PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

ڈیجیٹل انڈیا


تبدیلی کے 11 سال

प्रविष्टि तिथि: 27 JUN 2026 4:51PM by PIB Delhi

ڈیجیٹل انڈیا پروگرام نے اس بات کی تشکیل کی ہے کہ شہری ملک بھر میں عوامی خدمات سے کس طرح جڑتے ہیں، سیکھتے ہیں، لین دین کرتے ہیں اور ان تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ پچھلے 11 سالوں میں، ہندوستان نے بڑے پیمانے پر دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ایکو سسٹمز میں سے ایک قائم کیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں نے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، ہنرمندی، زراعت اور فلاح و بہبود تک رسائی کو بڑھایا ہے، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں۔ ہندوستان ڈیجیٹل ادائیگیوں اور ڈیجیٹل گورننس میں اختراع کے حوالے سے بھی عالمی رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔ انڈیا اسٹیک کی رسائی اب متعدد ممالک تک ہو چکی ہے، جس کے ساتھ ہی ڈیجیٹل انڈیا جامع، شہریوں پر مرکوز اور ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی میں ہندوستان کی عالمی قیادت کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

ڈیجیٹل انڈیا کا ارتقا

ڈیجیٹل انڈیا پروگرام یکم جولائی 2026 کو اپنے 11 سال مکمل کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ 2015 سے پہلے عوامی خدمات کے حصول کا مطلب اکثر طویل قطاریں، کاغذی کارروائی اور محدود رابطہ ہوتا تھا۔ ڈیجیٹل انڈیا نے انٹرنیٹ تک رسائی کو وسعت دے کر اور خدمات کو آن لائن لا کر ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے میں مدد کی۔ اس نے ڈیجیٹل گورننس کو مضبوط بنایا اور خدمات کو تیز، شفاف اور زیادہ قابلِ رسائی بنایا۔ لاکھوں لوگ اب صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، بینکاری اور فلاحی خدمات تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا استعمال کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں سرکاری سرمایہ کاری نے دیہی اور شہری ہندوستان دونوں میں رابطے کو بہتر بنایا۔ اس پروگرام نے سستی انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل رسائی کے ذریعے، وسیع پیمانے پر آبادی تک، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو عوام کے لیے قابلِ رسائی بنانےمیں بھی اہم کردار ادا کیا۔

گزشتہ دہائی میں ڈیجیٹل انڈیا، ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی بنیاد بن چکا ہے۔ ہندوستان اب عالمی سطح پر ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سرفہرست ہے، جہاں یو پی آئی دنیا بھر میں لین دین کے حجم کا تقریباً 49 فیصد سنبھالتا ہے۔ ڈیجیٹل معیشت، ہندوستان کی جی ڈی پی میں تقریباً 12 تا 14 فیصد حصہ ڈالتی ہے، اور توقع ہے کہ اگلی دہائی میں اس کا حصہ بڑھ کر تقریباً پانچواں حصہ ہو جائے گا۔ ڈیجیٹل انڈیا نے تمام شعبوں میں اختراع، اسٹارٹ اپس کی ترقی اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کے عمل میں تیزی پیدا کی ہے۔ اس نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں بھی ہندوستان کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے۔ جیسے جیسے ہندوستان وکشت بھارت 2047 کی جانب بڑھ رہا ہے، ڈیجیٹل انڈیا ملک بھر میں جامع ترقی، تکنیکی خود انحصاری اور شہریوں کو بااختیار بنانے کے اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈیجیٹل انڈیا کے نو ستون

ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینے اور اختراع کو فروغ دینے کے لیے ایک متحد فریم ورک فراہم کرنے کی غرض سے ڈیجیٹل انڈیا پروگرام کو نو ستونوں پر استوار کیا گیا تھا۔

ستون 1: براڈ بینڈ شاہراہیں

ملک بھر میں ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنے کے لیے موبائل رابطہ کاری  بہت اہم ہے۔ بھارت نیٹ-1 اور بھارت نیٹ-2 کے تحت ملک بھر کی 2.22 لاکھ سے زیادہ گرام پنچایتوں کو جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ جنوری 2026 تک تقریباً 2.15 لاکھ گرام پنچایتیں، یعنی ملک بھر کی تقریباً 97 فیصد گرام پنچایتیں، تقریباً 7 لاکھ کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھا کر جوڑی جا چکی ہیں۔ اس سے دیہی ہندوستان میں ای-گورننس، ڈیجیٹل ادائیگیوں، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن اور مقامی صنعت کاری کو نمایاں طور پر تقویت ملی ہے۔

ستون 2: موبائل کنیکٹیویٹی تک ہمہ گیر  (یونیورسل ) رسائی

ڈیجیٹل گورننس اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے قابلِ اعتماد براڈ بینڈ ضروری ہے۔ مارچ 2026 کے آخر تک براڈ بینڈ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد بڑھ کر 106.58 کروڑ ہو گئی۔ اس سے پورے دیہی ہندوستان میں قابلِ اعتماد آخری میل تک ڈیجیٹل رابطے کو تقویت ملی ہے۔

