وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

پیرس میں بھارتی برادری کی تقریب  سے وزیر اعظم کا خطاب

प्रविष्टि तिथि: 18 JUN 2026 11:47PM by PIB Delhi

نمستے!

بون ژو!

ایسا لگ رہا ہے کہ آپ سب چھٹی کے موڈ میں ہیں۔

ساتھیو!

یہ پیرس شہر روشنیوں کا شہر ہے، رنگوں کا شہر ہے۔ یہاں فن ہے، خیالات ہیں اور جدّت کی تحریک بھی ہے۔ اس شہر کو بھارت کی مختلف ریاستوں سے آئے آپ سب لوگ اور بھی خوبصورت بنا دیتے ہیں، اور نئے نئے رنگوں سے بھر دیتے ہیں۔

کوئی تمل ہے، کوئی پنجابی ہے، کوئی گجراتی ہے، تو کوئی مراٹھی ہے اور کوئی بنگالی ہے۔ بھارت کے ہر کونے کی نمائندگی یہاں نظر آتی ہے۔

ساتھیو!

جب میں 14 جون کو نیس پہنچا تو سب سے پہلے بھارت انوویٹس  پروگرام میں شامل ہوا تھا۔ آج جب میں فرانس سے واپسی کی تیاری کر رہا ہوں تو لگ رہا ہے جیسے میں انڈیا کنیکٹس پروگرام میں آ گیا ہوں۔

فرانس میں رہنے والے آپ سب لوگوں نے 21ویں صدی کے بھارت-فرانس تعلقات کو جس طرح جوڑا ہے، وہ ہماری اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کی بہت بڑی طاقت بن رہا ہے۔ میں آپ سب کے لیے بھارت سے 140 کروڑ ہم وطنوں کی نیک خواہشات لے کر آیا ہوں۔ اس پرتپاک استقبال کے لیے میں آپ سب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ساتھیو!

آج میں ایسے وقت میں فرانس آیا ہوں جب کچھ ہی دن پہلے ہماری حکومت کے 12 سال مکمل ہوئے ہیں۔ منتخب وزیر اعظم کے طور پر مسلسل 12 سال تک ملک کی خدمت کرنا میری زندگی کا بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ بھارت کی جمہوریت کی طاقت ہے جس نے ایک چائے والے کو یہاں تک پہنچایا۔

ساتھیو!

گزشتہ 12 سال 140 کروڑ بھارتیوں کی غیر معمولی صلاحیت کے سال رہے ہیں۔ اس عرصے میں بھارت کا جی ڈی پی دگنا ہوا ہے۔ ہوائی اڈوں  کی تعداد دگنی ہوئی ہے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد بھی دگنی ہو گئی ہے۔ ہائی وے تعمیر کی رفتار تین گنا بڑھ گئی ہے، اور میٹرو نیٹ ورک چار گنا بڑا ہو گیا ہے۔

میں آپ کو کچھ اور اعداد و شمار بتاتا ہوں تاکہ آپ اندازہ لگا سکیں کہ بھارت کس رفتار اور کس بڑے پیمانے پر ترقی کر رہا ہے۔ گزشتہ 12 سالوں میں بھارت کی دفاعی برآمدات 35 گنا بڑھ گئی ہیں۔

اور ایک سچائی سنیں، بھارت میں موبائل مینوفیکچرنگ یونٹس میں 100 گنا اضافہ ہوا ہے۔ بھارت اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک ہے۔ اسی رفتار اور ترقی کا نتیجہ ہے کہ آج بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشت ہے۔

ساتھیو!

آج بھارت کی کہانی صرف معاشی ترقی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ صرف یہاں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ سماجی تبدیلی کی بھی کہانی ہے۔

گزشتہ 12 برسوں میں ملک میں 25 کروڑ لوگ غربت سے باہر نکلے ہیں۔ یعنی ایسی ترقی جس کا فائدہ معاشرے کے آخری فرد تک پہنچ رہا ہے۔ فرانس میں جتنے گھر ہیں، اس سے بھی زیادہ پکے گھر پچھلے 12 برسوں میں ہم نے ضرورت مندوں کے لیے بنائے ہیں۔

اب ہر خاندان کے پاس، چاہے وہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو، بینک اکاؤنٹ موجود ہے۔ مالی شمولیت  اب صرف ایک سرکاری پروگرام نہیں رہا، بلکہ ایک بڑے سماجی تبدیلی کے مشن میں بدل چکی ہے۔

ساتھیو!

