امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
محکمۂ امورِ صارفین نے شمالی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں قانونی پیمائش و معیارات سے متعلق اصلاحات کے نفاذ کا جائزہ لیا
اعتماد پر مبنی ضابطہ کاری، آسان تعمیل اور صارفین کے تحفظ پر توجہ
جی اے ٹی سی قواعد کے نفاذ اور سابقہ لائسنس پر مبنی نظام سے رجسٹریشن پر مبنی نظام کی جانب منتقلی کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا
متعدد ریاستیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جی اے ٹی سی قواعد اور رجسٹریشن پر مبنی نظام کے نفاذ کے اعلیٰ مرحلے میں ہیں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
31 MAY 2026 3:23PM by PIB Delhi
ملک بھر میں جاری علاقائی جائزہ اجلاسوں کے سلسلے کے تحت اتر پردیش، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ اور لداخ میں قانونی پیمائش (لیگل میٹرولوجی) سے متعلق اصلاحات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ یہ اجلاس جن وشواس (قانونی دفعات میں ترمیم) ایکٹ، 2026 اور ضابطہ جاتی اصلاحات سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی (ایچ ایل سی) کی سفارشات کے نفاذ کو آسان بنانے کے مقصد سے منعقد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت محترمہ ندھی کھرے، سکریٹری، محکمۂ امورِ صارفین، حکومتِ ہند نے کی۔
یہ اجلاس اسی ہفتے جنوبی ریاستوں کے ساتھ ہونے والی مشاورتوں کے بعد منعقد ہوا اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ محکمۂ امورِ صارفین کی مسلسل مشاورتی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد قانونی پیمائش ایکٹ، 2009 کے تحت متعارف کرائی گئی حالیہ اصلاحات کا یکساں، مؤثر اور ہموار نفاذ یقینی بنانا ہے۔
اجلاس کے دوران محکمہ کے سینئر افسران نے شریک ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے کنٹرولرز اور قانونی پیمائش کے افسران سے تبادلۂ خیال کیا اور ان اہم اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جن کا مقصد ضابطہ جاتی تعمیل کے بوجھ کو کم کرنا، کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دینا اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ایک زیادہ اعتماد پر مبنی ضابطہ جاتی نظام قائم کرنا ہے۔
مذاکرات کا ایک اہم محور وزن و پیمائش کے آلات کے تیار کنندگان، فروخت کنندگان اور مرمت کاروں کے لیے موجودہ لائسنس نظام کو رجسٹریشن پر مبنی نظام سے تبدیل کرنا تھا۔ ریاستوں کو بتایا گیا کہ اس اصلاح کا مقصد محض ’’لائسنس‘‘ کی جگہ ’’رجسٹریشن‘‘ کا لفظ استعمال کرنا نہیں، بلکہ پورے ضابطہ جاتی عمل کو بنیادی طور پر آسان بنانا ہے۔ مقررہ دستاویزات جمع کرانے پر رجسٹریشن خودکار طریقے سے جاری کی جائے گی، جس سے تاخیر میں کمی آئے گی اور کاروباری اداروں کے لیے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔
محکمہ نے جن وشواس اصلاحات کے تحت متعارف کرائے گئے نئے ’’بہتری نوٹس‘‘ نظام کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا۔ اس انتظام کا مقصد پہلی مرتبہ ہونے والی طریقہ کار سے متعلق خلاف ورزیوں کی صورت میں سزا کے نفاذ سے قبل متعلقہ فریق کو اپنی خامیوں کی اصلاح کا موقع فراہم کرنا ہے، تاکہ رضاکارانہ تعمیل کی حوصلہ افزائی ہو۔ توقع ہے کہ اس اصلاح کے نتیجے میں غیر ضروری قانونی تنازعات میں کمی آئے گی اور ضابطہ جاتی نظام میں تعمیل پر مبنی طرزِ عمل کو فروغ ملے گا۔
وزن اور پیمائش کے آلات کی تصدیق اور مہر بندی بھی اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے اہم موضوعات میں شامل تھی۔ ریاستوں کو حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز کے دائرۂ کار میں توسیع اور خود تصدیق اور تیسرے فریق کے ذریعے تصدیق کے بڑھتے ہوئے کردار سے آگاہ کیا گیا۔ محکمہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد جی اے ٹی سی قواعد کو مطلع کریں اور مزید اقسام کے وزن و پیمائش کے آلات کو جی اے ٹی سی نظام کے تحت لائیں، تاکہ تصدیقی خدمات کی دستیابی میں اضافہ ہو اور کاروباری اداروں کے لیے عمل کی تکمیل میں لگنے والا وقت کم ہو سکے۔
اجلاس میں ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں ای-ماپ پورٹل، قانونی پیمائش کے افسران کی استعداد سازی اور ملک بھر میں تصدیقی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔ ریاستوں نے اپنے نفاذی قواعد میں کی گئی ترامیم اور حالیہ اصلاحات کے مطابق اپنے ضابطہ جاتی نظام کو ہم آہنگ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
محکمہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگرچہ طریقۂ کار سے متعلق تقاضوں کو آسان بنایا جا رہا ہے اور ضابطہ جاتی عمل کو صنعت دوست بنایا جا رہا ہے، تاہم صارفین کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صارفین کو متاثر کرنے والی دھوکہ دہی، چھیڑ چھاڑ اور جان بوجھ کر کی جانے والی خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی پیمائش کے نظام کے تحت سخت کارروائی بدستور جاری رہے گی۔
یہ جاری علاقائی مشاورتی اجلاس اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ایک جدید، شفاف اور مؤثر قانونی پیمائش کا نظام قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، جو کاروبار کرنے میں آسانی کو فروغ دے، رضاکارانہ تعمیل کی حوصلہ افزائی کرے اور ملک بھر میں صارفین کے اعتماد کو مزید مضبوط بنائے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-7781
(ریلیز آئی ڈی: 2267248)
وزیٹر کاؤنٹر : 23