وزیراعظم کا دفتر
مغربی بنگال دیوس کی تقریبات کے موقع پر وزیراعظم کے خطاب کا اردو ترجمہ
प्रविष्टि तिथि:
20 JUN 2026 7:47PM by PIB Delhi
جئے بابا تارکناتھ! ہر ہر مہادیو!
اس اسٹیج پر موجود معزز گورنر آر۔ این۔ روی جی، مقبول اور پُرجوش وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری جی، دیگر معزز شخصیات، اور بنگال کے میرے بھائیو اور بہنو!بابا تارکناتھ کی اس مقدس سرزمین پر، مغربی بنگال دیوس کے اس تاریخی موقع پر، اور آپ سب کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی کے درمیان، انتخابات اور حلف برداری کے بعد پہلی مرتبہ آپ کے درمیان آ کر میں خود کو باعثِ فخر محسوس کر رہا ہوں۔آج بنگال کی فضا میں ایک نئی تازگی محسوس ہو رہی ہے، یہاں کا ذرّہ ذرّہ ایک نئی خوشبو بکھیرتا نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے بنگال زنجیروں سے آزاد ہو گیا ہو، جیسے بنگال کی عظمت اور وقار دوبارہ لوٹ آیا ہو۔ آج ان ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگال ایک نئے مستقبل کی تعمیر کے لیے پُرعزم ہے۔لوگوں کے چہروں پر نظر آنے والی خوشی، ہر گاؤں میں موجود امید اور اعتماد، اسی خوشی میں شریک ہونے کے لیے میں آج آپ کے درمیان آیا ہوں۔ ایک ووٹ اور ایک انتخاب کس قدر بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، اس کا واضح ثبوت آج بنگال میں دیکھا جا سکتا ہے۔
‘‘پوریورتن بھالو لاگچھے تو؟’’
اس موقع پر میں مغربی بنگال دیوس کی تقریبات پر بنگال کے عوام اور ملک کے تمام شہریوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
دوستو!
میں آپ کی ‘‘سوچھتا سے سواگت’’ کی اس منفرد پہل کی بھی دل کھول کر تعریف کرتا ہوں۔ صفائی کو ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بننا چاہیے۔ جہاں صفائی ہوگی، وہاں ترقی اور خوشحالی کی رونق بھی مزید نکھر کر سامنے آئے گی۔ آپ نے جس طرح صفائی کے ذریعے استقبال کی روایت کو فروغ دیا ہے، اس پر میں آپ سب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
دوستو!
اس سال مغربی بنگال دیوس کی یہ تاریخ ایک اور وجہ سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ آزادی کے بعد بنگال کے روشن مستقبل کا جو خواب دیکھا گیا تھا، بنگال کی عظیم شخصیات نے جس وژن کی بنیاد رکھی تھی، آج پہلی بار مغربی بنگال دیوس کے موقع پر ہم ان خوابوں کو حقیقت بنتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔میری دعا ہے کہ یہ تاریخی دن بنگال کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک نئی تحریک بنے اور ہم مل کر ایک نئے اور شاندار دور کی تاریخ رقم کریں۔ اسی مقصد کے تحت آج بی جے پی-این ڈی اے حکومت کی قیادت میں ترقی کا ایک عظیم سفر شروع ہو رہا ہے۔
دوستو!
کئی دہائیوں تک پہلے بائیں بازو کی حکومتوں اور پھر ترنمول کانگریس نے بنگال کو پسماندگی کے گہرے گڈھے میں دھکیل دیا۔ اب اس گڈھے کو بھرنے اور بنگال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ڈبل انجن حکومت انتہائی تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے۔فیصلے برق رفتاری سے لیے جا رہے ہیں اور برسوں سے رکے ہوئے پروجیکٹوں کو دوبارہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں آج سینکڑوں کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا ہے اور متعدد نئے پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ریل، سڑک، زراعت اور ماہی پروری سے متعلق یہ پروجیکٹ بنگال کی ترقی کو نئی رفتار عطا کریں گے اور یہاں کی دیہی معیشت کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ میں ان پروجیکٹوں پر بنگال کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔آج پردھان منتری کسان سمان ندھی کی 23ویں قسط بھی جاری کی گئی ہے۔ اس کے تحت ملک بھر کے 9 کروڑ سے زائد کسانوں کے بینک کھاتوں میں تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے براہِ راست منتقل کیے گئے ہیں۔ میں تمام مستفید کسان کنبوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتا ہوں۔
دوستو!
