MIFF banner

مائیکرو ڈرامہ کہانی سنانے کے فن کا ارتقا ہے، سینما کا ‘فاسٹ فیشن’ نہیں: 19ویں ایم آئی ایف ایف میں صنعت سے وابستہ شخصیات کی رائے


موبائل اسکرینوں سے اصل  دھارے کی کہانی سنانے تک: ایم آئی ایف ایف میں مائیکرو ڈرامہ کے رجحان کا جائزہ لیا گیا

جیسے جیسے کہانی سنانے کا فن ناظرین کی بدلتی ہوئی عادتوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے، 19ویں ممبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (ایم آئی ایف ایف) میں ایک بصیرت افروز پینل مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع ’’فاسٹ فلم: کیا مائیکرو ڈرامہ سینما کا فاسٹ فیشن ہے؟‘‘ رہا۔ اس نشست کی نظامت اداکارہ شینا چوہان نے کی، جبکہ فلم ساز و پروڈیوسر سمیر مودی، اداکارہ ارچنا کَوی، اداکار اجول کمار اور فلم ساز رافیل اسٹیمپلیوسکی نے شرکت کی۔ مقررین نے مائیکرو ڈرامہ کے ابھرتے ہوئے رجحان اور عصری کہانی سنانے کے عصری فن  پر اس کے بڑھتے ہوئے اثرات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا۔

شرکاء اور حاضرین کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایم آئی ایف ایف کے فیسٹیول ڈائریکٹر پرکاش ماگدم نے مقررین کی عزت افزائی کی اور تیزی سے بدلتے ہوئے میڈیا منظرنامے میں ابھرنے والی کہانی سنانے کی نئی طرز  کو سمجھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

پینل کے شرکا اس بات پر متفق تھے کہ مائیکرو ڈرامہ کہانی سنانے کے فن کا ایک فطری ارتقا ہے، جو ناظرین کی بدلتی ہوئی عادتوں اور موبائل ڈیوائس کے بڑھتے ہوئے استعمال کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ یہ فارمیٹ مختصر ہے، لیکن اس میں بھی روایتی سنیما کی طرح تخلیقی مہارت، جذباتی گہرائی اور فنی پختگی درکار ہوتی ہے۔

مائیکرو ڈرامہ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گفتگو کرتے ہوئے سمیر مودی نے کہا کہ اس فارمیٹ کو خاص طور پر کووِڈ-19 کے دوران فروغ ملا، جب تخلیق کاروں نے محسوس کیا کہ لوگ موبائل اسکرینوں پر مواد زیادہ دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مائیکرو ڈرامہ کہانی سنانے کا ایک ایسا انداز ہے جو غیر معمولی درستگی اور تخلیقی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے، جہاں محدود دورانیے میں مضبوط اسکرپٹ، مؤثر اداکاری اور عمدہ ایڈیٹنگ کا باہم ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مائیکرو ڈرامہ کو سنیما کی کمتر شکل یا محض وقتی تفریح کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اسے ایک منفرد اور مسلسل ارتقا پذیر کہانی سنانے  کے ذریعہ کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔

ارچنا کَوی نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں آنے والی ہر بڑی تبدیلی نے مواد تخلیق کرنے کی نئی صورتوں کو ، خواہ وہ ٹیلی ویژن کا دور ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا،جنم دیا ہے۔انہوں نے مشاہدہ کیا کہ مائیکرو ڈرامہ میں سب سے بڑا چیلنج ناظرین کی توجہ ابتدائی چند سیکنڈز ہی میں حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ یہ فارمیٹ اداکاروں، رائٹر اور ایڈیٹر کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی کہانی سنانے اور اداکاری میں زیادہ باریک بینی، درستگی اور مہارت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔

اجّول کمار نے اس بات پر زور دیا کہ کہانی سنانے کے ہر انداز کی بنیاد جذباتی وابستگی ہوتی ہے، خواہ اس کا دورانیہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اداکاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئے فارمیٹس کے مطابق خود کو ڈھالیں اور اپنی فنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارتے رہیں تاکہ محدود وقت میں بھی ناظرین سے مؤثر رابطہ قائم کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسمارٹ فون کے وسیع پیمانے پر استعمال نے مائیکرو ڈرامہ کو بڑی تعداد میں ناظرین تک پہنچانے کے لیے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔

رافیل اسٹیمپلیوسکی نے مائیکرو ڈرامہ کو فلم سازوں کے لیے بیک وقت ایک چیلنج اور ایک موقع، دونوں قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط کہانی اور انسانی جذبات کی سچائی، اسکرین کے حجم سے قطعِ نظر، ہمیشہ سنیما کی کلید سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق مائیکرو ڈرامہ دراصل سنیما کی زبان کے مسلسل ارتقا کا ایک اور مرحلہ ہے۔

مباحثے کے اختتام پر تمام شرکا اس بات پر متفق تھے کہ مائیکرو ڈرامہ سنیما کی ’’فاسٹ فیشن‘‘ نہیں، بلکہ ایک ابھرتا ہوا کہانی سنانے کے فارمیٹ ہے جو روایتی فلم سازی کی تکمیل کرتا ہے اور ساتھ ہی ناظرین کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور دیکھنے کی عادتوں کا مؤثر جواب بھی فراہم کرتا ہے۔

اس مباحثے کے بعد حاضرین کے ساتھ ایک دلچسپ سوال و جواب کی نشست منعقد ہوئی، جس میں پینل کے شرکا نے مائیکرو ڈرامہ سے وابستہ مواقع اور چیلنجز پر مزید روشنی ڈالی۔ نشست کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ ناظرین کی بدلتی ہوئی دیکھنے کی عادت کہانی سنانے کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں، جبکہ سنیما کے بنیادی اور لازمی عنصر بدستور برقرار ہیں۔

انیسویں ایم آئی ایف ایف (ایم آئی ایف ایف) کے بارے میں

ایم آئی ایف ایف کا انیسواں ایڈیشن سنیما کے شائقین کے لیے ایک ہمہ گیر اور بھرپور فلمی تجربے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس میں بین الاقوامی سطح پر سراہی جانے والی منتخب فلموں کی  کافی غور و خوض کے بعد ترتیب دی گئی فہرست کے ساتھ ساتھ فلمی صنعت سے متعلق کئی دلچسپ اور بامقصد سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی۔

  • اس سال فیسٹیول کے مسابقتی حصے کے لیے بھارت سمیت 47 ممالک سے 1459 فلمی اندراجات موصول ہوئے ہیں۔
  • فیسٹیول میں بھارت کی 42 سے زائد زبانوں اور بیرونِ ملک کی 30 سے زیادہ زبانوں میں بنائی گئی فلموں کی نمائش کی جا رہی ہیں، جو اس کی عالمی  پیمانے موثریت اور ثقافتی تنوع کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔
  • دنیا بھر کے نامور فلم سازوں کی  شاندار تخلیقات پر مشتمل یہ فیسٹیول دستاویزی فلموں، شارٹ فکشن فلموں، اینی میشن،  نئے ہدایت کاروں کی فلموں اور طلبہ کی تخلیقات میں سے بعض بہترین کام ناظرین کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔
  • فلموں کی نمائش کے ساتھ ساتھ ڈوک بازار  کے دوسرے ایڈیشن، معلوماتی اور بصیرت افروز ماسٹر کلاسز اور آئی ڈی پی اے  کے زیرِاہتمام اوپن فورم بھی فیسٹیول میں سنیما اور تخلیقی تبادلۂ خیال کو مزید فروغ دیں گے۔

ایم آئی ایف ایف 2026 میں کہانی سنانے کی اس رنگا رنگ دنیا کا حصہ بنیے، جہاں طاقتور سنیما، تخلیقی ذہن اور متاثر کن آوازیں یکجا ہو کر دستاویزی فلموں، اینی میشن اور شارٹ فکنش فلم سازی کے ایک یادگار اور منفرد جشن کو جنم دیتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م ش ۔ ن م۔

U-8696


Great films resonate through passionate voices. Share your love for cinema with #MIFF2026. Tag us @pibmumbai on X, and we'll help spread your passion! For journalists, bloggers, and vloggers wanting to connect with filmmakers for interviews/interactions, reach out to us at miff.mediadesk@pib.gov.in with the subject line: Take One with PIB.


रिलीज़ आईडी: 2273581   |   Visitor Counter: 14