کرنے سے لے کرجامع ٹیسٹنگ، علاج کے طریقہ کار، صحیح خوراک لینے، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور جن چیتنا کے ذریعہ برادری کی شراکت داری تک کا احاطہ کرتا ہے۔

یہ رہنما خطوط ساتویں استفادہ کنندہ گروپ کو متعارف کراکے موجودہ 6x6x6 حکمت عملی کو توسیع دے کر 7x7x7 فریم ورک میں تبدیل کریں گے، جو کہ ایک ساتویں مداخلت اور ساتواں ادارہ جاتی طریقہ کار ہے۔ زندگی کے سب سے شروعاتی مرحلے سے انیمیا، پیدائش کے وقت بچوں کا کم وزن ہونا(ایل بی ڈبلیو) جیسی بیماریوں سے نمٹنے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انہیں ساتویں استفادہ کنندہ گروپ میں شامل کیا جائے گا۔

"ایٹنگ رائٹ" (صحیح کھانا) طریقہ کار، جو روزمرہ کی عادت کے طور پر آئرن سے بھرپور اور متنوع غذاؤں کے باقاعدہ استعمال کو فروغ دے گا، اسے ساتویں مداخلت کے طور پر متعارف کرایا جائے گا، جبکہ ڈیجیٹل ٹریکنگ کی مدد سے مضبوط بنایا گیا نگرانی اور تشخیص کا فریم ورک ساتویں ادارہ جاتی طریقہ کار کے طور پر کام کرے گا۔

اس ابھیان کی ایک اہم خصوصیت ٹی3 طریقہ کار (ٹیسٹ، ٹریٹ، ٹاک) سے ٹی4 طریقہ کار (ٹیسٹ، ٹریٹ، ٹاک اور ٹریک) میں منتقلی ہوگی۔ نظر ثانی شدہ حکمتِ عملی میں ہیموگلوبن کی تیز تر ٹیسٹنگ، انیمیا کے انتظام کے قومی پروٹوکول کے مطابق آئرن کی کمی سے ہونے والے انیمیا کے علاج، ریفرل اور فالو اپ کے لیے مستحقین کی باقاعدہ ٹریکنگ، اور صحت بخش غذائی عادات کی حوصلہ افزائی کے لیے ہدفی کونسلنگ پر زور دیا جائے گا۔

حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین میں شدید انیمیا اور علاج کا اثر نہ لینے والی مریضات  کی دیکھ بھال کے لیے، فیرک کاربوکسی مالٹوز (ایف سی ایم) اور آئرن سکروز کا استعمال کرتے ہوئے 'انٹرا وینس آئرن تھراپی'  کو ایک اہم کلینیکل مداخلت کے طور پر شامل کیا جائے گا۔

یہ رہنما خطوط مستحقین کے گروہوں میں انیمیا کی خدمات کی نگرانی کے لیے ایک مضبوط ڈیجیٹل ایکو سسٹم بھی قائم کریں گے۔ حاملہ خواتین کے ہیموگلوبن ٹیسٹنگ کے ریکارڈ کو 'جننی  پورٹل' کے ذریعے منسلک کیا جائے گا، جبکہ بچوں کے ریکارڈ کو 'آر بی ایس کے ' اور 'یو-وِن ' پورٹلز کے ذریعے محفوظ کیا جائے گا۔ یہ تمام پلیٹ فارمز ایک مشترکہ 'اے ایم بی ابھیان پورٹل' میں ضم ہو جائیں گے، جو جامع نگرانی، تجزیہ اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو ممکن بنائے گا۔

16ویں سی سی ایچ ایف ڈبلیو میٹنگ کے دوران آپریشنل رہنما خطوط کا اجراء غذائیت اور زچہ و بچہ کی صحت کی بہتری کے تئیں حکومت کی عہدبستگی کا اعا دہ کرے گا اور  ایک صحت مند اور انیمیا سے مبرا بھارت کی جانب پیشرفت کو تیز کرے گا۔


**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:9260


(रिलीज़ आईडी: 2278604) आगंतुक पटल : 36
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Gujarati , English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Punjabi , Tamil , Malayalam