وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران’ مصنوعی ذہانت کے محفوظ، تیز رفتار اور مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن کے دوران وزیراعظم کےخطاب کا متن

प्रविष्टि तिथि: 17 JUN 2026 9:20PM by PIB Delhi

معزز حضرات

میں اس اہم موضوع کو ہماری گفتگو کا حصہ بنانے پر اپنے دوست صدر میخواں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مصنوعی ذہانت انسان کی تخلیق کردہ سب سے زیادہ تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز میں سے ایک ہے۔

آج انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی پہلو ایسا ہو، جسے اے آئی نے متاثر نہ کیا ہو۔ اے آئی سائنسٹیفک تحقیق کو غیر معمولی رفتار فراہم کر رہی ہے، حکمرانی کو زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنا رہی ہے اور صحت، تعلیم اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں کو نئی طاقت دے رہی ہے۔

تاہم، اے آئی کا اصل کسوٹی یہ نہیں ہے کہ ہماری مشینیں کتنی طاقتور ہوں گی، بلکہ اس کی کسوٹی یہ ہے کہ عام انسان کتنا بااختیار ہوگا۔ رواں برس  ہندوستان کے زیر اہتمام اے آئی امپیکٹ سمٹ میں ہم نے اسی سوچ کے ساتھ’ Human-Centric AI کی تشکیل پر زور دیا۔ اس سمٹ میں ہندوستان نے اپنا ’ایم اے این اے وی‘(انسانی) وژن پیش کیا، جو اے آئی سے متعلق ہندوستان کی تمام کوششوں کی رہنمائی کرتا ہے۔

حال ہی میں ’ہز ہولی نیس دی پوپ‘ نے اے آئی کے موضوع پر اپنے خط میں انسانی اقدار، شمولیت اور بامعنی انسانی کنٹرول کو اے آئی کی ترقی کی بنیاد بنانے پر زور دیا ہے۔ ہندوستان کا ایم اے این اے وی وژن اور ہز ہولی نیس کا پیغام دونوں ایک ہی بنیادی خیال کی عکاسی کرتے ہیں: ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو، اس کے مرکز میں انسان ہی ہونا چاہیے۔

دوستو!

اے آئی  کے نفاذ میں بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔ اے آئی بچوں کو ان کی اپنی زبان میں تعلیم دے سکتی ہے، ان کی تخلیقی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی ہے اور سیکھنے کے عمل کو ذاتی نوعیت کا بنا سکتی ہے، لیکن حفاظتی اقدامات  کے بغیر یہی ٹیکنالوجی انہیں غلط معلومات، ڈیپ فیکس اور استحصال  کے خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

ان دونوں صورتحال  میں فرق ٹیکنالوجی کا نہیں ہے۔ فرق اقدار  کا ہے، ڈیزائن کا ہے اور حکمرانی کا ہے۔ ڈیجیٹل اسپیس کو ہمیں بچوں کے لیے سیکھنے کا میدان   بنانا ہوگا، ہیرا پھیری  کا ہتھیار نہیں۔

دوستو!

فرنٹیئر اے آئی ماڈلز سے سائبر سیکورٹی کے میدان میں غیر معمولی امکانات پیدا ہو رہے ہیں، لیکن سائبر اسپیس میں کوئی بھی ملک اُس وقت تک مکمل طور پر محفوظ نہیں ہو سکتا، جب تک تمام ممالک محفوظ نہ ہوں۔ اسی لیے  ہندوستان ہمیشہ سے سائبر اسپیس کو ایک عالمی عوامی اثاثہ کے طور پر دیکھا ہے ۔ لہٰذا ان اہم اے آئی ٹیکنالوجیز تک رسائی بھی وسیع اور شمولیتی ہونی چاہیے۔ تمام جمہوری ممالک کو ایسے اے آئی ماڈلز تک رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے اہم معلوماتی بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کر سکیں اور بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مقابلہ کر سکیں۔

دوستو!

سلامتی، رفتار اور مؤثریت کے مربوط نقطۂ نظر کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے میں کچھ تجاویز پیش کرنا چاہوں گا:

سب سےپہلے ہمیںسیف-بائی-ڈیزائن اے آئی سسٹمز کو فروغ دینا چاہیے۔ سلامتی کوئی بعد میں شامل کیا جانے والا فیچر نہیں بلکہ ڈیزائن کا بنیادی جز ہونا چاہیے۔

دوسرے، اے آئی کے نفاذ کے لیے ہمیں مشترکہ معیارات، ٹیسٹنگ فریم ورکس اور قانونی تجرباتی ماحول تیار کرنے چاہییں، تاکہ جدت اور حکمرانی ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ ہمارے سامنے شہری ہوابازی اور سمندری نقل وحمل کی مثالیں موجود ہیں، جہاں ہم نے عالمی ضابطے کامیابی سے تیار کیے گئے اور پوری دنیا نے اس سے فائدہ اٹھایا۔

تیسرے، ڈیپ فیک، غلط معلومات اور سائبر فراڈ کے خلاف عالمی تعاون کو مضبوط کرنا ہوگا۔ ہمیں واٹرمارکس جیسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ڈیپ فیکس سے بچا جا سکے۔

اورچوتھی ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ اے آئی کے فوائد گلوبل ساؤتھ کے تمام ممالک تک پہنچیں، تاکہ یہ تقسیم پیدا کرنے والی نہیں بلکہ شمولیت کو فروغ دینے والی طاقت بنے۔

 دوستو!

اے آئی کے بارے میں ہماری سوچ اور پالیسی واضح ہونی چاہیے۔ اے آئی کو انسانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے، انسانی انتخاب کو بااختیار بنانا چاہیے اور انسانی وقار کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ہم اس نہایت اہم موضوع پر اپنے تمام شراکت داروں کے ساتھ بات چیت  اور تعاون جاری رکھیں گے۔

بہت بہت شکریہ۔

****

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U. No .8797


(रिलीज़ आईडी: 2274419) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Manipuri , Bengali , Assamese , Punjabi , Gujarati , Telugu , Malayalam