نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

سنسد ٹی وی انٹرن شپ پروگرام کی اختتامی تقریب میں نائب صدر جمہوریہ کی ابھرتے ہوئے صحافیوں کو سچائی، غیرجانبداری اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین


 ہندوستان کو ایسے صحافیوں کی ضرورت ہے جو فکری طور پر دیانت دار، سماجی طور پر حساس، تکنیکی طور پر باصلاحیت اور جمہوری اقدار سے گہری وابستگی رکھتے ہوں : نائب صدر جمہوریہ

 میڈیا میں صرف بیانیے تشکیل دینے ہی نہیں بلکہ ملک کی تعمیر کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے : نائب صدر جمہوریہ

प्रविष्टि तिथि: 11 JUN 2026 7:04PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب سی پی رادھاکرشنن نے آج اپر راشٹرپتی بھون میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (آئی آئی ایم سی) کے آخری سال کے پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے سنسد ٹی وی کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک ماہ پر مشتمل انٹرن شپ پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔

 

 

اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے جناب سی پی رادھاکرشنن نے یاد دلایا کہ انہوں نے رواں سال کے اوائل میں آئی آئی ایم سی کے جلسۂ تقسیمِ اسناد کے دوران طلبہ کو سنسد ٹی وی کے ذریعے عملی تربیت کے مواقع فراہم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے اس تجویز پر فوری عمل درآمد کو سراہتے ہوئے سنسد ٹی وی کے پیشہ ور ماہرین کی بھی تعریف کی، جنہوں نے انٹرن طلبہ کی رہنمائی کی۔

جمہوری نظام میں میڈیا کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کو ایسے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے ماہرین کی ضرورت ہے جو فکری طور پر دیانت دار، سماجی طور پر حساس، تکنیکی طور پر باصلاحیت اور جمہوری اقدار سے گہری وابستگی رکھتے ہوں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ میڈیا میں صرف بیانیے تشکیل دینے ہی نہیں بلکہ قوموں کی تعمیر کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔

نائب صدر جمہوریہ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ 2047 تک وکست بھارت کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے میں اپنا کردار ادا کریں اور دیانت داری اور غیرجانبداری کے ساتھ ہندوستان کے ترقیاتی سفر کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی برادری ہندوستان کو اس کی نوجوان آبادی، تکنیکی اختراعات اور مضبوط جمہوری نظام کے باعث نئی دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

توجہ حاصل کرنے کی دوڑ پر مبنی میڈیا ماحول میں سنسنی خیزی کے رجحان کے خلاف خبردار کرتے ہوئے جناب سی پی رادھاکرشنن نے کہا کہ صحافت کی ساکھ مقبولیت کے بجائے حقائق کی درستگی اور عوامی مفاد پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے ابھرتے ہوئے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ سچائی، معروضیت اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو اپنا شعار بنائیں۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی تحقیق اور معلومات کی تصدیق کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ادارتی فیصلوں کی بنیاد انسانی فہم و ادراک ہی رہنی چاہیے۔ انہوں نے غلط معلومات اور ڈیپ فیک جیسے خطرات کے خلاف مسلسل چوکنا رہنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جامع اور شمولیتی صحافت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے رپورٹنگ کو صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ملک بھر کے عوام کی امنگوں، چیلنجوں اور کامیابیوں کو بھی مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔

اس موقع پر راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش، راجیہ سبھا کے سیکریٹری جنرل پی سی مودی، نائب صدر جمہوریہ کے سیکریٹری اور پارلیمنٹ ٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر امت کھرے، وزارت اطلاعات و نشریات کے سکریٹری چنچل کمار، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن (آئی آئی ایم سی) کی وائس چانسلر ڈاکٹر پرگیہ پالیوال گوڑ سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔

***

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

U:8302


(रिलीज़ आईडी: 2271885) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu , Malayalam