زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے دہلی میں اعلی سطحی میٹنگ کی اور زراعت کے مجموعی شعبے کا جائزہ لیا


ال نینو سے نمٹنے کے لئےحکمتِ عملی تیار کی گئی، ہفتہ وار میٹنگیں ہوں گی: مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان

“ال نینو سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور ضلعی مجسٹریٹس کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے”:جناب شیوراج سنگھ

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ضلع وار ہنگامی منصوبوں اور کھاد کی دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کپاس کی پیداوار میں اضافہ کے لیے مشن موڈ میں مہم شروع کرنے کی ہدایت دی

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے “دالوں میں خود کفیل بھارت” کے ہدف کے حصول پر خصوصی زور دیا

प्रविष्टि तिथि: 16 JUN 2026 4:26PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیرجناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج کرشی بھون،نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی ہفتہ وار زرعی جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور ملک بھر میں خریف 2026 سیزن کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس کے ساتھ ساتھ ممکنہ ال نینو حالات کے تناظر میں انہوں نے کپاس کی پیداوار میں اضافے، دالوں میں خود کفالت (آتم نِربھرتا) کے حصول اور کم بارش والے اضلاع کے لیے پیشگی ہنگامی منصوبوں پر خصوصی زور دیا۔انہوں نے واضح پیغام دیا کہ وزیرِاعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں حکومت کی اولین ترجیح کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔ اجلاس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ فصل کے موسم کے دوران کسی بھی ممکنہ ناموافق موسمی صورتحال سے کسانوں اور زراعت کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات پیشگی طور پر یقینی بنائے جائیں۔

image001Q61I.jpg

اجلاس میں ممکنہ ال نینو صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے واضح ہدایات دیں کہ جن اضلاع میں کم بارش یا غیر متوازن بارش کا امکان ہے وہاں پیشگی مکمل تیاری کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اضلاع کی واضح نشاندہی کی جائے اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر فصل وار ہنگامی منصوبے تیار کیے جائیں تاکہ کسی بھی موسمی چیلنج کی صورت میں کسانوں کو فوری متبادل، رہنمائی اور مدد فراہم کی جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے تحفظ، نمی کے بہتر انتظام، مخلوط کاشت اور متبادل فصلوں کے طریقوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور ہر خطرے سے دوچار ضلع کے لیے ایک علیحدہ اور عملی حکمتِ عملی تیار کی جائے تاکہ خریف سیزن کے دوران کسانوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ان کی زرعی سرگرمیاں بخوبی جاری رہ سکیں۔

image0023B1Q.jpg

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے یہ بھی ہدایت دی کہ ان 9 سے 10 ریاستوں میں، جہاں ال نینو کے اثرات نسبتاً زیادہ ہونے کا امکان ہے، ضلعی مجسٹریٹس، محکمہ زراعت، کرشی وگیان کیندروں (کے وی کے) اور دیگر توسیعی نظاموں کے ساتھ مربوط اجلاس منعقد کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ان اجلاسوں میں ضلع سطح کی مجموعی صورتحال کو واضح طور پر پیش کیا جائے اور کسانوں میں بیداری مہم چلائی جائے تاکہ ہر کسان کو معلوم ہو کہ اس کے علاقے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر اور کون سی فصلیں زیادہ محفوظ ہیں۔جناب شیوراج سنگھ نے کہا کہ خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے کسانوں تک ایک پُرسکون، قابلِ اعتماد اور حل پر مبنی پیغام سائنسی تجزیے کی بنیاد پر پہنچایا جانا چاہیے، اور یہی حکومت کی ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار سے کسانوں کا اعتماد بڑھے گا اور آئندہ سیزن کے لیے بہتر تیاری ممکن ہو سکے گی۔

image0030DPF.jpg

فصل وار اہداف، بوائی کی پیش رفت اور خریف 2026 کے لیے ریاست وار تیاریوں کے جائزے کے دوران کپاس کی پیداوار میں اضافے پر خصوصی بحث کی گئی۔جناب شیوراج سنگھ چوہان نے سائنسی طریقوں کے فروغ، موزوں اقسام کے انتخاب، مخلوط کاشت، ملچنگ اور نمی کے تحفظ کے اقدامات کو بڑے پیمانے پر اپنانے پر زور دیا تاکہ کپاس کی پیداوار اور آمدنی دونوں میں نمایاں اضافہ ہو سکے۔انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ اس مقصد کے لیے مشن موڈ میں کام کیا جائے اور کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کو یقینی بنایا جائے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا بہتر منافع حاصل ہو سکے۔

دالوں کے مشن میں خود کفالت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔  مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے بتایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو ارہر ، کالا چنا اور مونگ جیسی دالوں میں زیادہ خود کفیل بنایا جائے اور درآمدات پر انحصار کو کم کیا جائے ۔  اس کے لیے ریاستوں کے ساتھ مل کر فصلوں کے چکر ، رقبے کی توسیع ، بہتر بیج کی دستیابی اور تکنیکی رہنمائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ کسان محفوظ آمدنی کے ساتھ ساتھ دالوں کی پیداوار میں اضافہ کر سکیں ۔  یہ مشن درآمدی انحصار کو کم کرنے اور پائیدار طریقے سے دالوں کی گھریلو پیداوار کو مضبوط کرنے کے لیے بہت اہم ہے ۔

جائزے کے دوران کھاد کی دستیابی ، بازار میں منڈی کی قیمتوں ، آبی ذخائر اور پانی کے ذخیرے کی صورتحال اور ریاست کے لحاظ سے اسٹاک کے بارے میں بھی معلومات پیش کی گئیں ۔  زراعت کے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے کہا کہ کھاد قومی سطح پر دستیاب ہے اور جیسے جیسے مانسون کی رفتار بڑھتی جائے گی ریاستوں اور اضلاع کو سپلائی اور بھی زیادہ موثر ہو جائے گی ۔  اس کے لیے ، انہوں نے عہدیداروں کو ہدایات دیں اور اس بات پر بھی زور دیا کہ جہاں بھی مائیکرو سطح پر قلت کا کوئی امکان ہو ، سپلائی کو پہلے سے یقینی بنایا جائے تاکہ کاشتکاری کے موسم کے کسی بھی مرحلے میں کسانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنی سرگرمیاں انجام دے سکیں ۔

مرکزی وزیر زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے زرعی یونیورسٹیوں ، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ سے وابستہ اداروں ، کے وی کے اور ریاستی زرعی محکموں کے درمیان بہتر تال میل پر بھی زور دیا ۔  انہوں نے کہا کہ تکنیکی علم تب ہی بامعنی ہوتا ہے جب یہ وقت پر کھیتوں تک پہنچتا ہے اور کسان اسے آسانی سے اپنا سکتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔  انہوں نے عہدیداروں کو بتایا کہ صرف مسلسل بات چیت ، باقاعدہ جائزہ اور زمینی سطح کے فیڈ بیک کے ذریعے ہی خریف 2026 سیزن کو محفوظ اور کامیاب بنایا جا سکتا ہے ۔  یہ ہم آہنگی سیزن کی مجموعی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرے گی اور ملک بھر کے کسانوں کے لیے بروقت اور موثر طریقے سے بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد کرے گی ۔

*****

(ش ح-ش آ-م ن)

U-8700


(रिलीज़ आईडी: 2273634) आगंतुक पटल : 12
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , Bengali , Gujarati , Odia , Tamil , Kannada