ستون 3: پبلک انٹرنیٹ تک رسائی کا پروگرام

قابلِ رسائی ڈیجیٹل مراکز شہریوں کو اپنے گھروں کے قریب خدمات تک رسائی میں مدد دیتے ہیں۔ 6.5 لاکھ سے زیادہ کامن سروس سینٹرز اور 1.6 لاکھ پوسٹ آفس اب ڈیجیٹل خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ یہ مراکز دیہی اور پسماندہ علاقوں میں ای-گورننس، بینکاری اور شہری خدمات فراہم کرتے ہیں۔

ستون 4: ای-گورننس: ٹیکنالوجی کے ذریعے حکومت میں اصلاحات

الیکٹرانک طور پر خدمات کی فراہمی کے لیے تیار کیا گیا ای-گورننس نظام، کاغذ سے پاک یا بغیر کاغذ کے، مربوط اور عوام پر مرکوز انتظامیہ کو فروغ دیتا ہے۔ آج ڈیجی لاکر اور نیشنل سنگل سائن آن ایکو سسٹم جیسے پلیٹ فارم سرٹیفکیٹس، درخواستوں، ادائیگیوں اور عوامی خدمات تک بلا رکاوٹ رسائی ممکن بناتے ہیں، جس سے کاغذی کارروائی کم ہوئی ہے اور زندگی گزارنے میں آسانی بہتر ہوئی ہے۔

ستون 5: ای-کرانتی: الیکٹرانک ڈیلیوری آف سروسز

ڈیجیٹل انڈیا کے خدمات کی فراہمی کے ستون کے طور پر، ای-کرانتی نے روایتی نظامِ حکمرانی سے ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کی طرف منتقلی کو تیز کیا ہے۔ ای-ہسپتال، ای-سنجیوانی اور ای-کورٹس جیسے مربوط پلیٹ فارموں نے سرٹیفکیٹس، صحت کی دیکھ بھال اور انصاف سے متعلق خدمات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، جس سے حکمرانی زیادہ مؤثر اور شہریوں پر مرکوز ہو گئی ہے۔

کیا آپ جانتے تھے؟

ای-کورٹس مشن موڈ پروجیکٹ نے ہندوستان کے کاغذ پر مبنی عدالتی نظام کو ڈیجیٹل انصاف کے ایک ماحولیاتی نظام میں تبدیل کر دیا ہے۔ 660 کروڑ سے زیادہ صفحات کو ڈیجیٹل کیا جا چکا ہے، جبکہ 1.07 کروڑ مقدمات آن لائن دائر کیے جا چکے ہیں۔

ستون 6: سب کے لیے معلومات

یہ ستون سرکاری معلومات کو آسانی سے قابلِ رسائی بنا کر اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے ذریعے شہریوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرکے شفاف اور شراکت دار حکمرانی کو مضبوط بناتا ہے۔ مائی گو اور اوپن گورنمنٹ ڈیٹا جیسے اقدامات شہریوں کو معلومات تک رسائی حاصل کرنے اور حقیقی وقت میں سرکاری پروگراموں اور خدمات سے جڑے رہنے کے قابل بناتے ہیں۔

ستون 7: الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ

ڈیجیٹل انڈیا نے پالیسی سپورٹ، اختراع اور سرمایہ کاری کے ذریعے ہندوستان کے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو مضبوط کیا ہے۔ الیکٹرانکس کی پیداوار مالی سال 2014-15 میں 1.9 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر مارچ 2026 تک تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ آج ہندوستان دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک ہے، جو عالمی الیکٹرانکس ویلیو چین میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

ستون 8: ملازمتوں کے لیے آئی ٹی

ہندوستان کی ڈیجیٹل معیشت بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ نیسکام کے مطابق، آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس صنعت نے مالی سال 2024-25 میں 283 ارب امریکی ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔ ہندوستان کے 2,100 سے زیادہ عالمی صلاحیتی مراکز (جی سی سی) انجینئرنگ، تجزیات، سائبر سکیورٹی اور اے آئی پر مبنی شعبوں میں تقریباً 26 لاکھ پیشہ ور افراد کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔

ستون 9: فوری نتائج فراہم کرنے والے پروگرام

بائیو میٹرک حاضری، محفوظ سرکاری ای میل، عوامی وائی فائی ہاٹ سپاٹس، ای-بکس، ایس ایم ایس پر مبنی موسمی انتباہات اور ڈیجیٹل مواصلاتی پلیٹ فارم جیسے فوری اثرات رکھنے والے اقدامات، ٹیکنالوجی پر مبنی حکمرانی کے فوری فوائد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

یہ نو ستون ڈیجیٹل انڈیا کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک فراہم کرتے ہیں، جو ایک باہم مربوط اور مستقبل کے لیے تیار ملک کی بنیاد رکھتے ہیں۔

فلیگ شپ اقدامات جنہوں نے ایک جامع دہائی کو طاقت دی

ڈیجیٹل انڈیا پروگرام، ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنے کی ایک پہل سے ترقی کرتے ہوئے، دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) ماحولیاتی نظاموں میں سے ایک بن چکا ہے، جو تمام شعبوں میں حکمرانی کو تقویت فراہم کر رہا ہے۔