غلامی کے دور میں بنگال نے بے پناہ مصائب برداشت کیے، بے شمار قربانیاں دیں اور عظیم ایثار و قربانی کا مظاہرہ کیا۔ 1946 میں کولکاتا کے فسادات اور نوآکھالی کے سانحات میں نہ جانے کتنے بے گناہ بنگالی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بھائیو اور بہنو!
بنگال نے خونریزی دیکھی، اپنے عزیزوں کو کھویا اور اپنی سرزمین کو تقسیم ہوتے ہوئے دیکھا۔ لیکن ان تمام آزمائشوں کے باوجود بنگال نے اپنی شناخت، اپنی روح اور اپنی تہذیبی اساس کو مٹنے نہیں دیا۔اسی کا نتیجہ تھا کہ جب پورے بنگال کو بھارت سے الگ کرنے کی سازش کی گئی تو مغربی بنگال کے قیام نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔ ہزاروں سال پرانی تہذیب و ثقافت، یہاں کے عقائد اور روایات نے بے شمار جدوجہد کے باوجود خود کو محفوظ رکھا۔آج یہ اقدار اور روایات صرف مغربی بنگال میں محفوظ ہی نہیں بلکہ پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ اور متحرک ہیں۔اسی لیے مغربی بنگال دیوس مناتے وقت ہم صرف ایک تاریخ کو یاد نہیں کرتے بلکہ ایک مکمل تاریخی سفر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ہم بنگال کی ہزاروں سالہ تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی وراثت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
دوستو!
آج کی نسل کو بار بار مغربی بنگال دیوس کی اہمیت یاد دلانا ضروری ہے۔ نوجوانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ اُس دور میں کیا حالات تھے۔ جب پورے بنگال کو پاکستان میں شامل کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں، اُس وقت کانگریس ان سازشوں کے سامنے جھک رہی تھی۔ ایسے نازک وقت میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے اس منصوبے کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔اپریل 1947 میں انہوں نے ایک تاریخی قرارداد منظور کروائی اور اعلان کیا کہ پورا بنگال پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا۔ اسی مقصد کے لیے ’’بنگالی ہندو ہوم لینڈ تحریک‘‘ شروع کی گئی، جس کی قیادت ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نے کی۔اس تحریک میں نامور سائنس دان ڈاکٹر میگھ ناد ساہا، مورخین آر سی مجو مدار اور جادوناتھ سرکار، ماہرِ لسانیات سنیتی کمار چٹرجی اور بنگال کے متعدد دانشور شامل ہوئے۔ معروف صنعت کار جی ڈی برلا نے بھی اس تحریک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ پی آر ٹھاکر سمیت متوا برادری کے رہنماؤں نے بھی اس کی حمایت کی۔اخبارات میں مضامین شائع ہوئے، کہانیاں لکھی گئیں اور ‘‘وندے ماترم’’ کے جذبے کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ فرقہ وارانہ سیاست کے باعث دبائی گئی بنگال کی آواز ایک عوامی تحریک کے ذریعے دوبارہ بلند ہوئی۔ نتیجتاً بھارت مخالف قوتوں کو احساس ہو گیا کہ پورے بنگال کو بھارت سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ یوں مغربی بنگال بھارت ماتا کے ساتھ برقرار رہا۔
دوستو!
آزادی کے وقت جس جذبے کے ساتھ مغربی بنگال کو بچایا گیا تھا، آزادی کے بعد اسی جذبے کو آگے بڑھایا جانا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے اس کے برعکس ہوا۔ مغربی بنگال دیوس اور اس کی حقیقی معنویت کو فراموش کرنے کی کوشش کی گئی اور سیاسی مفادات کے لیے تاریخ کو مسخ کیا گیا۔
بھائیو اور بہنو!
