کانکنی کی وزارت
بھارت کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی اور برطانیہ کی وزیر خارجہ یووٹ کووپر نے مشترکہ طور پر بھارت–برطانیہ کریٹیکل منرلز گلوبل سپلائی چین آبزرویٹری کا آغاز کیا
प्रविष्टि तिथि:
04 JUN 2026 4:11PM by PIB Delhi
بھارت–برطانیہ کریٹیکل منرلز گلوبل سپلائی چین آبزرویٹری (جی ایس سی او) کا باقاعدہ آغاز آج نئی دلی میں کیا گیا۔ یہ افتتاح بھارت کے کوئلہ اور کانکنی کے مرکزی وزیر جناب جی کشن ریڈی اور برطانیہ کی وزیر خارجہ، دولتِ مشترکہ اور ترقیاتی امور یووٹ کووپر نے مشترکہ طور پر کیا۔

اس افتتاح کو بھارت اور برطانیہ کے درمیان اہم معدنیات اور سپلائی چین کی مضبوطی کے شعبے میں تعاون کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا ہے۔ یہ اشتراک ماحول کے لیے ساز گارتوانائی کی منتقلی، جدید مینوفیکچرنگ، الیکٹرک موبلیٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے ضروری وسائل کی محفوظ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔اس تقریب میں بھارت کی وزارتِ کانکنی کے سینئر حکام، وزارتِ خارجہ کے نمائندے، برطانیہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکار، برطانیہ حکومت کے سینئر افسران، اور بھارت میں برطانوی ہائی کمیشن کے نمائندے شریک تھے۔ اس کے علاوہ ٹیکسم، آئی آئی ایم ٹی (آئی ایس ایم)دھنباد اور یونیورسٹی آف کیمبرج کے مندوبین، اور دونوں ممالک کی صنعت، اکیڈمیا اور تحقیقی اداروں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب جی کشن ریڈی نے کہا کہ اہم معدنیات جدید معیشتوں کی بنیاد ہیں اور صاف ستھری توانائی کی ٹیکنالوجیز، جدید مینوفیکچرنگ، الیٹرک موبلیٹی اور کلیدی شعبوں کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ آبزرویٹری بھارت کی اہم معدنیات کی سپلائی چین سے متعلق معلوماتی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گی، شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں مدد دے گی، اور قومی اہم معدنیات مشن (این سی ایم ایم )کے مقاصد کی پیش رفت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیر موصوف نے کہا کہ یہ اقدام بھارت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اہم معدنیات کی مضبوط اور متنوع ویلیو چینز تشکیل دے رہا ہے اور ساتھ ہی قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔
اس موقع پر برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یووٹ کووپر نے بھارت اور برطانیہ کے درمیان اشتراک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہم معدنیات کی مضبوط، متنوع اور پائیدار سپلائی چینز کی ترقی دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اہم معدنیات تک بہتر رسائی اور معلومات کے تبادلے میں اضافہ دونوں ممالک کی معاشی ترقی اور سپلائی چین کی سلامتی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری مستقبل میں اس شعبے اور اس سے متعلقہ کلیدی صنعتوں میں وسیع تر تعاون کی بنیاد بن سکتی ہے۔
یہ آبزرویٹری ٹیکس من (ٹی ٹی آر پی) ، ڈی ایس ٹی، جی او آئی))، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی ایس ایم) دھنباد اور یونیورسٹی آف کیمبرج کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایک ڈیٹا پر مبنی پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جو عالمی سطح پر اہم معدنیات کی سپلائی چینز کی نگرانی اور تجزیہ فراہم کرے۔
اس اقدام کااکتوبر 2025 میں بھارت–برطانیہ وزرائے اعظم کی دو طرفہ ملاقات کے دوران اعلان کیا گیا تھا اور بعد ازاں مارچ 2026 میں ایک تحقیقی تعاون معاہدے کے ذریعے اسے باضابطہ شکل دی گئی۔

پروفیسر سُکمار مِشرا، ڈائریکٹر آئی آئی ٹی (آئی ایس ایم)دھنباد اور چیئرمین، گورننگ بورڈ نے ٹیکس من نے اس اقدام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ قومی اہم معدنیات مشن اور بھارت–برطانیہ ٹیکنالوجی سیکیورٹی انیشیٹو کے تحت انتہائی اہم کردار ادا کرے گا۔
ٹیکس من اور یونیورسٹی آف کیمبرج نے مشترکہ طور پر آبزرویٹری کا ایک انٹرایکٹو ڈیمونسٹریشن بھی پیش کیا۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سطح پر اہم معدنیات کی سپلائی چینز کی نگرانی، سپلائی میں خطرات اور رکاوٹوں کی نشاندہی، مارکیٹ انٹیلیجنس کی تیاری، اور پالیسی سازوں، صنعت اور محققین کے لیے معلومات پر مبنی فیصلوں میں مدد فراہم کرے گا۔

اس اقدام سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ بھارت اور برطانیہ کے درمیان اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور مضبوط، محفوظ اور پائیدار عالمی سپلائی چینز کے لیے معلومات پر مبنی فیصلہ سازی میں اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔
****
(ش ح ۔ اع خ۔ م ذ)
U.No: 7979
(रिलीज़ आईडी: 2268961)
आगंतुक पटल : 13