جے اے ایم تثلیث: ڈیجیٹل انڈیا کی بنیاد

جے اے ایم تثلیث — جن دھن، آدھار اور موبائل کنیکٹیویٹی — نے ہندوستان میں مالی شمولیت اور فلاحی خدمات کی فراہمی میں انقلاب برپا کر دیا۔ اس نے لاکھوں افراد کو باضابطہ بینکاری نظام سے جوڑا اور سرکاری خدمات تک بلا رکاوٹ رسائی کو ممکن بنایا۔

جن دھن یوجنا نے ملک بھر میں بینکاری تک رسائی کو تیزی سے وسعت دی۔ بینک اکاؤنٹس کی تعداد مارچ 2015 میں 14.72 کروڑ سے بڑھ کر فروری 2026 تک 57.78 کروڑ ہو گئی۔ اسی مدت کے دوران جمع شدہ رقوم 15,670 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2.94 لاکھ کروڑ روپے ہو گئیں۔

مزید برآں، آدھار نے محفوظ اور فوری ڈیجیٹل تصدیق کے لیے ایک قابلِ اعتماد بائیومیٹرک(حیاتیاتی) شناختی پلیٹ فارم فراہم کیا۔ آدھار اندراجات 2010-11 میں 0.42 کروڑ سے بڑھ کر مارچ 2026 تک 144 کروڑ سے تجاوز کر گئے۔

موبائل کنیکٹیویٹی نے پورے ہندوستان میں ڈیجیٹل رسائی کو فروغ دے کر جے اے ایم ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنایا۔ مارچ 2026 تک، 85.5 فیصد ہندوستانی گھرانوں کے پاس کم از کم ایک اسمارٹ فون موجود تھا، جبکہ 109 کروڑ سے زیادہ افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل تھی۔

جے اے ایم تثلیث مجموعی طور پر ڈیجیٹل انڈیا کے جامع طرزِ حکمرانی کے ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ جون 2026 تک، ملک بھر میں شفافیت اور ڈیجیٹل گورننس کو بہتر بنانے کے لیے 51 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے براہِ راست فوائد، براہِ راست 176 کروڑ مستفیدین کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔

کیس اسٹڈی: کس طرح ہندوستان نے اپنی ڈیجیٹل شناخت میں انقلاب برپا کیا

آدھار سے پہلے لاکھوں ہندوستانیوں کے پاس قابلِ تصدیق شناخت موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے بینکاری، فلاحی اسکیموں اور عوامی خدمات تک ان کی رسائی محدود تھی۔ آدھار نے ایک محفوظ بائیومیٹرک پر مبنی ڈیجیٹل شناختی پلیٹ فارم کے ذریعے اس چیلنج سے نمٹا۔ شمولیت پر پروگرام کی توجہ کی علامت کے طور پر، مہاراشٹر کے ٹیمبھالی گاؤں کی ایک قبائلی خاتون، محترمہ رنجنا سوناوانے، پہلی آدھار ہولڈر بنیں۔ آدھار نے نہ صرف مرکزی دھارے کے شہریوں بلکہ پورے ہندوستان میں قبائلی اور کم خدمات یافتہ برادریوں کے لیے بھی بینکاری، براہِ راست فوائد کی منتقلی اور سرکاری خدمات تک رسائی کو وسعت دی۔ یہ تبدیلی اس وقت مزید تیز ہوئی جب آدھار ایکٹ، 2016 نے یو آئی ڈی اے آئی کو قانونی اختیار دیا اور آدھار کو بنیادی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے طور پر تسلیم کیا۔

آدھار نے بینک اکاؤنٹ کھولنے، بڑے پیمانے پر شناخت کی تصدیق اور مالیاتی خدمات تک آسان رسائی کو ممکن بنا کر ہندوستان کی مالی شمولیت کے نظام کو ازسرِنو منظم کیا۔

بچولیوں کے بغیر فلاح و بہبود

آدھار نے محفوظ اور شفاف خدمات کی فراہمی کو ممکن بنا کر فلاح و بہبود کی فراہمی کے نظام کو تبدیل کر دیا ہے۔ غذائی اجناس کی عوامی تقسیم کا 98 فیصد سے زیادہ حصہ اب آدھار سے تصدیق شدہ ہے۔ اہل مستفیدین آدھار پر مبنی تصدیق کے ذریعے 3,100 سے زیادہ براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) اسکیموں اور 360 سے زیادہ عوامی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

تصدیق، بغیر کاغذ کے

آدھار نے تمام شعبوں میں شناخت کی تصدیق کے عمل کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ 30 اپریل 2025 تک مجموعی ای-کے وائی سی لین دین کی تعداد 2,393 کروڑ تک پہنچ چکی تھی، جس سے کاغذی کارروائی میں نمایاں کمی آئی اور عوامی خدمات تک تیز تر رسائی ممکن ہوئی۔

