کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی کامرس اور صنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل نے بھاویہ پورٹل کا آغاز کیا


ریاستوں میں صنعتی پارکوں کی مسابقتی ترقی کو فروغ دینے کا بھاویہ منصوبہ: جناب پیوش گوئل

بنیادی ڈھانچے، اصلاحات اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی پر حکومت کی توجہ نے ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی ہے: جناب گوئل

بھاویہ پارکس میں اسٹارٹ اپس، ڈیپ ٹیک، آر اینڈ ڈی اور اختراع پر مبنی کاروباری اداروں کے لیے وقف جگہیں شامل ہوں گی: جناب پیوش گوئل

بی آئی ایس، ای آئی اے اور ایف ایس ایس اے آئی کے تعاون سے بھاویہ  پارکوں میں جدید جانچ کی  سہولیات تیار کی جائیں گی: جناب گوئل

این آئی سی ڈی سی ایک سرشار (مخصوص) ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے بھاویہ اسکیم کے نفاذ اور نگرانی کی قیادت کرے گا

प्रविष्टि तिथि: 08 JUN 2026 6:07PM by PIB Delhi

بھارت اُدیوگک وکاس یوجنا (بھاویہ) کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کامرس و صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں بھاویہ پورٹل کا افتتاح کیا۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھاویہ اسکیم ایک مسابقتی ماڈل اپنائے گی، جس کے تحت ریاستوں کو اپنی صنعتی طاقت، زمین کی دستیابی، سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور شعبہ جاتی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے تفصیلی پروجیکٹ تجاویز پیش کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ ہر مقام کے لیے موزوں ترین شعبوں اور بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کی نشاندہی کی جا سکے، خواہ وہ کیمیکلز، مینوفیکچرنگ، ڈیٹا سینٹرز یا دیگر صنعتوں سے متعلق ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کار ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے صنعتی پارکوں کے بارے میں تفصیلی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جن میں زمین کی دستیابی، رابطہ سہولیات اور آس پاس کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہوگا، جس سے وہ سرمایہ کاری کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکیں گے۔ یہ اسکیم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ صنعتی پارکوں کو مختلف شعبوں اور سرمایہ کاروں کی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا جائے، تاکہ وہ ملکی اور عالمی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش بن سکیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران حکومت نے سڑکوں، شاہراہوں، ریلوے، میٹرو، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، بجلی کے بنیادی ڈھانچے، پانی کی دستیابی اور ڈیجیٹل رابطے میں سرمایہ کاری کے ذریعے اقتصادی ترقی اور سماجی بہبود کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ انہوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے کے لیے جی ایس ٹی، دیوالیہ پن و نادہندگی ضابطہ (آئی بی سی)، لیبر اصلاحات، 5جی کنیکٹیویٹی کی توسیع، اسٹارٹ اپس کے فروغ، سرمایہ کاری میں سہولت اور تکمیلی معیشتوں کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں جیسی اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔

جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان اپنے وسیع پیمانے، بڑھتی ہوئی طلب، نوجوان افرادی قوت اور توانائی کی وجہ سے تیزی سے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور پرکشش سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کاروبار، صنعت، کسانوں، ماہی گیروں، اسٹارٹ اپس اور خواتین کاروباریوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

بھاویہ اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اس کا مقصد ملک بھر میں 100 صنعتی پارکس تیار کرنا ہے تاکہ زیادہ سرمایہ کاری کے ذریعے بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارکس مختلف سائز میں تیار کیے جائیں گے، جن میں پہاڑی علاقوں، چھوٹے مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور شمال مشرقی ریاستوں میں 25 ایکڑ سے لے کر درمیانے درجے کی ریاستوں اور خطوں میں 100 سے 500 ایکڑ تک، جبکہ شہروں اور قصبوں کے قریب مقامات پر 1,000 ایکڑ تک رقبہ شامل ہو سکتا ہے۔ یہ سب ضرورت کے جائزے اور ریاستوں کے عزم پر منحصر ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ پارکوں کے لیے زمین ریاستی حکومتیں فراہم کریں گی، جبکہ حکومتِ ہند نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این آئی سی ڈی سی) کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں معاونت کرے گی، جو 51:49 ماڈل کے تحت ریاستوں کے ساتھ شراکت داری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد مخصوص مقامات کے لیے موزوں ترین صنعتوں پر مشتمل پلگ اینڈ پلے صنعتی پارکس قائم کرنا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ پارکس یقینی پانی و بجلی کی فراہمی، سڑک و ریل رابطہ، واضح اراضی حقوق (لینڈ ٹائٹلز)، ڈیجیٹل سنگل ونڈو کلیئرنس اور جہاں ممکن ہو ہوائی رابطے جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اسٹارٹ اپس، ڈیپ ٹیک اداروں، ٹیکنالوجی پر مبنی کاروباروں، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کی سرگرمیوں اور اختراع پر مبنی اداروں کے لیے مخصوص زونز کے قیام پر بھی غور کرے گی۔