تقسیمِ ہند کے وقت کانگریس بنگال کو چھوڑ دینے کے لیے تیار تھی۔ تقسیم کے بعد بھی باقی رہ جانے والے مغربی بنگال میں خوشامدپرستی پر مبنی سیاست کا کھیل شروع کر دیا گیا۔ مغربی بنگال کی اس تاریخ کو دبایا گیا اور چونکہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی بعد میں جن سنگھ کے بانی بنے، اس لیے ان کی خدمات کو نظر انداز کیا گیا۔جس جذبے کے ساتھ انہوں نے بنگال کے لیے جدوجہد کی تھی، اسی جذبے کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اس سرزمین پر، جہاں گرو دیو رابندر ناتھ ٹیگور، بنکم چندر چٹوپادھیائے، سوامی وویکانند، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور ایشور چندر ودیا ساگر جیسی عظیم شخصیات نے جنم لیا، وہاں بیرونی نظریات مسلط کیے گئے۔پہلے کانگریس، پھر بائیں بازو کی جماعتیں اور بعد ازاں ترنمول کانگریس— ان سب نے کئی دہائیوں تک مغربی بنگال کو مضبوط اور خوشحال بنانے کے بجائے اسے غیر قانونی دراندازوں کا مرکز بننے دیا۔ وہ بنگال جو بھارت کی ترقی کی قیادت کر سکتا تھا، آگے بڑھنے کے بجائے مسلسل پسماندہ ہوتا گیا۔
دوستو!
مغربی بنگال دیوس کے موقع پر ہمارا فرض ہے کہ ہم عہد کریں کہ تاریخ کی ان غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا۔ مغربی بنگال دیوس سے ملنے والی تحریک کی بنیاد پر ایک نئی تاریخ رقم کی جائے گی۔
دوستو!
برسوں کی بدانتظامی اور ناقص حکمرانی نے مغربی بنگال کو ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے دھکیل دیا۔ آپ نے خود دیکھا کہ سابقہ حکومتوں کے دور میں حالات کس طرح بگڑتے گئے۔ بڑی صنعتیں ریاست چھوڑ گئیں، چھوٹے کاروبار تباہ ہو گئے، نوجوان روزگار سے محروم ہو گئے اور وسائل پر دراندازوں کا قبضہ بڑھتا گیا۔جو بنگال کبھی مواقع اور امکانات کی سرزمین تھا، وہ نقل مکانی کا مرکز بنتا چلا گیا۔ ایسے ماحول میں آپ نے ترنمول کانگریس کی حکومت کو ہٹانے کا عزم کیا۔ آپ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریکارڈ تعداد میں سیٹیں دے کر اعتماد کا اظہار کیا اور آج پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ بنگال کو اس کے فوری نتائج ملنے شروع ہو گئے ہیں۔وہ حقوق اور سہولتیں جو برسوں تک آپ سے دور رکھی گئیں، اب آپ کے گھر کی دہلیز تک پہنچ رہی ہیں۔ انتخابات کے دوران میں نے آپ سے آیوشمان بھارت اسکیم کا وعدہ کیا تھا، اب بنگال کے ہر غریب شہری کو اس کا فائدہ ملے گا۔انّاپورنا یوجنا کے تحت ماؤں اور بہنوں کو براہِ راست فوائد ملنے شروع ہو گئے ہیں۔ ہر گھر تک صاف پانی پہنچانے کے لیے جل جیون مشن کے تحت مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔انتخابات کے دوران ہم نے بنگال کے نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمتوں میں عمر کی حد میں نرمی دی جائے گی، اور یہ وعدہ پورا کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح خواتین کے لیے مفت بس سفر کے وعدے کو بھی پورا کیا جاچکا ہے ۔
دوستو!
برسوں تک سیاسی رقابت اور مفاداتی سیاست کے باعث متعدد فلاحی منصوبے تعطل اور تاخیر کا شکار رہے۔ لیکن آج ان تمام رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے جن کلیان شِوروں (عوامی فلاحی کیمپوں) کے ذریعے حکومت کی ہر اسکیم براہِ راست آپ تک پہنچ رہی ہے۔اب نہ کوئی دلال ہے اور نہ ہی کوئی رکاوٹ۔ توجہ صرف آپ کے حقوق، بنگال کی ترقی، اور بنگال و ملک کی سلامتی پر مرکوز ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ سرحدپر باڑ لگانے کے لیے زمین کی منتقلی کا کام، جسے سابقہ حکومتوں نے کئی دہائیوں تک روکے رکھا تھا، نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد شروع کر دیا گیا ہے۔
بھائیو اور بہنو!