اس کا تازہ ترین ارتقا، آدھار ایپ، لانچ ہونے کے صرف پانچ ماہ کے اندر 3.1 کروڑ ڈاؤن لوڈز کا ہندسہ عبور کر چکا ہے۔ یہ موبائل نمبر اور پتے کی ڈیجیٹل اپ ڈیٹس جیسی سہولیات فراہم کرتا ہے، جس سے روزمرہ کے استعمال میں بھی بغیر کاغذ کے تصدیق کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔

ایک ماڈل جس پر دنیا کی نظر ہے

آج آدھار کو عالمی سطح پر ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے ایک معیاری نمونے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، اور مصر، نائیجیریا، انڈونیشیا اور پاپوا نیو گنی سمیت متعدد ممالک اس ماڈل کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل شناختی نظاموں میں سے ایک ہے، جو دنیا بھر میں ڈیجیٹل گورننس کے ماڈلز کو متاثر کر رہا ہے۔

ڈیجی لاکر

ڈیجی لاکر فزیکل(کاغذی) دستاویزات کی جگہ ایک محفوظ ڈیجیٹل والیٹ فراہم کر کے پورے ہندوستان میں دستاویزات کے ذخیرے اور تصدیق کے نظام کو تبدیل کر رہا ہے۔ مارچ 2026 تک اس پلیٹ فارم پر 70.69 کروڑ سے زیادہ صارفین رجسٹر ہو چکے ہیں اور 850 کروڑ سے زیادہ دستاویزات جاری کی جا چکی ہیں، جس سے تصدیق کا عمل تیز، کاغذ سے پاک اور زیادہ قابلِ اعتماد بن گیا ہے۔

یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی)

2026 میں اپنے دس سال مکمل کرتے ہوئے، یو پی آئی شہریوں اور کاروباروں کے لیے فوری اور محفوظ لین دین کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں انقلاب برپا کر رہا ہے۔ ایک سادہ ادائیگی پلیٹ فارم کے طور پر شروع ہونے والا یہ نظام آج پورے ہندوستان میں روزمرہ کی ڈیجیٹل تجارت کو تقویت دے رہا ہے۔ مالی سال 2016-17 میں لین دین کی تعداد صرف 2 کروڑ تھی، جو بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 24,162 کروڑ سے زیادہ ہو گئی۔ یو پی آئی کا عالمی اثر اب نو ممالک تک پھیل چکا ہے، اور کمبوڈیا مسافروں کے لیے بلا رکاوٹ یو پی آئی پر مبنی ادائیگیوں کو ممکن بنانے والا تازہ ترین ملک بن گیا ہے۔ مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کیا آپ جانتے تھے؟

بھیم (بھارت انٹرفیس فار منی) حکومت کی حمایت یافتہ یو پی آئی ایپ ہے، جسے نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) نے تیار کیا ہے۔ یہ یو پی آئی کے ذریعے فوری رقم کی منتقلی کو ممکن بناتی ہے، جس سے پورے ہندوستان میں لاکھوں صارفین کے لیے محفوظ، نقدی سے پاک ڈیجیٹل ادائیگیاں آسان اور قابلِ رسائی ہو گئی ہیں۔

عوامی صحت کو تقویت دینے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارم

گزشتہ دہائی کے دوران ڈیجیٹل انڈیا نے خدمات کو تیز تر، مربوط اور زیادہ قابلِ رسائی بنا کر عوامی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو تبدیل کر دیا ہے۔ آن لائن رجسٹریشن سسٹم (او آر ایس) قطاروں اور کاغذی کارروائی کو کم کرتے ہوئے مریضوں کو ڈیجیٹل طور پر اپائنٹمنٹ بُک کرنے کے قابل بناتا ہے۔ 24 جون 2026 تک او آر ایس کے ذریعے 1.37 کروڑ سے زیادہ آن لائن تقرریاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ اس ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کلاؤڈ پر مبنی ای-ہاسپیٹل پلیٹ فارم اسپتالوں کے انتظامی امور کو ڈیجیٹل بنا رہا ہے، جبکہ ای-بلڈ بینک صحت کی دیکھ بھال کے اداروں میں خون کی دستیابی اور اس کے انتظام کو بہتر بنا رہا ہے۔

ای-سنجیوانی کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال تک رسائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم مریضوں کو، خصوصاً دیہی اور کم خدمات یافتہ علاقوں میں، دور دراز کے ڈاکٹروں سے جوڑتا ہے۔ اس کے ذریعے سفری اخراجات اور انتظار کے وقت میں کمی آئی ہے، جبکہ ملک بھر میں ماہرانہ صحت کی خدمات تک رسائی میں اضافہ ہوا ہے۔ 24 جون 2026 تک ای-سنجیوانی کے ذریعے 48 کروڑ سے زیادہ مشاورت فراہم کی جا چکی ہے اور 2.3 لاکھ سے زیادہ صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے اس سے منسلک ہو چکے ہیں، جس سے ٹیلی میڈیسن عوامی صحت کی فراہمی کا ایک اہم ستون بن گیا ہے۔

