قومی انسانی حقوق کمیشن
این ایچ آر سی انڈیا نے آندھرا پردیش میں راشٹریہ اسپات نگم لمیٹڈ کے وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ میں ہونے والے دھماکے میں آٹھ مزدوروں کی ہلاکت اور چھ دیگر کے زخمی ہونے کی رپورٹوں پر ازخود نوٹس لیاہے
مزدور یونین کا الزام ہے کہ مینجمنٹ نے حفاظتی قوانین کو نظر انداز کیا
کمیشن نے آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر معاملےکی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے
رپورٹ میں زخمی مزدوروں کی صحت کی حالت اور مرنے والوں کے لواحقین کو امدادی رقم کی ادائیگی کی صورتحال شامل کرنے کی ہدایت دی ہے
प्रविष्टि तिथि:
11 JUN 2026 12:51PM by PIB Delhi
ہندوستان کی انسانی حقوق سے متعلق قومی کمیشن نے ایک میڈیا رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا ہے، جس کے مطابق 8 جون 2026 کو آندھرا پردیش میں راشٹریہ اسپات نگم لمیٹڈ کے وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ میں ایک دھماکے کے بعد آٹھ مزدور ہلاک اور کم از کم چھ دیگر شدید طور پر جھلس گئے۔ مبینہ طور پر، مزدوروں کی یونین نے الزام لگایا ہے کہ مینجمنٹ نے حفاظتی قوانین کو نظر انداز کیا تھا۔
کمیشن نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ میڈیا رپورٹ کے مندرجات اگر سچ ہیں، تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا سنگین معاملہ ہے۔ لہٰذا، کمیشن نے آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔اس نے ہدایت کی ہے کہ اس رپورٹ میں زخمی مزدوروں کی صحت کی موجودہ صورتحال اور ہلاک ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کوامدادی رقم کی ادائیگی کی صورتحال شامل ہونی چاہیے۔
9 جون 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ پلانٹ کے فولاد پگھلانے والے حصے میں اس وقت پیش آیا جب تقریباً 1600 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پر قریباً 150 ٹن پگھلا ہوا اسٹیل لے جانے والا ایک بڑا کنٹینراچانک پھٹ گیا اور پگھلا ہوا اسٹیل پورے فرش پر پھیل گیا، جس کی وجہ سے وہاں کام کرنے والے مزدور شدید طور پر جھلس گئے۔
***
ش ح ۔ ع ح۔ ج
uno-8269
(रिलीज़ आईडी: 2271565)
आगंतुक पटल : 14