زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مدھیہ پردیش کےرائے سین سے مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے ملک گیر سطح پر “کھیت بچاؤ مہم” کا آغاز کیا


رائے سین  سے جناب شیوراج سنگھ چوہان نے پورے ملک  کوزرخیزمٹی، مضبوط کسان، خوشحال بھارت کا پیغام دیا

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے کہا کہ اگر مٹی بچے گی تو زراعت بچے گی اور کسان مضبوط ہوں گے

انہوں نے کھاد کے مناسب استعمال، سوائل ہیلتھ کارڈ اور سائنسی کاشتکاری پر زور دیا

زمین ہماری ماں ہے کے جذبے کے تحت انہوں نے مٹی کے تحفظ کو ایک عوامی تحریک بنانے کی اپیل کی

انہوں نے اعلان کیا کہ سائنسداں گاؤں گاؤں جائیں گے اور کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی سے آگاہ کریں گے

انہوں نے کہا کہ یہ مہم خواتین کی بااختیارکاری، نوجوانوں کی رہنمائی اور زراعت میں یکسرتبدیلی کو ساتھ لے کر آگے بڑھے گی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 01 JUN 2026 3:38PM by PIB Delhi

زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبوداور دیہی ترقی کےمرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے مدھیہ پردیش کے ضلع رائے سین کے گاؤں رماسیا سے قومی سطح پر “کھیت بچاؤ مہم” کا آغاز کرتے ہوئے کسانوں کو واضح پیغام دیا کہ اگر مٹی بچے گی تو زراعت بچے گی، کسان مضبوط ہوگا اور ملک خوشحال ہوگا۔انہوں نے متوازن کھاد کے استعمال، مٹی کی جانچ، سوائل ہیلتھ کارڈ، قدرتی کاشتکاری، پانی کے تحفظ اور سائنسی زرعی طریقوں کو فروغ دینے کی اپیل کی۔

یکم جون سے 30 جون تک ملک بھر میں جاری رہنے والی اس مہم کے آغاز کے موقع پر مرکزی وزیر برائے زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ زمین ہماری ماں ہے اور اس کی صحت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ غیر متوازن اور حد سے زیادہ کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کا استعمال نہ کریں، بلکہ مٹی کی جانچ کی بنیاد پر ضرورت کے مطابق ہی کھادوں کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ زیادہ کیمیائی استعمال سے مٹی کی زرخیزی کم ہو جاتی ہے اور اس میں موجود فائدہ مند خرد جاندار ختم ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر پیداوار اور کاشتکاری کی لاگت پر پڑتا ہے۔

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ “کھیت بچاؤ مہم” صرف ایک سرکاری پروگرام نہیں بلکہ دھرتی ماں کو بچانے کا ایک قومی عزم ہے۔اس مہم کے تحت زرعی سائنسداں، زرعی یونیورسٹیوں کے ماہرین، زرعی سائنس مراکز  کے افسران، محکمہ زراعت کی ٹیمیں اور عوامی نمائندے گاؤں گاؤں جا کر کسانوں کو آگاہ کریں گے۔ کسانوں کو مٹی کی جانچ، متوازن غذائیت کا انتظام، قدرتی کاشتکاری، جدید بوائی کی تکنیک، پانی کے تحفظ اور بہتر زرعی طریقوں کی تربیت دی جائے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ ہر کسان کا سوائل ہیلتھ کارڈ بننا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی زمین کی ضرورت کو سمجھ کر کھاد کا استعمال کرے۔ اس سے کاشتکاری کی لاگت کم ہوگی، پیداوار بڑھے گی اور مٹی طویل مدت تک زرخیز رہے گی۔جناب چوہان نے واضح کیا کہ حکومت کسانوں  کو سبسیڈی  پر کھاد فراہم کر رہی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس کا غیر ضروری استعمال کیا جائے۔ صحیح مقدار میں کھاد کا استعمال ہی پائیدار زراعت کی بنیاد ہے۔