کووڈ-19 کی وبا کے دوران ہندوستان نے آروگیہ سیتو اور کوون جیسے پلیٹ فارموں کے ذریعے اپنے ڈیجیٹل صحت کے ماحولیاتی نظام کو مزید وسعت دی۔ آروگیہ سیتو نے ابتدا میں کانٹیکٹ ٹریسنگ (رابطوں کا سراغ لگانے)اور صحت سے متعلق مشوروں کی فراہمی میں مدد دی، بعد ازاں اسے آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت ایک قومی صحت ایپ میں تبدیل کر دیا گیا۔ دوسری جانب، کوون ہندوستان کے ٹیکہ کاری پروگرام کی ڈیجیٹل ریڑھ کی ہڈی بن گیا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے 220 کروڑ سے زیادہ ویکسین کی خوراکیں فراہم کی گئیں، اور یہ ڈیجیٹل صحتِ عامہ کے نظام کے ایک عالمی نمونے کے طور پر ابھرا۔

ٹیلی مانس، 14416 اور 1-800-891-4416 کے ذریعے، ملک بھر میں مفت ٹیلی کونسلنگ اور ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور معاونت فراہم کرتا ہے۔ جون 2026 تک اسے ملک بھر میں 53 ٹیلی مانس مراکز، 23 مینٹورنگ اداروں اور 5 علاقائی رابطہ کاری مراکز کے ذریعے 40.42 لاکھ سے زیادہ کالیں موصول ہو چکی ہیں۔

مزید برآں، مانس (مدک پدارتھ نشیدھ آسوچنا  کیندر) منشیات کی روک تھام اور اطلاعاتی مرکز ،شہریوں کو ٹول فری نمبر 1933 اور امنگ ایپ کے ذریعے گمنام طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور متعلقہ جرائم کی اطلاع دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم مشاورت اور بحالی کی خدمات بھی فراہم کرتا ہے۔ جون 2026 تک اسے منشیات سے متعلق 2.16 لاکھ سے زیادہ اطلاعات موصول ہو چکی ہیں، جن میں 16,200 سے زیادہ قابلِ عمل انٹیلی جنس معلومات شامل تھیں، جس سے ملک گیر منشیات سے پاک بھارت مہم کو تقویت ملی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے تجارت کو بااختیار بنانا

گورنمنٹ ای-مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) نے عوامی خریداری کے نظام کو شفاف، مؤثر اور کاغذ سے پاک بنا کر اس میں بنیادی تبدیلی پیدا کی ہے۔ جون 2026 تک اس نے 18.4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مجموعی تجارتی مالیت (جی ایم وی) ریکارڈ کی، جس میں مالی سال 2025-26 کے دوران 5 لاکھ کروڑ روپے شامل ہیں، جبکہ 11 لاکھ سے زیادہ ایم ایس ایم ایز کو سرکاری منڈیوں تک رسائی حاصل ہوئی۔

اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) ایک کھلا اور باہم مربوط (انٹرآپریبل) ڈیجیٹل تجارتی ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہا ہے، جو خریداروں اور فروخت کنندگان کو مختلف پلیٹ فارموں پر آپس میں جوڑتا ہے۔ جون 2026 تک او این ڈی سی کا دائرۂ کار 20 کروڑ سے زیادہ خریداروں، 5 لاکھ فروخت کنندگان، ایک ہزار شہروں اور تقریباً 90 لاکھ ماہانہ لین دین تک پھیل چکا تھا۔ او این ڈی سی نے انڈیا پوسٹ کو بھی ایک لاجسٹک سروس فراہم کنندہ کے طور پر مربوط کیا ہے، جس سے ملک بھر میں ای-کامرس کی قابلِ اعتماد اور وسیع تر ترسیل کو تقویت ملی ہے۔ باہمی مطابقت (انٹرآپریبلٹی) کو فروغ دے کر اور کسی ایک پلیٹ فارم پر انحصار کم کر کے، او این ڈی سی چھوٹے کاروباروں کے لیے بازار تک وسیع تر رسائی کو ممکن بنا رہا ہے اور ڈیجیٹل تجارت میں جامع ترقی کو فروغ دے رہا ہے۔

ان پلیٹ فارموں نے عوامی خریداری کے عمل، چھوٹے کاروباروں کے لیے بازار تک رسائی اور مسابقتی قیمتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جی ای ایم اور او این ڈی سی نے کاروبار کرنے میں آسانی کو بھی مضبوط بنایا ہے اور ہندوستان میں عوامی خدمات کی فراہمی کے وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن کو آگے بڑھایا ہے۔

کیا آپ جانتے تھے؟

ای-سارس اور انڈیا ہینڈ میڈ، سیلف ہیلپ گروپوں، بنکروں اور کاریگروں کو براہِ راست ڈیجیٹل بازاروں تک رسائی فراہم کر رہے ہیں، جس سے دیہی معاش کی حمایت اور روایتی دستکاری کے تحفظ کو فروغ مل رہا ہے۔ او این ڈی سی کے ساتھ انضمام نے 11 سے زائد خریدار ایپس پر ان کی مرئیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

