امور داخلہ کی وزارت
وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی موجودگی میں، آسام ناگالینڈ کے سرحدی علاقوں میں معدنی تیل کے آپریشنز کو آسان بنانے کے لیے حکومت ہند، آسام اور ناگالینڈ کے درمیان ایک سہ فریقی مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے
مرکز، آسام اور ناگالینڈ کے درمیان یہ تاریخی مفاہمت نامہ پورے شمال مشرق میں توانائی، سرمایہ کاری اور خوشحالی کی ایک نئی اقتصادی راہداری کھولے گا
ناگالینڈ میں دستیاب تیل، گیس اور معدنیات کے وسیع ذخائر تیل اور گیس کے لیے غیر ملکی ذرائع پر ہندوستان کے انحصار کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے
شمال مشرق کے تقریباً 80 فیصد حصے اے ایف ایس پی اے سے ہٹا لیاگیا ہے اور آنے والے دنوں میں پورا خطہ اے ایف ایس پی اےسے پاک ہو جائے گا
مودی حکومت نے شمال مشرق کی ترقی کو اپنے ایجنڈے کے مرکز میں رکھا؛ آج یہ خطہ ’ پہلے ملک‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے
آسام، ناگالینڈ اور مرکز کے درمیان یہ سہ فریقی معاہدہ باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کی ایک بہترین مثال ہے
امن کے 12؍معاہدوں کے ذریعے مودی حکومت نے شمال مشرق کو سیاحت، سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کے ایک نئے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 JUN 2026 11:37PM by PIB Delhi
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وز جناب امت شاہ کی موجودگی میں آج نئی دہلی میں آسام ناگالینڈ کے سرحدی علاقوں میں معدنی تیل کے آپریشنز کو آسان بنانے کے لیے حکومت ہند، آسام اور ناگالینڈکی حکومتوں کے درمیان ایک سہ فریقی مفاہمت نامہ پر پر دستخط کیے گئے۔ اس موقع پر پٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری، آسام کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر ہمنت بسوا سرما اور ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو بھی موجود تھے۔
اس موقع پر امورداخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ آج ہم ایک تاریخی لمحے کے گواہ بنے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ تیل اور قدرتی گیس کی تلاش کے ساتھ ساتھ معدنی کان کنی کے امکانات کے دروازے کھولے گا اور اس نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کے ایک خوشحال شمال مشرق کے وژن کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں حائل ایک بڑی رکاوٹ کو دور کر دیا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے آج پورا شمال مشرق ’ پہلے ملک‘ کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ریاستوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ہندوستان میں تیل کی تلاش کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گی، بلکہ باہمی تعاون کی راہ پر آگے بڑھیں گی، کیونکہ یہ وسائل قومی دولت ہیں۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کےمرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ ناگالینڈ کے وزیراعلیٰ نے مطلع کیا ہے کہ چھ نامزد شعبوں کے علاوہ ریاستی حکومت پوری ریاست میں تیل کی تلاش کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آسام کی حکومت بھی اس بات پر متفق ہے، کیونکہ یہ تمام فریقین کے لیے ایک یکساں فائدہ مند صورتحال ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ یہ سہ فریقی معاہدہ پورے شمال مشرقی خطے میں معدنیات کی تلاش اور کان کنی کا راستہ ہموار کرے گا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ شمال مشرق نہ صرف تیل اور گیس کے وسیع ذخائر سے مالا مال ہے، بلکہ ان علاقوں میں معدنیات کی بے پناہ دولت بھی موجود
ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس مفاہمت نامے سے ہماری 1,000 سے 1,500 بیرل یومیہ نکاسی کی صلاحیت میں دس گنا سے زیادہ اضافے کا امکان ہے۔

مرکزی وزیرداخلہ جناب امت شاہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ناگالینڈ میں دستیاب تیل اور گیس کے وسائل کے استخراج سے اس شعبے میں غیر ملکی ذرائع پر ہندوستان کا انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے معاہدے کی عدم موجودگی اور کچھ دیرینہ چیلنجز کی وجہ سے دونوں ریاستوں کی اقتصادی ترقی ایک طویل عرصے تک متاثر رہی تھی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آج جس معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں وہ آسام اور ناگالینڈ دونوں کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا راستہ کھولے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سہ فریقی معاہدے سے بڑھ کر باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کی کوئی اور بڑی مثال نہیں ہو سکتی۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی شمال مشرق کو اپنی توجہ کے مرکز میں رکھا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم جناب نریندر مودی واحد وزیر اعظم ہیں، جنہوں نے آزادی کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ شمال مشرق کا دورہ کیا ہے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ مودی جی نے شمال مشرق میں امن اور ترقی لانے کے لیے جو کوششیں کی ہیں، آزاد ہندوستان کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ جناب شاہ نے بتایا کہ 2019 سے اب تک بارہ مختلف معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جنہوں نے پورے خطے میں امن کو یقینی بنانے میں مدد کی ہے اور جس کے نتیجے میں تشدد میں تقریباً 80 فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق میں جس رفتار سےبنیادی ڈھانچے کو وسعت ملی ہے، وہ ان معاہدوں کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ مودی حکومت کے تحت شمال مشرق میں سیاحت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے اور صنعتی امن کی وجہ سے نجی شعبے کی سرمایہ کاری بھی بڑھی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شمال مشرقی خطے کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ آرجنرک فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اے ایف ایس پی اے(افسپا) سے آزاد کر دیا گیا ہے۔ وزیرداخلہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایک یا دو ریاستوں کو چھوڑ کر، اگلے برس تک پورے شمال مشرق سے اے ایف ایس پی اے مکمل طور پر واپس لے لیا جائے گا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آج کا دن ملک کی ترقی، شمال مشرق کی خوشحالی اور ’آتم نربھر بھارت‘کے وژن کو مضبوط کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ توانائی کے بغیر کسی ملک کی ترقی ناممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ، ایران اور اسرائیل پر مشتمل تنازعات کی وجہ سے ہندوستان اور پوری دنیا ایک سنگین بحران سے نبرد آزما ہیں۔ اگرچہ موجودہ عالمی بحران کے دوران یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ یہ سہ فریقی معاہدہ کتنی جلدی فائدہ مند ثابت ہوگا، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آنے والے وقت میں یہ ہندوستان کو بڑی راحت پہنچائے گا اور ہماری خود انحصاری میں اضافہ کرے گا۔ وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ اس معاہدے نے معدنیات کی کان کنی کے لیے نئے امکانات کھول دیے ہیں اور ناگالینڈ بھر میں محض چھ نامزد شعبوں سے آگے — تلاش کے دائرہ کار کو وسعت دی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف دونوں ریاستوں میں خوشحالی لائے گا ،بلکہ باہمی ہم آہنگی کو بھی فروغ دے گا اور ترقی کو ایک نئی رفتار فراہم کرے گا۔
وزیرداخلہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ شمال مشرق کے تمام تنازعات—خواہ وہ سرحدوں سے متعلق ہوں یا امن و امان سے—بتدریج حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مختلف گروپوں کے ساتھ معاہدے طے پا چکے ہیں۔ ہم نے سرحد کے 50 فیصد سے زیادہ تنازعات کو حل کر لیا ہے اور آج کا دن ایک نئی شروعات کی علامت ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ یہ شمال مشرق کے سنہری مستقبل میں امید اور اعتماد کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
آج دستخط کیا گیا یہ سہ فریقی معاہدہ حکومت ہند اور آسام اور ناگالینڈ کی ریاستی حکومتوں کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد نشاندہی کیے گئے’دلچسپی کے علاقوں‘میں پٹرولیم کی تلاش اور پیداواری سرگرمیوں کے لیے ایک مستحکم، محفوظ اور سازگار ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
یہ مفاہمت نامہ اس علاقے میں معدنی تیل کے آپریشنز کو آسان بنانے، آپریشنل تسلسل کو برقرار رکھنے، اہلکاروں اور اثاثوں کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے اور تمام فریقین کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے لیے ایک مربوط فریم ورک قائم کرتی ہے۔ توقع ہے کہ یہ فریم ورک تلاش اور پیداواری سرگرمیوں میں مدد گار ہوگا، اپ اسٹریم پٹرولیم سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ہندوستان کے توانائی کے تحفظ کے اہداف میں اپنا حصہ ڈالے گا۔
وزارت داخلہ نے وزارت پٹرولیم اور قدرتی گیس اور آسام اور ناگالینڈ کی حکومتوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ذریعے ان مذاکرات کو آگے بڑھایا،جس کے نتیجے میں اس مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ معاہدہ اس علاقے میں جاری اور مستقبل کے ہائیڈرو کاربن آپریشنز کے لیے زیادہ یقین اور استحکام فراہم کرے گا۔
یہ مفاہمت نامہ تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ہائیڈرو کاربن سیکٹر کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تمام شراکت داروں کے درمیان کوباہمی تعاون پر مبنی وفاقیت اور تعمیری شمولیت کے جذبے کی توثیق کرتی ہے۔
حکومت ہند باہمی تعاون پر مبنی اور شفاف میکانزم کے ذریعے تلاش اور پیداواری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، جس سے قومی توانائی کے تحفظ اور اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔
**********
) ش ح – م ع ن- ش ہ ب )
U.No. 8309
(रिलीज़ आईडी: 2271988)
आगंतुक पटल : 8