ان 12 برسوں کی کامیابیوں میں ایک ایسی کامیابی بھی ہے جسے کسی عدد یا اعداد و شمار سے ناپا نہیں جا سکتا۔ وہ ہے 140 کروڑ بھارتیوں کا اعتماد اور خود اعتمادی۔

آج کا بھارت اور آج کا بھارتی نوجوان بڑے بڑے خواب دیکھ رہا ہے۔ بھارت کا کسان نئے امکانات کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ بھارت کی خواتین نئی قیادت کی مثالیں قائم کر رہی ہیں۔ اس لیے یہ صرف کامیابیوں کے 12 سال نہیں، بلکہ بھارت کی امنگوں  کو نئی بلندی دینے کا دور ہے۔

ساتھیو!

ایک وقت تھا جب دور دراز دیہاتوں تک جدید سہولیات پہنچانا واقعی بہت مشکل تھا۔ آج انہی دیہاتوں میں بجلی بھی ہے، انٹرنیٹ بھی ہے، اور ڈیجیٹل خدمات کی پوری دنیا بھی موجود ہے۔ آج ایک کلک پر، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بینکنگ خدمات دستیاب ہیں۔

آج موبائل فون بھارت کے شہریوں کو مختلف سہولیات سے جوڑ رہا ہے۔ ہمارے کسان، ماہی گیر، ڈیری فارمرز، خواتین اور طلبہ سب ٹیکنالوجی کے ذریعے بااختیار ہو رہے ہیں اور نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

ساتھیو!

آپ نے 125 کروڑ سے زائد آدھار آئی ڈیز کے بارے میں سنا ہوگا۔ لیکن آج بھارت صرف شناخت کو ڈیجیٹل نہیں بنا رہا، بلکہ تقریباً 90 کروڑ بھارتیوں کی منفرد ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈیز بھی بنائی جا چکی ہیں، جس سے میڈیکل ریکارڈ محفوظ اور آسانی سے دستیاب ہو گئے ہیں۔ اس سے صحت کی سہولیات کی فراہمی مزید آسان اور مؤثر ہو رہی ہے۔

ساتھیو!

ان کامیابیوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سب کچھ چند سال پہلے تک صرف تصور لگتا تھا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ دیہاتوں تک ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ پہنچے گا؟ کون سوچ سکتا تھا کہ دور دراز علاقوں میں کیوآر کوڈ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے گا؟ یا دیہات میں کوئی بہن ڈرون کے ذریعے کھیتی میں مدد کرے گی؟ یہ سب ناممکن لگتا تھا۔

لیکن آج یہ سب بھارت کے کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اور آپ کو فخر ہوگا کہ یہی نئے بھارت کی پہچان ہے۔

جو کبھی خواب تھا، وہ آج حقیقت ہے۔ جو کبھی ناممکن لگتا تھا، وہ آج ممکن ہو چکا ہے۔ اور یہ سب کیوں ممکن ہوا؟ صرف کسی ایک شخص کی وجہ سے نہیں، بلکہ بھارت کی جمہوریت کی طاقت کی وجہ سے، جہاں سب کا ساتھ، سب کا وکاس ہے۔

ساتھیو!

