وزارت آیوش
سی سی آر اے ایس اور سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی کی پہل نے ہندوستان کے آیورویدک علمی ورثے کے تحفظ کو مضبوط کیا
اڈوپی میں 15 روزہ ورکشاپ کا آغاز؛ ’تیگلاری‘اور قدیم کنڑ رسم الخط کے خطی نسخوں کے نقلِ حرفی (ٹرانسلیٹریشن)پر توجہ مرکوز
ماہرین نایاب اور غیر مطبوعہ آیوروید کتابوں کی اشاعت کے لیے کام کریں گے
प्रविष्टि तिथि:
15 JUN 2026 1:57PM by PIB Delhi
ہندوستان کے روایتی علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کی جاری کوششوں کے ایک حصے کے طور پر،’تیگلاری‘اور قدیم کنڑ رسم الخط میں لکھے گئے آیوروید کے خطی نسخوں (مخطوطات) کے نقلِ حرفی (ایک زبان کے حروف کو دوسری زبان کے حروف میں بدلنے) کے لیے ایک تربیتی ورکشاپ کا آج جناب پتھیگے نرسمہا سبھا بھون، گیتا مندر، اڈوپی میں افتتاح کیا گیا۔
اس ورکشاپ کا انعقاد مشترکہ طور پر سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان آیورویدک سائنسز(سی سی آر اے ایس )وزارتِ آیوش (حکومت ہند)، اور سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی - وزارتِ تعلیم (حکومت ہند) کی طرف سے شری وادیرجا ریسرچ فاؤنڈیشن کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔
اس پروگرام کا انعقاد جناب پتھیگے مٹھ کے مٹھادھیش (پونٹف)محترم شری شری سوگونیندر تیرتھ شری پدا اور مٹھ کے جونیئر مٹھادھیش محترم جناب شری سوشریندر تیرتھ شری پاد کی سرپرستی میں کیا جا رہا ہے۔ اس پہل کا مقصد ماہرین اور اسکالرز کو ’تیگلاری’اور قدیم کنڑ رسم الخط میں محفوظ آیوروید کے خطی نسخوں کو پڑھنے، سمجھنے اور انہیں تحریر میں لانے کی مہارت فراہم کرنا ہے۔ یہ قدیم نسخے زیادہ تر کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔
اس ورکشاپ کا افتتاح سی سی آر اے ایس کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ویدیہ رابینارائن آچاریہ نے کیا۔ افتتاحی تقریب میں شری پتھیگے مٹھ کے ایڈمنسٹریٹر اور دیوان شری ناگراج آچاریہ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین میڈیکل ہیریٹیج حیدرآباد کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر جی پی پرساد، سینٹرل آیوروید ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بنگلورو کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹی مہیشور اور نتے یونیورسٹی کے انڈین نالج سسٹم سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سدھیر راج کے۔ نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت شری وادیرجا ریسرچ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ودوان گوپال آچاریہ نے کی۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ویدیہ رابی نارائن آچاریہ نے آیوروید کے علم کے تحفظ، دستاویز سازی اور اسے عام کرنے کے لیے سی سی آر اے ایس کی طرف سے کی جانے والی مختلف کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ملک کی مالامال علمی روایات کے تحفظ اور ترویج کے لیے 'گیان بھارت مشن' کے تحت حکومت ہند کی کوششوں پر زور دیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سدھیر راج کے۔ نے ہندوستان کے خطی نسخوں کے ورثے کو محفوظ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور تحقیق و علم کے فروغ میں 'انڈین نالج سسٹم' کے کردار کو اجاگر کیا۔
یہ 15 روزہ تربیتی پروگرام آیوروید اور سنسکرت کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان اسکالرز کو اس قابل بنائے گا کہ وہ ماہرین کے ساتھ مل کر غیر مطبوعہ آیورویدک نسخوں کو سمجھنے، ان کا ترجمہ و نقلِ حرفی کرنے، انہیں ایڈٹ کرنے اور اشاعت کے لیے تیار کرنے کا کام کر سکیں۔
سی سی آر اے ایس اور سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کی جانے والی یہ اس طرح کی تیسری ورکشاپ ہے۔ اس سے قبل پوری (اوڈیشہ) میں 'کرانی/دیوناگری' رسم الخط پر اور گرووایور (کیرالہ) میں 'وتے ژوتھو/ملیاالم' رسم الخط پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ورکشاپس منعقد کی جا چکی ہیں۔
اس ورکشاپ میں شری دھرمستھلا منجوناتھیشورا کالج آف آیوروید (اڈوپی)، شری دھرمستھلا منجوناتھیشورا کالج آف آیوروید (ہاسن) کے فیکلٹی ممبران اور طلبہ کے ساتھ ساتھ شری پتھیگے مٹھ کے گروکل کے سنسکرت کے طلبہ بھی حصہ لے رہے ہیں۔
اس پروگرام کے دوران جن خطی نسخوں کا نقلِ حرفی (ٹرانسلیٹریشن) کیا جائے گا، انہیں بعد میں سی سی آر اے ایس اور سنٹرل سنسکرت یونیورسٹی کی طرف سے شائع کیا جائے گا، جس سے ہندوستان کے روایتی علمی وسائل کو محفوظ بنانے اور انہیں بڑے پیمانے پر عام کرنے میں مدد ملے گی۔

****
ش ح۔ م ح۔ ج
Uno-8618
(रिलीज़ आईडी: 2273003)
आगंतुक पटल : 14