MIFF banner

سنیماٹوگرافی شائقین کو ایک خیالی دنیا پر یقین  دلانے کا فن ہے: 19ویں ایم آئی ایف ایف ورکشاپ میں مودھورا پالت کا اظہار خیال


روشنی سے لے کر کیمرے کے لینس تک: مودھورا نے ایم آئی ایف ایف میں سنیماٹوگرافی کے تمام تر پہلوؤں پر بات کی

ممبئی، 17 جون 2026

 

19ویں ایم آئی ایف ایف کے دوران ’’کور کرافٹ اور ویژوَل لینگویج: دی سول آف سنیماٹو گرافی‘‘ کے عنوان سے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مشہور سنیماٹو گرافر اور ڈائرکٹر مودھورا پالت نے شرکت کی، جو کانس فلم فیسٹیول میں مقتدر ’پیئر اینجینیو ایکسل لینس ایوارڈ‘حاصل کرنے والی پہلی بھارتی ہیں۔

فلم سازوں، طلبہ اور سنیما کے دلدادہ افراد سے خطاب کرتے ہوئے، پالِت نے سنیماٹوگرافی کو شائقین کے لیے ایک قابلِ یقین دنیا تخلیق کرنے کے فن کے طور پر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنیماٹوگرافی محض تصاویر کو ریکارڈ کرنے سے کہیں آگے کی چیز ہے، جس میں کہانی کو سہارا دینے اور جذبات کو بیدار کرنے کے لیے کیمرے کی حرکت، روشنی، فریمنگ اور کمپوزیشن یعنی منظر کشی کی ترتیب کا استعمال شامل ہوتا ہے۔

ایک سنیماٹوگرافر کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سنیماٹوگرافرز ہدایت کار کے تصور کو بصری زبان میں منتقل کرتے ہیں۔ کیمرے کی حرکت سے لے کر لینس کے انتخاب تک کا ہر تخلیقی فیصلہ اس بات کا تعین کرنے میں مدد کرتا ہے کہ ناظرین کہانی کو کس طرح محسوس کرتے ہیں اور اس کے کرداروں کے ساتھ کیسے جڑتے ہیں۔

اس ورکشاپ میں یہ جائزہ لیا گیا کہ بصری عناصر کس طرح ناظرین کے تاثرات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مثالوں کے ذریعے، پالِت نے واضح کیا کہ کیمرے کی مختلف حرکات کس طرح الگ الگ جذباتی اثرات پیدا کرتی ہیں، جبکہ فریمنگ، کمپوزیشن اور جگہ کا استعمال کس طرح خاموشی سے رشتوں، تنہائی یا تناؤ کی کیفیت کو ظاہر کر سکتا ہے۔ انہوں نے ماحول کو ترتیب دینے اور کسی کردار کی اندرونی حالت کو عیاں کرنے میں روشنی (لائٹنگ) کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ سنیماٹوگرافی ٹیکنالوجی کے بجائے فنکارانہ مقصد کے تابع ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ کیمرے اور آلات محض اوزار ہیں، جبکہ تخلیقی صلاحیت اور گہرا مشاہدہ ہی بصری کہانی کاری کی اصل روح ہیں۔

پالِت نے فلم سازی کے عملی حقائق پر بھی بات کی، جس میں شیڈول، آلات، موسم کے حالات اور پروڈکشن کے چیلنجوں کو سنبھالنا شامل ہے۔ اپنے پیشہ ورانہ تجربے سے مثال دیتے ہوئے، انہوں نے حالات کے مطابق ڈھلنے اور ہر لوکیشن کی منفرد بصری خصوصیت کو سمجھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

سوال و جواب کے انٹرایکٹو سیشن کے دوران، شرکاء نے ہینڈ ہیلڈ سنیماٹوگرافی (کیمرہ ہاتھ میں لے کر فلم بندی کرنا)، ڈائریکٹرز کے ساتھ تال میل، اور فلم سازی میں اسمارٹ فون کیمروں کے بڑھتے ہوئے استعمال جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ ٹیکنالوجی سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسمارٹ فونز نے فلم سازی کو زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنا دیا ہے، لیکن سنیماٹوگرافی کی پہچان اب بھی نیت، مفہوم اور اسٹوری ٹیلنگ سے ہی ہوتی ہے۔

اس سیشن کا اختتام نئے آنے والے (مستقبل کے) فلم سازوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام کے ساتھ ہوا کہ وہ سنیماٹوگرافی کو ایک ایسے ہنر کے طور پر دیکھیں جو معنی خیز فلمی تجربات تخلیق کرنے کے لیے تخلیقی صلاحیت، گہرے مشاہدے اور جذباتی فہم کو یکجا کرتا ہے۔


**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:8782


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2274294   |   Visitor Counter: 5