مجھے خوشی ہے کہ مغربی بنگال میں صنعتی ترقی کی بنیاد دوبارہ استوار ہونے لگی ہے۔ یہ بنیاد دو اہم ستونوں پر قائم ہے: ایماندار اور شفاف طرزِ حکمرانی اور قانون کی بالادستی۔آج صرف مغربی بنگال ہی نہیں بلکہ پورا ملک اس تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ جن لوگوں نے عوام کا مال لوٹا، وہ اب خود ہی لوٹی ہوئی دولت واپس کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے بدعنوان عناصر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے ہیں۔ سنڈیکیٹ مافیا کے سرغنہ عوام سے معافیاں مانگ رہے ہیں۔ ٹول ناکوں پر جبراً وصولی کرنے والے عناصر فرار ہو چکے ہیں۔آج بنگال کے لوگ بلا رکاوٹ آزادانہ نقل و حرکت کر رہے ہیں۔
"ایکھون کٹ منی شیش، کاج شروع ہوئے گیچھے"
دوستو!
وہ بنگال جو خستہ حال سڑکوں اور کمزور بنیادی ڈھانچے کے مسائل سے دوچار تھا، آج برسوں سے رکے ہوئے پروجیکٹوں کو تیزی سے مکمل ہوتے ہوئےدیکھ رہاہے ۔دیکھیے، چنگری گھاٹا کراسنگ پر کولکاتا میٹرو کی اورنج لائن کا وہ کام جو طویل عرصے سے رکا ہوا تھا، مکمل کر لیا گیا ہے۔ ہاوڑہ میں تقریباً 100 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک نئے ڈویژنل ریلوے اسپتال کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ یہ اسپتال ہنگامی طبی خدمات اور سنگین بیماریوں کے علاج کی سہولت فراہم کرے گا۔اسی طرح مشرقی مدنی پور میں ہوراور رادھا موہن پور کے درمیان روڈ اوور برج اور سنکریل–سانتراگاچھی لنک لائن جیسے پروجیکٹ عوام کے لیے آمد و رفت کو مزید آسان بنائیں گے۔
دوستو!
آج پردھان منتری کسان سمان ندھی کے تحت ملک بھر کے 9 کروڑ سے زائد کسانوں کے بینک کھاتوں میں براہِ راست رقم منتقل کی گئی ہے۔اور مغربی بنگال کے کسانوں کے لیے ایک اور خوشخبری بھی ہے۔ آج سے ریاست میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کا آغاز کیا جا رہا ہے۔یہ اسکیم مشکل حالات میں کسان خاندانوں کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوگی۔ اگر کسی وجہ سے فصل کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کا پورا بوجھ کسان پر نہیں پڑے گا بلکہ بیمہ اسکیم اس نقصان کے ازالے میں مدد فراہم کرے گی۔
دوستو!
اب مغربی بنگال بھی ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کا حصہ بن رہا ہے۔ ایگری اسٹیک کے ذریعے کسانوں کا ایک جامع اندراج تیار کیا جائے گا۔ دیہات کے نقشے اور فصلوں سے متعلق معلومات ڈیجیٹل شکل میں دستیاب ہوں گی۔ اس کے نتیجے میں کھاد کی خریداری، کسان کریڈٹ کارڈ، براہِ راست مالی امداد اور کم از کم امدادی قیمت پر فصلوں کی خریداری جیسی سہولتیں مزید آسان اور مؤثر ہو جائیں گی۔
دوستو!
زرعی اعتبار سے پسماندہ ترین اضلاع کی ترقی کے لیے حکومت نے پردھان منتری دھن-دھانیہ کرشی یوجنا شروع کی ہے۔ مغربی بنگال کے چار اضلاع — پرولیا، دارجلنگ، علی پور دوار اور جھارگرام — اس منصوبے میں شامل کیے گئے ہیں۔اس اسکیم کے تحت زرعی پیداوار میں اضافہ، ذخیرہ گاہوں کی تعمیر اور کسانوں کے لیے قرضوں کی سہولت کو آسان بنانے پر کام کیا جائے گا۔بنگال میں ماہی پروری ، ماہی گیروں اور تاجروں کے روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی لیے جنوبی 24 پرگنہ میں واقع فریسر گنج فشنگ ہاربر کی گنجائش میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ بیربھوم میں ایک جدید مچھلی منڈی بھی قائم کی گئی ہے۔اب بنگال رکے گا نہیں —
‘‘ایبار بنگلا تھامبے نا، ایکھون اتیہاش گوربے’’
دوستو!