جناب گوئل نے کہا کہ بی آئی ایس، ایکسپورٹ انسپیکشن ایجنسی اور ایف ایس ایس اے آئی جیسے اداروں کے اشتراک سے جدید جانچ کی سہولتیں قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ سرمایہ کاروں کو صنعتی پارکوں کے اندر ہی جدید ترین جانچ کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی حاصل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد زمین کے حصول اور منظوریوں پر صرف ہونے والے وقت کو کم کرکے سرمایہ کاروں کو زیادہ تیزی سے اپنے منصوبے شروع کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام سے مشاورت اور ہر مقام کی موزونیت کی بنیاد پر ماحولیاتی منظوریوں اور صنعت سے متعلق ضروریات کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت پارکوں کے اندر عالمی صلاحیتی مراکز (جی سی سیز) کے ملازمین کی رہائش اور سماجی بنیادی ڈھانچے کے لیے مخصوص علاقوں کی ترقی کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاپان، سنگاپور، جمہوریۂ کوریا اور سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک کے ساتھ شراکت داری میں مخصوص بین الاقوامی انکلیوز قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تاکہ سرمایہ کاری کو آسان بنایا جا سکے اور ہندوستان میں کام کرنے والے غیر ملکی پیشہ ور افراد کو ایک مانوس ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ایک کاروباری شخصیت کے طور پر اپنے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ماضی میں کاروباری اداروں کو صنعتی زمین کے حصول اور مختلف منظوریوں کے سلسلے میں نمایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھاویہ اسکیم شفاف نظام، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور سرمایہ کاروں کے لیے معلومات کی بہتر دستیابی کے ذریعے ان چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل اور سیٹلائٹ پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے صنعتی پارکوں کی نقشہ سازی کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ سرمایہ کار زمین کی دستیابی، رابطہ سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کے بارے میں معلومات دور سے ہی حاصل کر سکیں۔

وزیر موصوف نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے 100 صنعتی پارکوں کی ترقی کے لیے مختص 34,000 کروڑ روپے کی رقم سے خاطر خواہ سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مرکز اور ریاستوں کے درمیان شراکت داری مضبوط ہوگی اور ملک بھر میں صنعتی ترقی کو تقویت ملے گی۔

جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھاویہ اسکیم کا آغاز ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حکومت، وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں، اپنے 12 سال مکمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دور ساختی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ڈیجیٹل رابطے، کاروبار کرنے میں آسانی کے اقدامات اور 2047 تک ہندوستان کو دنیا کی تین بڑی معیشتوں میں شامل کرنے کی کوششوں سے عبارت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یکم جون سے 31 جولائی کے درمیان موصول ہونے والی درخواستوں پر 20 پارکوں کے پہلے مرحلے کے لیے غور کیا جائے گا، جبکہ 30 ستمبر تک موصول ہونے والی درخواستوں کی بنیاد پر مزید 30 پارکوں پر غور کیا جائے گا۔ بعد کے مراحل کو ابتدائی مرحلے کے تجربات اور حاصل شدہ اسباق کی بنیاد پر نافذ کیا جائے گا۔

جناب گوئل نے کہا کہ بھاویہ اسکیم کا مقصد پورے ہندوستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور وکست بھارت 2047 کے وژن کی تکمیل میں معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ پہل ملک میں صنعتی اور کاروباری ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔

مرکزی کابینہ نے 33,660 کروڑ روپے کے مجموعی اخراجات کے ساتھ اس اسکیم کی منظوری دی ہے۔ بھاویہ چھ سالہ مدت کے دوران 100 سرمایہ کاری کے لیے تیار، عالمی معیار کے صنعتی پارکوں کی ترقی کے لیے حکومت کا ایک فلیگ شپ پروگرام ہے۔ اس اسکیم کا مقصد ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی، قابلِ اعتماد یوٹیلیٹی انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل گورننس سسٹمز، کارکنوں کے لیے معاون سہولیات اور پائیدار ترقی کی خصوصیات پر مشتمل مربوط صنعتی ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔

نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این آئی سی ڈی سی)، جسے اس اسکیم کے لیے پروجیکٹ مینجمنٹ ایجنسی نامزد کیا گیا ہے، اس کے نفاذ اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ ملک بھر میں صنعتی راہداریوں اور مربوط صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اپنے وسیع تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے، این آئی سی ڈی سی نے بھاویہ پورٹل کو ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر تیار کیا ہے تاکہ اس اسکیم کے تحت پورے پروجیکٹ لائف سائیکل میں معاونت فراہم کی جا سکے۔

بھاویہ کے لیے آپریشنل رہنما خطوط مئی 2026 میں صنعت و داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کی جانب سے جاری کیے گئے تھے، اور اس پورٹل کا آغاز پالیسی کو عملی شکل دینے کی سمت میں اگلے اہم قدم کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ پورٹل اسکیم کے آغاز سے اختتام تک نفاذ کے لیے ایک واحد ڈیجیٹل انٹرفیس کے طور پر کام کرے گا، جس سے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) کی تجاویز جمع کرانے، پروجیکٹوں کی جانچ و تشخیص، اور عمل درآمد کی پیش رفت کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو سکے گی۔ یہ بھاویہ کے تحت چیلنج پر مبنی مسابقتی انتخابی فریم ورک کی معاونت کرے گا، جس کے ذریعے ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک منظم اور شفاف طریقۂ کار فراہم کیا جائے گا، جبکہ پورے پروجیکٹ لائف سائیکل کے دوران تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

افتتاحی تقریب کی صدارت جناب پیوش گوئل نے کی، جس میں ڈی پی آئی آئی ٹی کے سکریٹری جناب امردیپ سنگھ بھاٹیہ اور این آئی سی ڈی سی کے سی ای او و منیجنگ ڈائریکٹر جناب رجت کمار سینی کے علاوہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں، صنعتی انجمنوں، ایکسپورٹ پروموشن کونسلوں، بینکوں اور مالیاتی اداروں، ماسٹر ڈویلپرز اور ایم ایس ایم ایز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ڈی پی آئی آئی ٹی کے سکریٹری جناب امردیپ سنگھ بھاٹیہ نے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر پروگرام مینجمنٹ اور بڑے پیمانے پر باخبر فیصلہ سازی کے لیے مضبوط ڈیجیٹل نظام ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پورٹل پروجیکٹ جمع کرانے، جانچ، نگرانی اور رپورٹنگ کے تمام مراحل میں ایک واحد ڈیجیٹل انٹرفیس کے طور پر کام کرتے ہوئے اسکیم کے نفاذ کو نمایاں طور پر مضبوط بنائے گا اور ملک بھر میں صنعتی پارکوں کی تیز رفتار ترقی کو ممکن بنائے گا۔

این آئی سی ڈی سی کے سی ای او و منیجنگ ڈائریکٹر جناب رجت کمار سینی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس پلیٹ فارم کو بھاویہ کے تحت پروجیکٹوں کے مکمل لائف سائیکل کی معاونت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مختلف فریقوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کو فروغ دے گا، پروجیکٹوں کی پیش رفت پر حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرے گا اور عمل درآمد میں شفافیت اور جوابدہی کو مزید مضبوط بنائے گا۔

افتتاح کے بعد جناب پیوش گوئل اور صنعت سے وابستہ مختلف فریقوں کے درمیان تبادلۂ خیال بھی ہوا، جس میں ہندوستان کے صنعتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرمایہ کاری میں سہولت، کاروبار کرنے میں آسانی، لاجسٹکس کی کارکردگی، گھریلو مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کے فروغ اور عالمی ویلیو چینز کے ساتھ ہندوستان کے انضمام کو مضبوط بنانے میں مربوط صنعتی پارکوں کے کردار پر گفتگو کی گئی۔

بھاویہ پورٹل کا آغاز اسکیم کی کابینہ سے منظوری، آپریشنل رہنما خطوط کے اجرا اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ منظم مشاورت کے بعد کیا گیا ہے، جو اس رفتار اور عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کے ساتھ حکومت ہندوستان کے سب سے زیادہ مہتواکانکشی صنعتی بنیادی ڈھانچے کے پروگراموں میں سے ایک کو آگے بڑھا رہی ہے۔

توقع ہے کہ اس اسکیم کے ذریعے خاطر خواہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا، بڑے پیمانے پر صنعتی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور عالمی سطح پر مسابقتی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ہندوستان کے ابھرنے میں نمایاں مدد ملے گی۔

***

UR-8127

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2270482) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Malayalam