کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

آئس لینڈ میں بھارتی سفارت خانے اور اے پی ای ڈی اے کے زیرِ اہتمام پہلی مرتبہ بھارتی آموں کی تشہیری تقریبات کا انعقاد


دسہری، چوسہ، لنگڑا اور کیسر آموں نے بھارتی آموں کی بھرپور تنوع اور منفرد خصوصیات کی نمائندگی کی

प्रविष्टि तिथि: 26 JUN 2026 11:29AM by PIB Delhi

ریکیاوک میں واقع بھارتی سفارت خانے نے زرعی و پروسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے ادارے (اے پی ای ڈی اے) کے اشتراک سے 24 جون 2026 کو آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکیاوک اور 25 جون 2026 کو شمالی آئس لینڈ کے شہر اکیورےری میں بھارتی آموں کی تشہیری تقریبات کا انعقاد کیا۔ ان تقریبات میں بھارتی آموں کی متنوع اقسام اور ان کی برآمدی صلاحیت کو اجاگر کیا گیا۔ یہ آئس لینڈ میں بھارتی آموں کی تشہیر کے لیے منعقد ہونے والی پہلی تقریبات تھیں۔

آئس لینڈ میں بھارت کے سفیر آر. رویندر نے بھارت کے عالمی شہرت یافتہ آموں کی منفرد خصوصیات پر روشنی ڈالی اور آئس لینڈ میں بھارتی آموں کی برآمدات میں اضافے کے وسیع امکانات کا ذکر کیا۔

آئس لینڈ کی وزارتِ خارجہ میں تجارتی معاہدوں کے ڈائریکٹر سوین کے. اینارسن نے بھارت–ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے (ٹی ای پی اے) کے تحت پیدا ہونے والے مواقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے آئس لینڈ میں بھارتی آموں کی درآمدات بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

آئس لینڈ فیڈریشن آف ٹریڈ کے سیکریٹری جنرل اولافور اسٹیفنسن نے کہا کہ آئس لینڈ کی کاروباری برادری میں بھارت کے ساتھ تجارت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پائی جا رہی ہے اور خاص طور پر آم سمیت بھارتی زرعی مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کے روشن امکانات موجود ہیں۔

بھارتی سفارت خانے کی سیکنڈ سیکریٹری انیشا تومر نے بھارت میں آم کی پیداوار پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت دنیا میں آم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ انہوں نے آموں کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے حکومتِ ہند کی جانب سے معیار کی یقین دہانی، منڈیوں تک رسائی اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر سے متعلق اقدامات کا بھی ذکر کیا۔

ان تقریبات میں درآمد کنندگان، سفارتی برادری کے ارکان، آئس لینڈ کی کاروباری برادری کے نمائندوں اور وزارتِ خارجہ کے حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

شرکا کی تواضع بھارت کے چار اعلیٰ معیار کے آموںدسہری، چوسہ، لنگڑا اور کیسرسے کی گئی، جنہیں ان کے منفرد ذائقے، خوشبو اور اعلیٰ معیار کی وجہ سے بے حد سراہا گیا۔ ان تقریبات نے تجارتی روابط کو مضبوط بنانے، بھارتی زرعی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے اور بھارت و آئس لینڈ کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔

فی الحال آئس لینڈ اپنی آموں کی زیادہ تر درآمدات تھائی لینڈ، برازیل، کمبوڈیا، گھانا اور پیرو سے کرتا ہے۔ متبادل سپلائرز کی محدود دستیابی کے باعث ان ممالک کے آموں نے آئس لینڈ کی منڈی میں مضبوط مقام حاصل کر رکھا ہے۔ سال 2025 کے دوران آئس لینڈ نے تقریباً 33 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے آم درآمد کیے، جن میں سے تقریباً 10 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے آم صرف تھائی لینڈ سے درآمد کیے گئے۔

بھارتی سفارت خانے کی مقامی صارفین سے بات چیت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ آئس لینڈ کے لوگ آم کو بے حد پسند کرتے ہیں اور خاص طور پر اسے اسمودی، میٹھے پکوانوں اور پھلوں کے سلاد میں شوق سے استعمال کرتے ہیں، جس سے آئس لینڈ کی منڈی میں بھارتی آموں کے لیے روشن امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔

******

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-9213


(रिलीज़ आईडी: 2278152) आगंतुक पटल : 15
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Bengali , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada , Malayalam