سماجی بہبود کے لیے ٹیکنالوجی سے چلنے والی عوامی خدمات

امنگ سرکاری خدمات کے لیے ایک واحد ڈیجیٹل گیٹ وے بن چکا ہے۔ اس پر دستیاب خدمات کی تعداد 2017 میں 166 سے بڑھ کر جون 2026 تک 2,572 ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں لین دین کی تعداد 3.9 کروڑ سے بڑھ کر 796.69 کروڑ تک پہنچ گئی، جو بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل اپنانے کی عکاسی کرتی ہے۔ متنوع شہری خدمات کو ایک ہی پلیٹ فارم پر مربوط کر کے، امنگ نے ملک بھر میں عوامی خدمات تک رسائی، سہولت اور آسانی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے۔

گڈز اینڈ سروسز ٹیکس نیٹ ورک (جی ایس ٹی این) نے رجسٹریشن، ریٹرن فائلنگ، ٹیکس ادائیگیوں اور ای-انوائسنگ کو مربوط کر کے بالواسطہ ٹیکس کے نظام کو جدید بنایا ہے۔ اپریل 2026 تک جی ایس ٹی کی مجموعی وصولی تقریباً 2.43 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ اس پلیٹ فارم نے ٹیکس کی تعمیل میں اضافہ، شفافیت میں بہتری اور جی ایس ٹی نظام کے تیز رفتار، ٹیکنالوجی پر مبنی انتظام کو ممکن بنایا ہے۔

پوشن ٹریکر 13.35 لاکھ آنگن واڑی مراکز کو جوڑتا ہے اور 8.9 کروڑ سے زیادہ مستفیدین کی ضروریات پوری کرتا ہے، جن میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، 0 سے 6 سال تک کے بچے اور نوعمر لڑکیاں (امنگوں والے اضلاع اور شمال مشرقی ریاستوں میں) شامل ہیں۔ اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے ڈیٹا پر مبنی نگرانی کو ممکن بنایا ہے اور خواتین و بچوں کے لیے غذائیت اور فلاحی پروگراموں کی مؤثر نگرانی میں مدد دی ہے۔

کیا آپ جانتے تھے؟

پوشن ہیلپ لائن (ڈائل 1515) مشن سکشم آنگن واڑی و پوشن 2.0 اور پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) کے مستفیدین کے لیے ایک مخصوص سرکاری معاونتی نظام ہے۔ یہ 17 زبانوں میں معلومات، شکایات کے ازالے اور تکنیکی معاونت تک فوری رسائی فراہم کرتا ہے۔

پی ایم گتی شکتی نے مربوط بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کے لیے جی آئی ایس پر مبنی ایک پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔ فروری 2026 تک نیٹ ورک پلاننگ گروپ نے 16.10 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 352 منصوبوں کا جائزہ لیا تھا، جن میں 201 کی منظوری دی جا چکی تھی جبکہ 167 مختلف مراحل میں زیرِ عمل تھے۔ تمام شعبوں اور وزارتوں میں مربوط منصوبہ بندی کو ممکن بنا کر اس پلیٹ فارم نے کارکردگی میں بہتری، لاجسٹکس کے فرق میں کمی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تیزی پیدا کی ہے۔

ایم وائی بھارت (میرا یووا بھارت)

میرا بھارت (میرا یووا بھارت) ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) ہے، جو رضاکارانہ خدمات، تجرباتی تعلیم، انٹرن شپ، ملازمتوں، ہنرمندی کی ترقی، قیادت، اختراع اور قومی اقدامات سے نوجوانوں کو جوڑنے کے لیے ایک متحد، محفوظ اور قابلِ توسیع پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

31 اکتوبر 2023 کو شروع کیے گئے اس پلیٹ فارم پر 2.21 کروڑ سے زیادہ نوجوان رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ اس میں 1.52 لاکھ سے زیادہ رضاکارانہ مواقع، 28,000 سے زیادہ عملی تعلیمی پروگرام (ای ایل پی) اور 1.19 لاکھ سے زیادہ تنظیمیں شامل ہیں۔

مصنوعی ذہانت، کثیر لسانی تعاون، موبائل فرسٹ سروسز، گیمی فیکیشن کھیل پر مبنی ترغیبی نظام)، اوپن اے پی آئی اور ریئل ٹائم اینالیٹکس پر مبنی یہ پلیٹ فارم حکومتوں اور شراکت دار تنظیموں کو ایک واحد قومی ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں کو شامل کرنے، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کے قابل بناتا ہے، جو ڈیجیٹل انڈیا اور وکشت بھارت 2047 کے وژن کو آگے بڑھاتا ہے۔

کیا آپ جانتے تھے؟

ایم وائی بھارت نے 390,812 تصدیق شدہ شرکاء کے ساتھ "ایک ہفتے میں آن لائن کوئز میں حصہ لینے والے سب سے زیادہ صارفین" کا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کر کے ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کی طاقت کا مظاہرہ کیا۔

