فلم ساز دھونی دیسائی نے زور دے کر کہا کہ ’ بطور فنکار اور فلم ساز، ہمیں نئی ٹیکنا لوجی اور اپنی فنی بنیادوں کے درمیان ایک توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے ‘
انیسویں ممبئی بین الاقوامی فلم فیسٹیول ( ایم آئی ایف ایف ) میں اینی میشن فلم سازوں نے کہانی سنانے، تخلیقی صلاحیتوں اور اس میڈیم کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات کا اظہار کیا
’’ آپ سمندر پر جا کر سیپیاں جمع کر سکتے ہیں، ریت کے گھروندے بنا سکتے ہیں، یا شاید کوئی وہاں نروان بھی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اس تجربے سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ‘‘ فلم ساز دھونی دیسائی نے 19ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ( ایم آئی ایف ایف ) 2026 میں کہانی سنانے، تخلیقی صلاحیتوں اور ناظرین کے نظریات پر ایک دلچسپ گفتگو کے دوران ، مذکورہ خیالات کا اظہار کیا۔ مختلف فنی روایات سے تعلق رکھنے والے اینی میشن فلم سازوں کو ایک ساتھ لانے والے اس سیشن میں ، اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کس طرح خیالات ، فلموں کی شکل اختیار کرتے ہیں اور ناظرین ان سے اپنے معنی کیسے اخذ کرتے ہیں۔
ایک زین بدھ مت کی کہانی کا حوالہ دیتے ہوئے، دیسائی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ناظرین کس طرح مختلف طریقوں سے فلموں کا تجربہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ آپ سمندر پر جا کر سیپیاں جمع کر سکتے ہیں، ریت کے گھروندے بنا سکتے ہیں، یا شاید کوئی وہاں نروان بھی پا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اس تجربے سے کیا حاصل کرتے ہیں۔‘‘ یہ تمثیل اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح فلمیں اکثر مختلف ناظرین کے لیے الگ الگ معنی رکھتی ہیں۔

اینی میشن فلم ساز ریمنڈ کرمے نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ ناظرین ، ان کی فلموں سے اپنے طریقے سے معنی اخذ کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہر تہذیب کا فلم کو سمجھنے کا اپنا انداز ہوتا ہے اور مجھے یہ آزادی بے حد پسند ہے۔ ‘‘ ناظرین کو کسی ایک مخصوص معنی کی طرف لے جانے کے بجائے، وہ کہانی کو ایسے جذبات اور تجربات کے گرد بُنتے ہوئے ذاتی تشریح کی گنجائش چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں ، جنہیں آفاقی طور پر سمجھا جاتا ہے۔
اپنے تخلیقی عمل کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے، ریمنڈ نے بتایا کہ ان کے بہت سے خیالات کا آغاز براہِ راست دیواروں پر بنائے گئے خاکوں سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں اپنے خیالات کو روانی دینے کے لیے دیواروں پر پینٹ کرتا ہوں۔ ‘‘ یہ ڈرائنگز اکثر نمائشوں اور فلموں دونوں کے لیے نقطہ آغاز بن جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حرکت ، ان کی فنی مشق کا بنیادی حصہ ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کے خاکے اکثر توانائی، تال اور حرکت کو اپنے اندر سمونے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
اس گفتگو میں اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا کہ گزشتہ برسوں میں اینی میشن میں کس طرح تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ دونوں مقررین نے ، اس بات سے اتفاق کیا کہ اس میڈیم میں نمایاں ارتقا ء عمل میں آیا ہے اور اب اسے فنی اظہار کی ایک سنجیدہ شکل کے طور پر کہیں زیادہ پزیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے مصنوعی ذہانت ( اے آئی ) اور ابھرتی ہوئی دیگر ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی تسلیم کیا۔

فلم ساز ریمنڈ نے ، رقص کرتے ہوئے ایک جوڑے پر مبنی اپنی فلم کے پسِ پردہ گہرے معنی پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ کہانی سفر کے گرد گھومتی ہے، لیکن یہ دراصل خود سفر کے تجربے سے متعلق ہے۔ انہوں نے جسمانی سفر اور زندگی کے وسیع تر تجربات کے درمیان مماثلت پیدا کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سفر صرف پوائنٹ اے سے پوائنٹ بی تک جانے کا نام نہیں ہے ،بلکہ اسے پُرجوش اور روح پرور ہونا چاہیے۔‘‘
اس سیشن نے ناظرین کو اینی میشن فلم سازوں کے تخلیقی ذہنوں کے بارے میں ایک دلچسپ بصیرت فراہم کی اور یہ دکھایا کہ کس طرح ذاتی تجربات، خیالات اور نئی ٹیکنالوجیز ، ان کی کہانیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اینی میشن صرف متحرک تصاویر کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایسے بامعنی تجربات تخلیق کرنے کے بارے میں ہے ، جن سے ناظرین خود کو جوڑ سکیں اور فلم ختم ہونے کے بعد بھی طویل عرصے تک انہیں یاد رکھ سکیں۔
*******
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 9046
रिलीज़ आईडी:
2276767
| Visitor Counter:
7