آج ملک بھر سے لاکھوں کسان اس پروگرام سے جڑے ہوئے ہیں۔ مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور وزراء بھی اس تقریب میں شریک ہیں۔ ملک کے کونے کونے سے کسان اس جشن کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ تمام کسان پردھان منتری کسان سمان ندھی کے مستفیدین ہیں۔میں اپنے تمام کسان بھائیوں اور بہنوں سے دل کی گہرائیوں سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم میری بات غور سے سنیں۔میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے کہتا ہوں کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے بنجر زمینیں نہیں بلکہ زرخیز کھیت چھوڑ کرجانے چاہئیں۔ ہمیں اپنی دھرتی ماں کو بچانا ہے۔حکومتِ ہند "کھیت بچاؤ مہم" چلا رہی ہے، جس کا مقصد زمین کی زرخیزی کا تحفظ، کیمیائی کھادوں کے بے جا استعمال میں کمی اور قدرتی کاشتکاری کو فروغ دینا ہے۔میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، اپنے کھیتوں کو بچانے کا عہد کریں، اپنے آس پاس کے کسانوں کو بھی اس کی ترغیب دیں اور مل کر اپنی دھرتی ماں کی حفاظت کریں۔یہ زمین ہماری ماں ہے، اور ہم اسے کیمیکلوں کے ذریعے نقصان پہنچا کر اس کے ساتھ ناانصافی نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنی دھرتی ماں کو محفوظ رکھنا ہوگا۔
دوستو!
بھارت نے 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس عظیم عزم کی سب سے مضبوط بنیاد مشرقی بھارت کی ترقی ہے۔ اسی مقصد کے لیے ہم مشن پوروَودیہ پر کام کر رہے ہیں۔اس مشن میں بنگال کا کردار نہایت اہم ہے۔ بنگال کی ترقی، پورے مشرقی بھارت کی ترقی کو نئی رفتار عطا کرے گی۔
بھائیو اور بہنو!
ترقی کے اس سفر میں ہمیں ایک اور اہم حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنا ہوگا۔ ترقی کی پہلی اور بنیادی شرط امن، سماجی ہم آہنگی اور استحکام ہے۔ہمیں بنگال کی ثقافتی شناخت اور سماجی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا اور مل جل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
دوستو!
کل پورا ملک اور دنیایوگا کا بین الاقوامی دن منائے گی۔ اس مرتبہ مجھے بھی بنگال کی سرزمین پر یوگا ڈے کی تقریبات میں شرکت کا موقع ملے گا۔سوامی وویکانند اور مہارشی اروند جیسے عظیم یوگیوں کی یہ دھرتی دنیا کو ایک ایسا پیغام دے گی جو پوری انسانیت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے گا۔میں چاہتا ہوں کہ یوگا ڈے کی تقریبات بنگال کے ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں منعقد ہوں۔ آپ سب یوگا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس عالمی دن میں بھرپور شرکت کریں۔اسی درخواست کے ساتھ میں ایک بار پھر آپ سب کو ان ترقیاتی پروجیکٹوں پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔آج جب ہم مغربی بنگال دیوس کو جوش و خروش اور خوشی کے ساتھ منا رہے ہیں، تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے موبائل فون نکالیں، ان کی فلیش لائٹس روشن کریں اور مل کر اس دن کا جشن منائیں۔آئیے، ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو اور میرے ساتھ کہیں:بھارت ماتا کی جے! بھارت ماتا کی جے! بھارت ماتا کی جے!
وندے ماترم! وندے ماترم! وندے ماترم!
وندے ماترم! وندے ماترم! وندے ماترم!
وندے ماترم!
آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔
****
ش ح۔ ش ب– ف ر
Uno-9022
(रिलीज़ आईडी: 2276521)
आगंतुक पटल : 3