ایگری اسٹیک: ٹیکنالوجی کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانا

ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کے تحت تیار کیا گیا ایگری اسٹیک، کسانوں پر مرکوز ایک ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) ہے، جو ای-نیم کے ذریعے آن لائن زرعی تجارت اور کسان ای-مترا جیسے خدمات فراہم کرتا ہے۔ کسان ای-مترا ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والا چیٹ بوٹ ہے، جو کاشتکاری سے متعلق فوری معلومات اور سرکاری اسکیموں کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ کسانوں، زمین اور فصلوں کے اعداد و شمار کو مربوط کر کے یہ پلیٹ فارم قرض، بیمہ، سبسڈی، خریداری اور ذاتی نوعیت کی مشاورتی خدمات تک بلا رکاوٹ رسائی ممکن بناتا ہے۔ مارچ 2026 تک 9.20 کروڑ سے زیادہ کسان شناختی کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں۔

کیا آپ جانتے تھے؟

ہندوستان نے سائنسی اور ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت کو فروغ دینے کے لیے 731 کرشی وگیان کیندر (کے وی کے) قائم کیے ہیں۔ کسان سارتھی ڈیجیٹل مشاورتی پلیٹ فارم کے ذریعے کسان، کے وی کے، آئی سی اے آر اور زرعی یونیورسٹیوں سے حقیقی وقت میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں، جس سے زرعی علم زیادہ قابلِ رسائی بنتا ہے اور آب و ہوا سے ہم آہنگ، کسان دوست کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ ملتا ہے۔

تعلیمی رسائی کو فروغ دینے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارم

ڈیجیٹل انڈیا کلاس روم اور جغرافیائی حدود سے باہر بھی معیاری تعلیم کو قابلِ رسائی بنا کر تعلیمی خلا کو پُر کر رہا ہے۔

دکشا (ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فار نالج شیئرنگ) نصاب سے منسلک ڈیجیٹل تعلیمی وسائل اور اساتذہ کی تربیت کے ذریعے اسکولی تعلیم کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم طلبہ اور اساتذہ کے لیے کیو آر کوڈ والی نصابی کتابیں، انٹرایکٹو مواد اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے چلنے والے تعلیمی ٹولز فراہم کرتا ہے۔ یہ ہندوستانی اشاروں کی زبان کے وسائل اور قابلِ رسائی ڈیجیٹل مواد کے ذریعے جامع تعلیم کی بھی حمایت کرتا ہے۔ مارچ 2026 تک دکشا پر رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔

مزید برآں، سویم (اسٹڈی ویبز آف ایکٹیو لرننگ فار ینگ ایسپائرنگ مائنڈز) اور سویم پربھا کلاس روم سے باہر بھی معیاری تعلیم تک رسائی کو فروغ دے رہے ہیں۔ سویم، ملک کے ممتاز اداروں کے ذریعے جماعت نہم سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح تک مفت آن لائن کورسز فراہم کرتا ہے، اور جنوری 2026 تک اس پر مختلف شعبوں کے 4,400 سے زیادہ کورسز دستیاب تھے۔ اس کی تکمیل کرتے ہوئے، سویم پربھا 48 مخصوص ڈی ٹی ایچ چینلز کے ذریعے تعلیمی مواد نشر کرتا ہے، جس سے محدود انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی والے علاقوں میں بھی تعلیم تک رسائی ممکن ہوتی ہے۔

ان اقدامات کی بنیاد پر، پی ایم ای ودیا دکشا، سویم، سویم پربھا، کمیونٹی ریڈیو اور مخصوص تعلیمی ٹیلی ویژن چینلز کو ایک ہی فریم ورک کے تحت مربوط کرتا ہے تاکہ بلاتعطل، کثیر جہتی تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ یہ معذور طلبہ کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ مواد کے ذریعے جامع تعلیم کو فروغ دیتے ہوئے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسعت دے رہا ہے۔

کیا آپ جانتے تھے؟

اے پی اے اے آر (آٹومیٹڈ پرمیننٹ اکیڈمک اکاؤنٹ رجسٹری) ہر طالب علم کو ایک منفرد ڈیجیٹل تعلیمی شناخت فراہم کرتا ہے، جو تعلیمی ریکارڈ کو محفوظ انداز میں محفوظ رکھتی ہے اور داخلے، اسکالرشپ اور دیگر خدمات کے لیے کاغذ کے بغیر تصدیق کو ممکن بناتی ہے۔ جون 2026 تک 33.74 کروڑ سے زیادہ اے پی اے اے آر آئی ڈیز جاری کی جا چکی ہیں۔

ہندوستان کی ڈیجیٹل افرادی قوت کو تقویت دینا

ڈیجیٹل انڈیا ملک بھر میں ڈیجیٹل مہارتوں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور روزگار کے مواقع کو فروغ دے کر مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت کی تعمیر کر رہا ہے۔

پی ایم جی دیشا(پی ایم جی ڈی آئی ایس ایچ اے) نے شہریوں کو اسمارٹ فون کے استعمال، انٹرنیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور آن لائن خدمات کی تربیت دے کر دیہی ڈیجیٹل خلیج کو کم کیا ہے۔ مارچ 2024 تک اس نے اپنے مقررہ ہدف سے تجاوز کرتے ہوئے 6.39 کروڑ دیہی شہریوں کو تربیت فراہم کی۔

