پنچایتی راج کی وزارت
پنچایتی راج کی پہلوں کی قومی ای-گورننس ایوارڈز 2026 میں نمایاں کامیابی، باوقار طلائی اور نقرئی اعزازات حاصل ؛ فاتح اداروں کو 10 لاکھ روپے تک کی ترغیبی رقم دی جائے گی
پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس کے تحت مہاراشٹر کی کادی پور گرام پنچایت اور نندوربار ضلع پریشدکو طلائی ایوارڈ حاصل، جبکہ تریپورہ کی بجوئے نگر گرام پنچایت نقرئی اعزاز کی حقدار قرار پائی
प्रविष्टि तिथि:
11 JUN 2026 5:09PM by PIB Delhi
قومی ایوارڈ برائے ای-گورننس (این اے ای جی) 2026 کے7 مختلف زمروں میں شامل 17 منصوبوں میں سے پنچایتی راج کے4 اقدامات کو اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جس سے ڈیجیٹل نظم ونسق اور شہریوں پر مرکوز خدمات کی فراہمی میں گرام پنچایتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔رواں سال یہ ایوارڈز ای-گورننس سے متعلق 29ویں قومی کانفرنس کے دوران پیش کیے جائیں گے، جو یکم اور 2 جولائی 2026 کو جے پور، راجستھان میں منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس کا مشترکہ انعقاد محکمہ انتظامی اصلاحات و عوامی شکایات (ڈی اے آر پی جی)، وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایم ای آئی ٹی وائی) اور حکومتِ راجستھان کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔کانفرنس کا موضوع ’’وکست بھارت 2047: مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ، اعداد و شمار پر مبنی اور محفوظ ڈیجیٹل نظم ونسق‘‘ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ موضوع ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلہ سازی اور مضبوط سائبر سکیورٹی کے نظام کے ذریعے مؤثر، محفوظ اور شہریوں کی ضروریات سے ہم آہنگ عوامی خدمات کی فراہمی کے تئیں حکومت کی عہدبندی کی عکاسی کرتا ہے۔
سات مختلف زمروں میں شامل 17 منصوبوں اور اقدامات میں سے 10 کو طلائی تمغے، 6 کو نقرئی تمغے، جبکہ ایک کو جیوری ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔قومی ایوارڈبرائے ای-گورننس (این اے ای جی) 2026 کے تحت فاتحین کو (i) ٹرافی، (ii) سندِ توصیفی اور (iii) ترغیبی رقم دی جائے گی۔ طلائی تمغہ حاصل کرنے والوں کو 10 لاکھ روپے جبکہ نقرئی تمغہ یافتگان کو 5 لاکھ روپے کی مالی ترغیب فراہم کی جائے گی، جسے عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں اور پروگراموں کے نفاذ یا وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔پنچایتی راج سے متعلق اقدامات کو حاصل ہونے والے یہ چار اعزازات وزارتی سطح کے ڈیٹا تجزیاتی پلیٹ فارم، شہری خدمات کی مؤثر فراہمی پر سراہے جانے والی دو گرام پنچایتوں اور ضلع سطح کے ایک صحت عامہ کے اقدام کوحاصل ہوئے ہیں۔ یہ حصولیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بھارت میں مقامی سطح کی حکمرانی کے نظام میں ڈیجیٹل کایاپلٹ کس قدر وسعت اور گہرائی کے ساتھ اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے۔ یہ 4 ایوارڈ حسب ذیل ہیں:
|
ایوارڈ
|
ایوارڈ یافتہ
|
ایوارڈ کازمرہ
|
ریاست / سطح
|
|
گولڈ ایوارڈ
|
پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس (پی اے آئی) - وکسٹ بھارت کے لیے ڈیٹا پر مبنی گورننس، پنچایتی راج کی وزارت
|
مرکزی وزارتوں/ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں ڈیٹا اینالیٹکس کے استعمال سے ڈیجیٹل تبدیلی
|
قومی سطح
|
|
گولڈ ایوارڈ
|
کادی پور گرام پنچایت،ضلع سانگلی، مہاراشٹر