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ زراعت کو منافع بخش بنانا مرکزی حکومت کی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سویا بین، دھان اور دالوں کی فصلوں کے لئے اس خطے میں خصوصی مظاہرے کیے جائیں گے۔کسانوں کو بہتر بیج، سائنسی بوائی، لیزر لیولر جیسی جدید ٹیکنالوجی اور پانی کی بچت پر مبنی زرعی طریقے سکھائے جائیں گے۔ زرعی سائنس مراکز اور ماہر اداروں کی مدد سے باقاعدہ تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔

مرکزی وزیر جناب شیوراج سنگھ نے اس مہم کو خواتین کی بااختیاری سے بھی جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی مدد آپ گروپوں کے ذریعے خواتین کو روزگار، آمدنی میں اضافہ اور خود روزگاری سے جوڑا جائے گا۔اہل خواتین کو گروپس سے منسلک کر کے انہیں تربیت، مالی مدد اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ خود کفیل بن سکیں اور اپنے خاندان کی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔

 

 

 

جناب شیوراج سنگھ چوہان نے نوجوانوں کے حوالے سے بھی خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے رہنمائی اور تیاری کے مواقع میں اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی ترقی صرف سڑکوں، گھروں اور بنیادی سہولیات تک محدود نہیں ہے بلکہ دیہات میں روزگار، آمدنی اور خود کفالت کے مواقع پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رماسیا گاؤں سے شروع ہونے والی یہ مہم آگے چل کر عوامی شراکت پر مبنی ایک بڑی تحریک بنے گی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ باقاعدگی سے دیہات کا دورہ کریں، کسانوں کو تکنیکی مدد فراہم کریں اور کھیتی کو بچانے کے اس عزم کو عملی سطح پر نافذ کریں۔انہوں نے کسانوں، خواتین اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ ترقیاتی مہمات میں فعال حصہ لیں، کیونکہ حکومت اور سماج کی مشترکہ کوششوں سے ہی خوشحال دیہات، مضبوط کسان، خود کفیل خواتین اور روشن مستقبل کی تعمیر ممکن ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی ایک بصیرت افروز رہنما ہیں جو بہت دور اندیشی کے ساتھ سوچتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے منصوبہ بندی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ زمین صرف موجودہ نسل کی نہیں بلکہ ان نسلوں کی بھی ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئیں۔ اس لیے اس کی حالت کو کبھی اس حد تک خراب نہیں ہونے دینا چاہیے کہ وہ مستقبل میں خوراک پیدا کرنے کے قابل نہ رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مٹی کو صحت مند اور زرخیز رکھنے کے لیے کسانوں کو اس بات کی ترغیب دی جائے گی کہ وہ زمین کی اصل غذائی ضروریات کے مطابق متوازن کھاد کا استعمال کریں۔

انہوں نے مزید اعلان کیا کہ یہ مہم نقلی کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے خلاف آگاہی پر بھی خصوصی توجہ دے گی۔ کسانوں کو ان کی مقامی زرعی و موسمی صورتحال کے مطابق مناسب فصلوں اور بیجوں کے انتخاب، موزوں کاشتکاری نظام، بیجوں کے علاج (سیڈ ٹریٹمنٹ) اور دیگر سائنسی زرعی طریقوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی جائے گی۔مٹی کی صحت بہتر بنانے کے لیے سبز کھاد (گرین مینور) کے استعمال سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ اس مہم کے ذریعے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مختلف اسکیموں کے فوائد ملک بھر کے کسانوں تک پہنچائے جائیں گے۔

اس پروگرام میں بڑی تعداد میں کسانوں، زرعی سائنسدانوں، کرشی وگیان مراکز کے ماہرین، عوامی نمائندوں اور انتظامی افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر غذائیت کی کمی کے شکار بچوں میں نیوٹریشن کٹس بھی تقسیم کی گئیں۔

***

ش ح۔ ک ا۔ خ م

U. NO –7818


(ریلیز آئی ڈی: 2267622) وزیٹر کاؤنٹر : 8