فیوچر سکلز پرائم سیکھنے والوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا اینالیٹکس کے لیے تیار کر رہا ہے۔ اس پر 26 لاکھ سے زیادہ امیدوار رجسٹر ہو چکے ہیں، اور یہ نیسکام کے ٹیلنٹ کنیکٹ کے ذریعے سیکھنے والوں کو ملازمتوں سے بھی جوڑتا ہے۔

اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) ہنرمندی، تصدیق اور روزگار کی خدمات کے لیے ایک متحد پلیٹ فارم ہے۔ مارچ 2026 تک اس پر 32 لاکھ سے زیادہ امیدوار رجسٹر ہو چکے ہیں، اور یہ پی ایم کے وی وائی، پی ایم وشوکرما، مختلف سرکاری اسکیموں اور ڈیجیٹل لرننگ پارٹنرز کے تحت کورسز پیش کرتا ہے۔

انڈیا اے آئی مشن،مصنوعی ذہانت کی تعلیم، بنیادی ڈھانچے اور ذمہ دارانہ انداز میں مصنوعی ذہانت کو اپنانے کے عمل کو مضبوط کر رہا ہے۔ یہ انڈیا اے آئی کوش جیسے اقدامات کے ذریعے اسکولوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں میں اے آئی سے متعلق مہارتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ انڈیا اے آئی مشن کے بارے میں مزید پڑھیں۔

کیا آپ جانتے تھے؟

ہندوستان نے فروری 2026 میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کی میزبانی کی، اور اس طرح گلوبل ساؤتھ میں عالمی اے آئی سمٹ کی میزبانی کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس سمٹ میں 100 سے زیادہ ممالک کے شرکاء نے شرکت کی۔

ہندوستان کی ڈیجیٹل قیادت اور آگے کا راستہ

قابلِ توسیع اور شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل گورننس پلیٹ فارموں کے ذریعے تقویت یافتہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کی بدولت، ہندوستان ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے۔ فروری 2026 تک ہندوستان نے انڈیا اسٹیک اور ڈی پی آئی نظام پر تعاون کے لیے 24 ممالک کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں، جن میں ڈیجیٹل شناخت، ادائیگیاں، ڈیٹا کے تبادلے اور خدمات کی فراہمی جیسے شعبے شامل ہیں۔

یو پی آئی اب متحدہ عرب امارات، سنگاپور، فرانس، ماریشس اور سری لنکا سمیت آٹھ سے زیادہ ممالک میں دستیاب ہے، جس سے ہندوستان کی عالمی فن ٹیک موجودگی کو مزید تقویت ملی ہے۔ آدھار، ڈیجی لاکر، کوون، جی ای ایم، دکشا، امنگ اور ای-سنجیوانی جیسے پلیٹ فارم تیزی سے بین الاقوامی ڈیجیٹل گورننس کے ماڈلز کی تشکیل کر رہے ہیں۔

ہندوستان نے 2023 میں اپنی جی-20 صدارت کے دوران انڈیا اسٹیک گلوبل اور گلوبل ڈی پی آئی ریپوزیٹری کا بھی آغاز کیا، جس سے ہندوستانی ڈیجیٹل حل تک عالمی رسائی میں مزید توسیع ہوئی۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل انڈیا اپنی اگلی دہائی میں داخل ہو رہا ہے، ہندوستان ٹیکنالوجی کو جامع ترقی، ڈیجیٹل بااختیار بنانے اور عالمی تعاون کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر فروغ دے رہا ہے۔

حوالہ جات

وزارت مواصلات

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2176857&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2220329&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2240331&reg=6&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2223772&reg=3&lang=1

وزارت خزانہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200569&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2219981&reg=6&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2240720&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2257087&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268591&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2213154&reg=48&lang=2

وزارت پنچایتی راج

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247709&reg=48&lang=2

وزارت الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2144094&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241781&reg=1&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1514598&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245056&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2080854&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224505&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2202905&reg=48&lang=2

وزارت تجارت و صنعت

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249335&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2204664

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2225805&reg=3&lang=2

وزارت قانون و انصاف

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2238787&reg=48&lang=2

وزارت زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244626&reg=48&lang=2

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU3991_M3rthT.pdf?source=pqals

راجیہ سبھا

https://sansad.in/getFile/annex/270/AU4273_LT3Fyr.pdf?source=pqars

دیگر حوالہ جات

https://icrier.org/pdf/State_of_India_Digital_Economy_Report_2026.pdf

https://www.oecd.org/en/topics/policy-issues/public-procurement.html

https://apaar.education.gov.in/#how_get

https://dic.gov.in/manas/

https://telemanas.mohfw.gov.in/telemanas-dashboard/#/

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

***

(ش ح۔اس ک  )

UR-9245


(रिलीज़ आईडी: 2278488) आगंतुक पटल : 13
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Bengali , Gujarati , Tamil