وزیراعظم کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

وزیراعظم کا فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی-7 سربراہی اجلاس میں’سب کے لیے متوازن، مشترکہ اور پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب پیش رفت‘ کے موضوع پر منعقدہ سیشن سے خطاب

प्रविष्टि तिथि: 18 JUN 2026 5:00AM by PIB Delhi

وزیراعظم جناب نریندر مودی نے آج فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ جی-7  سربراہی اجلاس میں’سب کے لیے ایک متوازن، مشترکہ اور پائیدار اقتصادی ترقی کی بحالی‘ کے موضوع پر آؤٹ ریچ سیشن سے خطاب کیا۔

اجلاس میں مشترکہ اور پائیدار ترقی پر خصوصی توجہ کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہے، پائیدار ترقی کا پیغام پوری دنیا میں بامعنی طور پر قبول کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ ترقی کا مطلب صرف جی ڈی پی  یا تجارتی اعداد و شمار نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا حقیقی اثر لوگوں کی شمولیت اور فلاح و بہبود پر پڑنا چاہیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس‘ [سب کا ساتھ، سب کی ترقی، سب کا بھروسہ اور سب کی کوشش] کے اصولوں پر مبنی ہندوستان کی ہمہ جہت اور شمولیت پر مبنی ترقی کی کہانی کو اجاگر کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کاجامع اور شمولیتی ترقی کا نظریہ اس کی بین الاقوامی وابستگیوں اور اقدامات کی بھی رہنمائی کرتا ہے، جس کی واضح جھلک اس کی 2023 کی جی-20 صدارت میں نظر آتی ہے، جہاں اس نے ’ایک زمین، ایک خاندان، ایک مستقبل‘ کے نصب العین کے ساتھ عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کے تصور کو فروغ دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح کے نقطہ نظر نے سپلائی چینز کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور جدت طرازی کو فروغ دینے کے لیے انڈیا مڈل ایسٹ یورپ اکنامک کوریڈور(آئی ایم ای سی) کے تصور کی رہنمائی کی۔ اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ بحرانوں اور تنازعات نے گلوبل ساؤتھ (ترقی پذیر ممالک) پر انتہائی کمزور کرنے والے اثرات مرتب کیے ہیں، انہوں نے ان کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی یکجہتی کی اپیل کی۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو ایسے امدادی طریقہ کار تیار کرنے چاہئیں جو ترقی پذیر ممالک کو معاشی لچک اور پائیداری فراہم کر سکیں۔ انہوں نے آئی ایم ای سی کی طرز پر افریقہ، لاطینی امریکہ اور بحر الکاہل کے جزائر والے ممالک کو جوڑنے والے کنیکٹیویٹی منصوبوں پر غور کرنے کی بھی اپیل کی۔ اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وزیر اعظم نے ’انٹرنیشنل موبلائزیشن پارٹنرشپ فار ایکسیلیریٹنگ کنیکٹیویٹی اینڈ ٹریڈ‘ آئی ایم پی اے سی ٹی (امپیکٹ) بنانے کی تجویز دی، جس میں جی-7 کے سرمائے، ہندوستان کی صلاحیت اور گلوبل ساؤتھ کی ملکیت کو یکجا کیا جا سکے۔

وزیر اعظم نے ایک مستحکم، قابل اعتماد اور خوشحال عالمی معیشت کے لیے  ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیااور اس بات کی نشاندہی کی کہ انضمام، شراکت داری اور مشترکہ ترقی پر اس کے یقین نے ہی اسے جی-7  کے ارکان اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کو آگے بڑھانے کی ترغیب دی ہے۔

****

ش ح۔م ع ن۔ م ش

U. No .8793


(रिलीज़ आईडी: 2274408) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Manipuri , Bengali , Gujarati , Telugu , Kannada , Malayalam