آج سے 50 یا 100 سال بعد جب بھارت کے اس دور کا جائزہ لیا جائے گا تو یہ بات سامنے آئے گی کہ اس وقت کو بھارت کی امنگوں  نے آگے بڑھایا۔ یہ بھارت کے نئے دور کی شروعات ہے۔

جہاں بجلی پہنچی ہے، وہاں لوگ اب اسمارٹ لائف چاہتے ہیں۔ جہاں ٹرین پہنچی ہے، وہاں ہائی اسپیڈ کنیکٹیویٹی کی خواہش ہے۔ جہاں شاہراہیں بنی ہیں، وہاں عالمی معیار کی ایکسپریس ویز کی مانگ ہے۔ جہاں انٹرنیٹ پہنچا ہے، وہاں لوگ اے آئی اور ڈیجیٹل جدت میں قیادت چاہتے ہیں۔

یعنی آج بھارت کے لوگ اپنی زندگی کو بھی اگلے درجے پر لے جانا چاہتے ہیں اور بھارت کو بھی آگے بڑھانا ان کا عزم ہے۔اور یہی امنگیں آج بھارت کی ترقی کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ میں آپ کو بھارت کے خلائی سفر کی مثال دیتا ہوں۔

بھارت نے چندریان کو چاند کے جنوبی قطب پر اتارا، جو ایک بڑی کامیابی تھی۔ لیکن بھارت وہاں رکا نہیں۔ آج ملک گگن یان کی تیاری کر رہا ہے اور خلا میں اپنا اسپیس اسٹیشن بنانے کی سمت بڑھ رہا ہے۔

اسپیس اسٹارٹ اپس عالمی اسپیس معیشت میں اپنی جگہ بنانے کے لیے بھرپور کام کر رہے ہیں۔

ساتھیو!

گرین انرجی کے میدان میں بھی یہی امنگیں نظر آتی ہیں۔ سولر پاور میں بھارت کی کامیابیاں دنیا بھر میں تسلیم کی جا رہی ہیں۔ لیکن بھارت اگلی بڑی چھلانگ کی تیاری کر رہا ہے۔

گرین ہائیڈروجن میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ایڈوانسڈ نیوکلیئر انرجی پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ آپ نے فاسٹ بریڈر نیوکلیئر ری ایکٹر کی پیش رفت کے بارے میں بھی سنا ہوگا، جو بھارت کے نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت ہے۔

ساتھیو!

آج کا بھارت صرف مستقبل کی تیاری نہیں کر رہا، بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام  تشکیل دے رہا ہے۔ بھارت ان تمام شعبوں میں بیک وقت سرمایہ کاری کر رہا ہے جو آنے والی دہائیوں کی سمت طے کریں گے۔

آپ نے حال ہی میں نیس میں “انڈیا انوویٹس” کا انعقاد دیکھا ہوگا۔ یہ ایونٹ بھارت کی ڈیپ ٹیک  صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانے کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ اس میں بھارت کے 120 ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس نے شرکت کی۔ “انڈیا انوویٹس” کے دوران تقریباً 1400 بی 2بی  میٹنگیں ہوئیں۔ کئی اسٹارٹ اپس کے لیے سرمایہ کاری کے وعدے  میں پیش رفت ہوئی اور تجارتی معاہدوں کے راستے کھلے۔ فرانسیسی اور یورپی یونیورسٹیز اور انکیوبیٹرز کے ساتھ روابط میں اضافہ ہوا۔

طلباء کے تبادلے، مشترکہ تحقیق اور اختراعی تعاون  کے نئے راستے کھلے۔ اس لئے بھارت انوویٹس صرف ایک سمٹ نہیں رہا، بلکہ یہ اختراعی سفارتکاری  کا ایک نیا ماڈل بن گیا ہے۔

اور آج پیرس میں ویوا ٹیک  کے ذریعے ہم نے اس سفر کو مزید آگے بڑھایا ہے۔ نیس میں ہم نے آئیڈیاز کو سرمایہ سے جوڑا اور پیرس میں ہم نے بھارتی اختراع کو عالمی سطح  سے جوڑا۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت صرف مستقبل کے لیے تیار نہیں ہو رہا، بلکہ وہ مستقبل کو تشکیل دے رہا ہے۔

 

ساتھیو!

