خوراک کی ڈبہ بندی کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جنوبی ایشیا خوراک کے نظام میں تبدیلی کے ذریعہ لاکھوں ملازمتوں اور اربوں کی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر سکتا ہے:ورلڈ بینک گروپ  اعلی سطحی پالیسی مذاکرات

प्रविष्टि तिथि: 10 JUN 2026 10:33AM by PIB Delhi

جنوبی ایشیا اپنی ترقی کے سفر کے ایک نہایت اہم مرحلے میں کھڑا ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان افرادی قوت میں شامل ہو رہے ہیں، جس کے باعث پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنا خطے کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہو گیا ہے۔ عالمی بینک گروپ نے نشاندہی کی ہے کہ زرعی کھیتوں سے آگے بڑھ کر خوراکی نظام میں تبدیلی روزگار، سرمایہ کاری، معاشی ترقی اور غربت میں کمی کے لیے بے پناہ مواقع پیدا کر سکتی ہے۔

خطے کا زرعی شعبہ سالانہ 700 ارب ڈالر سے زائد مالیت رکھتا ہے اور تقریباً 43 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اپنی وسعت کے باوجود زراعت خطے کی مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی)میں صرف تقریباً 16 فیصد حصہ ڈالتی ہے۔ مزید برآںجنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی خوراک کا 30 فیصد سے زیادہ حصہ ہر سال ضائع ہو جاتا ہے، جو تقریباً 30 کروڑ افراد کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین نے اس بات پرزور دیا کہ زرعی تبدیلی کا اگلا مرحلہ صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں، بلکہ خوراک کی پروسیسنگ، ذخیرہ کاری، نقل و حمل، مارکیٹنگ اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ میں مضمر ہے۔ یہ سرگرمیاں غذائی ضیاع میں کمی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ لاکھوں پیداواری ملازمتوں کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں۔

ہندوستان میں غذائی اجناس کی پیداوار51-1950 کے 5 کروڑ 10 لاکھ ٹن سے بڑھ کر آج 33 کروڑ ٹن سے تجاوز کر چکی ہے۔ اسی طرح گزشتہ دہائی کے دوران پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدات بھی دوگنی سے زیادہ ہو گئی ہیں، جو تقریباً 4.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ فوڈ پروسیسنگ کا شعبہ اس وقت مینوفیکچرنگ ویلیو ایڈیشن میں تقریباً 9 فیصد اور ہندوستان کی مجموعی برآمدات میں قریباً 13 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

ہندوستان کا تجربہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ مؤثر اور حکمتِ عملی پر مبنی پالیسی اقدامات زرعی ویلیو چینز میں کس طرح انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ پردھان منتری کسان سمپدا یوجنا، پردھان منتری فارملائزیشن آف مائیکرو فوڈ پروسیسنگ انٹرپرائزز(پی ایم ایف ایم ای) اسکیم اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو(پی ایل آئی) اسکیم جیسے اقدامات نے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور مسابقتی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اگرچہ اس شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ترقی کے وسیع مواقع اب بھی موجود ہیں۔ فوڈ پروسیسنگ کا شعبہ مجموعی روزگار میں ابھی بھی محدود حصہ رکھتا ہے، جبکہ زرعی پیداوار کا ایک بڑا حصہ اب تک غیر پراسیس شدہ رہ جاتا ہے۔ کولڈ چین نظام، ذخیرہ گاہوں، لاجسٹکس نیٹ ورکس اور منڈیوں سے رابطوں کو مزید مضبوط بنا کر اس شعبے میں ویلیو ایڈیشن اور معاشی فوائد میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے پاس خوراکی نظام کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنے کے لیے مضبوط بنیادیں موجود ہیں۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی، وسعت پذیر متوسط طبقہ، زرعی حیاتیاتی تنوع کی فراوانی اور محفوظ و معیاری پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب سرمایہ کاری اور جدت طرازی کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

اس تبدیلی کے عمل کو تیز تر بنانے کے لیے عالمی بینک گروپ ایگری کنیکٹ اور سیپلنگ کے ذریعہ ایک مشترکہ حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔

ایگری کنیکٹ ایک عالمی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد 2030 تک 30 کروڑ کسانوں کو منڈیوں سے جوڑنا ہے۔ یہ ہدف بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، پالیسی اصلاحات اور نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے ذریعے حاصل کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام پہلے ہی ہندوستان  بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت متعدد ممالک میں منصوبوں اور اصلاحاتی اقدامات کی معاونت کر رہا ہے۔

ساؤتھ ایشین پالیسی لیڈرشپ فار امپرووڈ نیوٹریشن اینڈ گروتھ (ایس اے پی ایل آئی این جی) ایک علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے، جو حکومتوں، سرمایہ کاروں، ترقیاتی شراکت داروں اور جدت کاروں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے تاکہ پالیسی اصلاحات کو فروغ دیا جا سکے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کیے جا سکیں اور کامیاب حلوں کو پورے خطے میں وسعت دی جا سکے۔

سیپلنگ کے اعلیٰ سطحی پالیسی مکالمے میں شریک افراد نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتوں، کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور ترقیاتی تنظیموں کے درمیان مربوط اور مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

سرمایہ کاروں کو کولڈ چین نظام، گوداموں، لاجسٹکس مراکز، فوڈ پروسیسنگ کلسٹرز، زرعی صنعتی پارکس اور ابھرتے ہوئے زرعی کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی گئی۔ اسی طرح کمپنیوں پر زور دیا گیا کہ وہ مربوط ویلیو چینز قائم کریں، مصنوعات کی سراغ رسانی اور معیار کی یقین دہانی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اپنائیں، اور افرادی قوت کی مہارتوں اور استعداد کار میں سرمایہ کاری کریں۔

پالیسی ساز فوڈ پروسیسنگ زونز کے قیام، لاجسٹٹکس کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، غذائی تحفظ اور سرٹیفیکیشن کے نظام کو آسان بنانے، سرکاری و نجی شراکت داریوں کو مضبوط کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار کاروباری ماحول پیدا کرنے کے ذریعے اس پیش رفت کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی اس عمل میں کلیدی اور محرک کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ مخلوط مالیاتی نظام کو وسعت دے کر، سرمایہ کاری سے منسلک پالیسی اصلاحات کی حمایت کر کے، اور خوراکی نظام میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے وابستہ خطرات کو کم کر کے اس شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس مکالمے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جنوبی ایشیا کی غذائی معیشت کا مستقبل صرف زرعی پیداوار میں اضافے تک محدود نہیں ہے۔ کھیت سے منڈی تک پورے خوراکی نظام کو جدید اور مؤثر بنانے کے ذریعے خطہ لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے، غذائی ضیاع میں کمی لا سکتا ہے، غذائیت کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے، سرمایہ کاری کو متوجہ کر سکتا ہے، برآمدات کو فروغ دے سکتا ہے اور آنے والی دہائیوں تک جامع اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنا سکتا ہے۔

بھارت کی وزارتِ خوراکی پروسیسنگ صنعت(ایم او ایف پی آئی) نے عالمی بینک گروپ کی قیادت میں چلنے والے سیپلنگ(ایس اے پی ایل آئی این جی) اقدام کے اشتراک سے 9 جون 2026 کو احمد آباد، گجرات میں’’قدر کے نئے مواقع: جنوبی ایشیا میں روزگار کے فروغ اور پائیدار ترقی کے لیے فوڈ پروسیسنگ کا فروغ‘‘کے عنوان سے علاقائی اعلیٰ سطحی پالیسی مکالمے کا افتتاح کیا۔

دو روزہ علاقائی مکالمے میں تقریباً 200 شرکاء حصہ لے رہے ہیں، جن میں پالیسی ساز، صنعتی رہنما، ترقیاتی شراکت دار، جدت کار، محققین، اسٹارٹ اپس اور جنوبی ایشیائی ممالک کے نمائندگان شامل ہیں۔ اس مکالمے کا مقصد فوڈ پروسیسنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانا اور خطے میں زیادہ مضبوط، جامع اور پائیدار خوراکی نظاموں کی تشکیل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملیوں پر غور و خوض کرنا ہے۔

*****

 (ش ح ۔ م ح ۔ش ب ن)

U. No. 8196


(रिलीज़ आईडी: 2271013) आगंतुक पटल : 18
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Malayalam , English , Marathi , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil , Telugu