|
گرام پنچایتوں کی طرف سے خدمات کی فراہمی کو گہرا/وسیع کرنے کے لیے نچلی سطح کے اقدامات
|
مہاراشٹر
|
|
سلور ایوارڈ
|
بیجوئے نگر گرام پنچایت،ضلع مغربی تریپورہ، تریپورہ
|
گرام پنچایتوں کی طرف سے خدمات کی فراہمی کو گہرا/وسیع کرنے کے لیے نچلی سطح کے اقدامات
|
تریپورہ
|
|
گولڈ ایوارڈ
|
ای-آروگیہ دھمنی – ای گورننس کے ذریعے صحت کی نگہداشت کا کایاپلٹ، محکمہ صحت، ضلع پریشد نندوربار، مہاراشٹر
|
ای-گورننس میں ضلعی سطح کے اقدامات
|
مہاراشٹر
|
پنچایتی راج کی وزارت کی ایک اہم پہل ’’پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس (پی اے آئی)‘‘ کو مرکزی وزارتوں، ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم میں ڈیٹا تجزیے کے استعمال سے ڈیجیٹل کایاپلٹ کے زمرے میں قومی ای-گورننس ایوارڈ 2026 کے طلائی تمغے سے نوازا گیا ہے۔پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس (پی اے آئی) وزارتِ پنچایتی راج کا ایک نمایاں نظام ہے، جسے ملک بھر کی گرام پنچایتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ نظام مقامی سطح کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایل ایس ڈی جی) کے نو موضوعاتی شعبوں سے ہم آہنگ اشاریوں کی بنیاد پر گرام پنچایتوں کی کارکردگی کا تجزیہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دیہی سطح پر حکمرانی کے نتائج کی مفصل، مستند اور اعداد و شمار پر مبنی تصویر سامنے آتی ہے۔دوسری جانب، مہاراشٹر کے ضلع سانگلی کے کادی گاؤں تعلقہ کی کادی پور گرام پنچایت کو طلائی تمغہ حاصل ہوا ہے، جبکہ تریپورہ کے ضلع مغربی تریپورہ کے موہن پور بلاک کی بجوئے نگر گرام پنچایت نقرئی تمغہ کی مستحق قرار پائی۔ یہ اعزازات انہیں گرام پنچایتوں یا ان کے مساوی روایتی مقامی اداروں کی نچلی سطح کی ان پہلوں کے زمرے میں دیے گئے ہیں، جن کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر، وسیع اور گہرائی تک پہنچانا ہے۔ یہ اعزازات قومی ایوارڈ برائے ای-گورننس 2026 کے تحت پیش کئے گئے ہیں۔
کادی پور گرام پنچایت نے مکمل ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کا ایک جامع نظام قائم کیا ہے، جس کے تحت 4,300 سے زائد مستفیدین کو 1,355 سے زیادہ خدمات مکمل طور پر آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ خدمات ایک پیپرلیس ای-آفس نظام، مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ آٹھ انتظامی ایپلی کیشن، بلاک چین پر مبنی ریکارڈ مینجمنٹ اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) کی مدد سے جائیدادوں کی جیو ٹیگنگ کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔کادی پور گرام پنچایت ملک کی ایسی واحد گرام پنچایت ہے، جس کے پاس مصنوعی ذہانت، بلاک چین، نینو ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی اور روبوٹکس سے متعلق باضابطہ طور پر منظور شدہ پالیسیاں موجود ہیں۔
دوسری جانب، بجوئے نگر گرام پنچایت نے عوامی شمولیت پر مبنی طرزِ حکمرانی، مالیاتی جواب دہی اور جامع ڈیجیٹل اپنانے کے میدان میں ایک مثالی نمونہ پیش کیا ہے۔ پنچایت ایڈوانسمنٹ انڈیکس 2.0 (پی اے آئی 2.0) میں اس کا 88.55 (گریڈ اے) اسکور پی اے آئی 1.0 کے مقابلے میں 38 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس کی داخلی مالیاتی آمدنی میں تقریباً 194 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔گرام پنچایت کے مکمل فعال ای-آفس نظام کے ذریعے 100 سے زائد خدمات آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ گرام بارتا پلیٹ فارم کے ذریعے ہر گھرانے کے ساتھ بر وقت صوتی رابطہ ممکن بنایا گیا ہے۔ مزید برآں، علاقے کی تمام خواتین کے لئے سو فیصد ڈیجیٹل خواندگی حاصل کر لی گئی ہے۔مہاراشٹر کی کادی پور گرام پنچایت اور تریپورہ کی بجوئے نگر گرام پنچایت اس حقیقت کا عملی ثبوت ہیں کہ مقامی خود اختیاری طرزِ حکمرانی میں عمدگی نہ تو کسی مخصوص خطے تک محدود ہے اور نہ ہی اس کے حصول کے لیے کسی ایک ہی طریقۂ کار پر انحصار ضروری ہے۔
نندوربار ضلع پریشد: ای-گورننس کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی
مہاراشٹر کی نندوربار ضلع پریشد کے محکمۂ صحت کو قومی ایوارڈبرائے ای-گورننس 2026 میں ’’ای-گورننس کے ذریعے صحت کے شعبے کا کایاپلٹ: ای-آروگیہ دھمنی ‘‘ کے عنوان سے شروع کی جانے والی منفرد پہل پر ضلعی سطح کی ای-گورننس پہلوں کے زمرے میں طلائی تمغے سے نوازا گیا ہے۔اس اقدام کے تحت جدید ڈیجیٹل ذرائع اور ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کرضلع نندوربار کے قبائلی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں تک معیاری، بروقت اور مؤثر طبی خدمات پہنچائی جا رہی ہیں۔ اس کے ذریعے حکمرانی اور عوامی خدمات کو ان برادریوں کے مزید قریب لایا گیا ہے، جہاں آسان رسائی اور فوری ردِعمل پر مبنی صحت عامہ کی خدمات کی ضرورت سب سے زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ای-آروگیہ دھمنی اس بات کی ایک نمایاں مثال ہے کہ کس طرح ای-گورننس اور ڈیجیٹل اختراعات کے ذریعے صحت کے شعبے میں مثبت اور دیرپا تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں، بالخصوص ایسے علاقوں میں جہاں جغرافیائی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق چیلنج عوامی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
پس منظر
قومی ایوارڈبرائے ای-گورننس (این اے ای جی) میں گرام پنچایتوں کے لیے مخصوص زمرے کا آغاز وزارتِ پنچایتی راج کی اس کوشش کے نتیجے میں کیا گیا، جس کا مقصد مقامی سطح پر شہریوں کو آن لائن خدمات فراہم کرنے والی گرام پنچایتوں کی خدمات کا اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔اس پہل میں مسلسل بڑھتی ہوئی شرکت دیکھنے میں آئی ہے۔ این اے ای جی 2025 میں 26 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے ایک لاکھ 45 ہزار سے زائد اندراجات موصول ہوئے تھے، جبکہ این اے ای جی 2026 میں 30 ریاستوں سے ایک لاکھ 65 ہزار سے زیادہ گرام پنچایتوں نے حصہ لیا۔ یہ اعداد و شمار وزارتِ پنچایتی راج کی جانب سے صلاحیت سازی، مسلسل رہنمائی اور پنچایتی راج کے اداروں میں ڈیجیٹل نظم ونسق کے فروغ کے لیے کی جانے والی مستقل کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ قومی ایوارڈبرائے ای-گورننس (این اے ای جی) کے تحت گرام پنچایتوں کے لیے مخصوص ایوارڈکا زمرہ پہلی مرتبہ این اے ای جی 2025 میں متعارف کرایا گیا تھا۔این اے ای جی 2025 میں گرام پنچایت زمرے کے اعزاز یافتگان درج ذیل تھے:
|
ایوارڈ (2025)
|
گرام پنچایت
|
ضلع
|
ریاست
|
|
گولڈ ایوارڈ
|
روہنی گرام پنچایت
|
دھولے
|
مہاراشٹر
|
|
سلور ایوارڈ
|
مغربی مجلس پور گرام پنچایت
|
مغربی تریپورہ
|
تریپورہ
|
|
جیوری ایوارڈ
|
پلسانہ گرام پنچایت
|
سورت
|
گجرات
|
|
جیوری ایوارڈ
|
سوکاٹی گرام پنچایت
|
کیندوجھر
|
اڈیشہ
|

******
( ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا )
UR.No-8288
(रिलीज़ आईडी: 2271779)
आगंतुक पटल : 9