ایک وقت تھا جب ممالک کے درمیان تعلقات صرف تجارت  سے طے ہوتے تھے۔ آج تجارت کے ساتھ ساتھ اعتماد بھی اتنا ہی اہم ہو گیا ہے۔

ہر ملک قابلِ اعتماد سپلائی چینز چاہتا ہے۔ ہر ملک مستحکم شراکت داری چاہتا ہے۔ ہر ملک ایسے شراکت دار تلاش کر رہا ہے جن پر طویل مدت تک اعتماد کیا جا سکے۔ اور ایسے وقت میں بھارت دنیا میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار  کے طور پر ابھر رہا ہے۔

جی7 اجلاس کے دوران میں نے اعتماد پر مبنی شراکت داریوں پر زور دیا اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ برابر کے شراکت داروں کے طور پر آگے بڑھنے کی اپیل کی۔ بھارت کا پیغام تھا کہ عالمی حکمرانی تبھی مؤثر ہوگی جب وہ جامع ہوگی۔ عالمی ترقی تبھی پائیدار ہوگی جب وہ مشترکہ  ہوگی، اور عالمی ٹیکنالوجی تبھی انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوگی جب وہ قابلِ اعتماد ہوگی۔

ساتھیو!

بھارت اور دنیا کے درمیان تجارتی تعلقات میں نئی توانائی نظر آ رہی ہے۔ فرانس کے ساتھ بھارت کی تجارت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں بھارت نے دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں۔ یورپی یونین ہو، برطانیہ ہو، بھارت ہر خطے کے ساتھ معاہدے کر رہا ہے۔

اگلے ماہ سے بھارت اور برطانیہ کے درمیان تجارتی معاہدہ بھی نافذ ہو جائے گا، جو کسانوں، مزدوروں اور اختراع کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

ساتھیو!

آج دنیا غیر یقینی صورتحال اور تبدیلیوں  کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے وقت میں بھارت اور فرانس کی شراکت داری اعتماد، استحکام اور تعاون کا ایک مضبوط ستون بن رہی ہے۔

اس سال ہم نے بھارت اور فرانس کے تعلقات کوخصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا ہے۔ نیس میں، میں نے اپنے دوست صدر میکروں  کے ساتھ اس بات پر گفتگو کی کہ ہماری شراکت داری کو عالمی بھلائی کا ذریعہ بنایا جائے۔

دفاع، خلائی ٹیکنالوجی، جوہری توانائی، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات  اور تیز رفتار ریل تک، ہم ہر شعبے میں مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

ساتھیو!

شمسی توانائی ہو یا اے آئی میں تعاون، بھارت اور فرانس مل کر ایسے حل تیار کر رہے ہیں جو پوری انسانیت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ پچھلے سال پیرس میں اور اس سال دہلی میں ہم نے اے آئی سمٹ کی مشترکہ صدارت کی۔

اب ہم مل کر اگلے سال ‘‘ترشنا” سیٹلائٹ لانچ کرنے جا رہے ہیں، جو دنیا میں خوراک اور پانی کی سلامتی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ساتھیو!

ان تمام سرکاری اقدامات میں آپ سب کا کردار بہت اہم ہے۔ آپ وہ پل ہیں جو بھارت اور یورپ کو جوڑتے ہیں۔ آپ دونوں معاشروں، دونوں مارکیٹس کو سمجھتے ہیں۔ آنے والے وقت میں ٹیلنٹ، تجارت، ٹیکنالوجی، سیاحت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو آگے بڑھانے میں آپ کا کردار مزید اہم ہوتا جائے گا۔

ساتھیو!

