صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند نے جبل پور میں رانی درگاوتی یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب کو رونق بخشی
طلباء میں تخلیقی سوچ، سائنسی مزاج اور کاروباری جذبے کو فروغ دینا اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی ایک اہم ذمہ داری ہے: صدر دروپدی مرمو
اپنی تعلیم اور ہنر کا استعمال نہ صرف ذاتی کامیابی کے لیے کریں، بلکہ معاشرے کی وسیع تر بھلائی کے لیے کریں: صدر دروپدی مرمو کی طلباء کو نصیحت
प्रविष्टि तिथि:
21 JUN 2026 4:06PM by PIB Delhi
صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے آج (21 جون 2026) جبل پور، مدھیہ پردیش میں رانی درگاوتی یونیورسٹی کی 36 ویں کانووکیشن تقریب کو رونق بخشی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، صدر جمہوریہ نے کہا کہ تعلیم کسی بھی فرد یا برادری کی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اس لیے، قبائلی برادری کی تعلیمی ترقی کے لیے کوششیں کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ قبائلی نوجوانوں کو جدید ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ملے، اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی قبائلی شناخت اور انفرادیت کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ، قبائلی برادری کے روایتی ہنر اور علم کو مختلف ذرائع سے پھیلایا جانا چاہیے۔ قبائلی علم اور دستکاری کی روایات کا جامع مطالعہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ رانی درگاوتی یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں کو اس سلسلے میں خصوصی کوششیں کرنی چاہئیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ طلباء کو تعلیم دینے کے علاوہ، اعلیٰ تعلیم کے ادارے جدت طرازی (انوویشن) اور تحقیق کے اہم مراکز کے طور پر کام کرتے ہیں۔ طلباء میں تخلیقی سوچ، سائنسی مزاج اور کاروباری جذبے کو فروغ دینا ان اداروں کی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ ان سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ طلباء میں ہندوستانی ثقافت، روایات اور زبانوں کے لیے فخر کا احساس پیدا کریں۔ جدیدیت اور روایت کے خوشگوار امتزاج سے ہی ملک کی متوازن ترقی حاصل ہوگی۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ان علوم اور تحقیق پر زور دیا جانا چاہیے جو ملک اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوں۔ معاشرے کو اس وقت فائدہ پہنچتا ہے جب ماحولیاتی تحفظ، خواتین کو بااختیار بنانا، پسماندہ طبقات کی ترقی، صفائی ستھرائی اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ ایسے موضوعات پر مطالعہ اور تحقیق ملک کی ترقی کے لیے منصوبے تیار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ دنیا آج تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہماری زبان اور طرزِ زندگی بھی تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کچھ ابدی اقدار ہمیشہ ہمیں بااختیار بناتی ہیں۔ انہوں نے طلباء کو نصیحت کی کہ وہ ہندوستانی ثقافت کی اقدار اور اصولوں کو اپنی زندگی کی بنیاد بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ سچائی، عدم تشدد، ہمدردی، خدمت اور ایمانداری جیسی اقدار ہر دور میں ہمیشہ بنیادی شعور کا حصہ رہی ہیں۔ ان اقدار کو اپنا کر وہ مشکل ترین حالات کا بھی پختہ عزم کے ساتھ سامنا کر سکتے ہیں، مثالی شہری بن سکتے ہیں، اور ملک کی تعمیر میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔
صدر جمہوریہ نے طلباء سے کہا کہ وہ محض اپنے خاندانوں یا یونیورسٹیوں کے نمائندے نہیں ہیں؛ بلکہ وہ ملک کی امنگوں اور اس کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ان کے علم، توانائی اور عزم کے ذریعے ہی ترقیافتہ ہندوستان (وکست بھارت) کا خواب پورا ہوگا۔ انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم اور ہنر کا استعمال نہ صرف ذاتی کامیابی کے لیے کریں، بلکہ معاشرے کی وسیع تر بھلائی کے لیے کریں۔ انہوں نے انہیں نصیحت کی کہ وہ اپنے اردگرد موجود محروم اور دیہی طبقات کو درپیش چیلنجوں کو سمجھیں، ان کی ضروریات کے مطابق حل تلاش کریں، انہیں بااختیار بنائیں اور انہیں ترقی کے دھارے میں لانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ ملک ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، اسٹارٹ اپس، گرین انرجی، خلائی تحقیق اور جدید انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں نئی بلندیاں چھو رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ماحول کے تئیں اپنی ذمہ داری کو پورا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پانی، جنگلات اور زمین کے تحفظ، صاف ستھری توانائی کے استعمال، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور پائیدار ترقی کا عزم ان کے زندگی کے سفر کا ایک لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
صدر جمہوریہ کی تقریر دیکھنے کے لیے براہِ کرم یہاں کلک کریں-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ف ا۔ن م۔
U- 9000
(रिलीज़ आईडी: 2276305)
आगंतुक पटल : 12