بھارت اور فرانس کے تعلقات مشترکہ تاریخ، مشترکہ اقدار اور مشترکہ اعتماد پر قائم ہیں۔ عالمی جنگوں کے دوران فرانس کی سرزمین پر قربانیاں دینے والے بھارتی فوجیوں کی یادیں آج بھی ہمیں جوڑتی ہیں۔

مجھے نو-شافیل میں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع ملا اور گزشتہ سال صدر میکروں  کے ساتھ مارسی میں وار میموریل جانے کا بھی موقع ملا۔ یہ ہماری مشترکہ وراثت ہے۔

فرانس نے بھارتی کردار کو ہمیشہ محفوظ رکھا اور سراہا ہے۔ نور عنایت خان، جنہوں نے فرانسیسی مزاحمتی تحریک  کے لیے جان قربان کی، یا مہاراجہ رنجیت کے ساتھ کام کرنے والے جنرل ژاں فرانسوا الار، یہ سب دونوں ممالک کے ورثے کی علامت ہیں۔

پڈوچیری میں آج بھی فرانسیسی ورثے کی جھلک نظر آتی ہے۔اس کا فن، تعمیرات اور ثقافت ہمارے تعلقات کی خوشبو کو ظاہر کرتے ہیں۔

ساتھیو!

اس وقت دنیا بھر میں بین الاقوامی یوم یوگا کی تیاریاں جاری ہیں۔ میں فرانس میں یوگا کو فروغ دینے والے جناب مہیش گھاٹڑایال کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں پدم ایوارڈ یافتہ شارلٹ شاپاں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے 100 سال کی عمر میں بھی یوگا کے ذریعے بھارت کے ورثے کو زندہ رکھا۔ ان کی زندگی ثابت کرتی ہے: “یوگا زندگی کے سال نہیں بڑھاتا، بلکہ سالوں میں زندگی شامل کرتا ہے۔”

ساتھیو!

میں فریڈ نیگری جی کو بھی احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں جنہوں نے بھارتی ورثے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔

ساتھیو!

بھارت اور فرانس کو جو چیز مزید جوڑتی ہے وہ فٹبال ہے۔ اس وقت فٹبال کا جوش و خروش اپنے عروج پر ہے۔ فرانس میں اس کی مقبولیت ہر جگہ نظر آتی ہے، اور بھارت میں بھی فٹبال کا جنون ہے۔ خاص طور پر فرانس کی ٹیم کے بہت سے مداح بھارت میں موجود ہیں۔ فرانس نے اس ورلڈ کپ کا آغاز شاندار فتح کے ساتھ کیا ہے، اور میں ان کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

ساتھیو!

جانے سے پہلے میں آپ کے لیے کچھ اچھی خبریں بھی لے کر آیا ہوں۔ گزشتہ سال مارسی میں قونصل خانہ کھولا گیا، جس سے سہولتیں بڑھ گئی ہیں۔ چند ہفتے پہلے بھارتی شہریوں کے لیے فرانسیسی ایئرپورٹس پر ویزا فری ٹرانزٹ شروع ہوا ہے۔

طلبہ اور پروفیشنلز کی موبیلیٹی، تعلیمی اسناد کی باہمی تسلیم اور فرانس میں بھارتی یونیورسٹی کیمپسزان سب پر ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔

اب فرانس میں یوپی آئی  کا استعمال بھی مزید بڑھنے جا رہا ہے۔ یعنی بھارت-فرانس کنکشن بھی فوری اور ادائیگی بھی فوری!

ساتھیو!

ان تمام اقدامات سے ہم بھارت اور فرانس کو مزید قریب لا رہے ہیں۔ اور میں پھر کہوں گا کہ اس شراکت کی اصل طاقت آپ سب ہیں۔ آپ میرے اپنے وطن کے لوگ ہیں۔

آج جب بھارت تیزی سے “وِکست بھارت” کے ہدف کی طرف بڑھ رہا ہے تو میں آپ سب سے اپیل کرتا ہوں کہ بھارت کے ساتھ مزید گہرائی سے جڑیں۔ اس سے ترقی کو نئی طاقت ملے گی اور آپ کو اپنی سرزمین کی خدمت کا موقع بھی ملے گا۔

انہی الفاظ کے ساتھ میں آپ سب کی محبت، جوش اور پرتپاک استقبال کے لیے دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بھارت ماتا کی جے!

بہت بہت شکریہ۔

***

(ش ح ۔ ع ح۔م ش(

U.No.8871


(रिलीज़ आईडी: 2275020) आगंतुक पटल : 2
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Punjabi , Gujarati , Odia