امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کے نتائج سے متعلق گمراہ کن دعووں پر سی سی پی اے نے 7 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا


ادارے نے کامیاب امیدواروں کی جانب سے کیے گئے کورسز کی نوعیت سے متعلق اہم معلومات کو مخفی رکھا

مرکزی صارفین تحفظ اتھارٹی (سی سی پی اے) نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کوچنگ خدمات کا انتخاب کرنے سے قبل صارفین کو درست اور مکمل معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 30 MAY 2026 1:24PM by PIB Delhi

مرکزی صارفین تحفظ اتھارٹی (سی سی پی اے) نے واجیرام اینڈ روی آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر ایل ایل پی کے خلاف حتمی حکم جاری کرتے ہوئے 7 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ جرمانہ اہم معلومات کو جان بوجھ کر چھپاتے ہوئے گمراہ کن اشتہارات شائع کرنے پر صارفین تحفظ ایکٹ، 2019 کی خلاف ورزی کے سبب عائد کیا گیا۔ یہ فیصلہ صارفین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تاکہ کسی بھی اشیا یا خدمات کے بارے میں صارفین تحفظ ایکٹ، 2019 کی دفعات کے برخلاف کوئی جھوٹا یا گمراہ کن اشتہار شائع نہ کیا جا سکے۔

مرکزی صارفین تحفظ اتھارٹی (سی سی پی اے)، جس کی سربراہی چیف کمشنر محترمہ ندھی کھرے کر رہی ہیں اور جس کے کمشنر جناب انوپم مشرا ہیں، نے واجیرام اینڈ روی آئی اے ایس اسٹڈی سینٹر ایل ایل پی کے خلاف یہ حکم جاری کیا۔ اتھارٹی نے مشاہدہ کیا کہ کوچنگ ادارے نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان (سی ایس ای) 2023 میں کامیاب امیدواروں کے نام، تصاویر اور کامیابیوں کو نمایاں طور پر استعمال کرتے ہوئے بڑے دعوے کیے، جبکہ ان امیدواروں کی جانب سے اختیار کیے گئے مخصوص کورسز کے بارے میں اہم معلومات کو مخفی رکھا۔

یو پی ایس سی سی ایس ای 2023 کے نتائج کے اعلان کے بعد ادارے کی آفیشیل ویب سائٹ پر درج ذیل دعوے شائع کیے گئے تھے:

  1. ’’ٹاپ 10 میں شامل 8 رینک ہولڈرز واجیرام اینڈ روی سے ہیں۔‘‘
  2. ’’ٹاپ 50 میں شامل 37 رینک ہولڈرز واجیرام اینڈ روی سے ہیں۔‘‘
  3. ’’حقیقت: ہر سال یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کے ذریعے منتخب ہونے والے افسران میں 30 فیصد سے زیادہ واجیرام اینڈ روی کے طلبہ ہوتے ہیں۔‘‘

سی سی پی اے نے تفصیلی تحقیقات کے بعد درج ذیل مشاہدات کیے:

سی سی پی اے کے مشاہدات:

ادارے کے دعوے:

نمبر شمار

8 میں سے 7 امیدواروں نے صرف مفت انٹرویو گائیڈنس پروگرام میں اندراج کرایا تھا۔

’’ٹاپ 10 میں شامل 8 رینک ہولڈرز واجیرام اینڈ روی سے ہیں۔‘‘

  1.  

37 میں سے 29 امیدواروں نے صرف مفت انٹرویو گائیڈنس پروگرام میں اندراج کرایا تھا۔

’’ٹاپ 50 میں شامل 37 رینک ہولڈرز واجیرام اینڈ روی سے ہیں۔‘‘

  1.  
  1. سال 2021 میں: 86.36 فیصد کامیاب امیدواروں نے انٹرویو گائیڈنس پروگرام میں اندراج کرایا تھا۔
  2. سال 2022 میں: 78.31 فیصد کامیاب امیدواروں نے انٹرویو گائیڈنس پروگرام میں اندراج کرایا تھا۔
  • iii. سال 2023 میں: 97.56 فیصد کامیاب امیدواروں نے انٹرویو گائیڈنس پروگرام میں اندراج کرایا تھا۔
  • iv. سال 2024 میں: 71.69 فیصد کامیاب امیدواروں نے انٹرویو گائیڈنس پروگرام میں اندراج کرایا تھا۔

’’حقیقت: ہر سال یو پی ایس سی سول سروسز امتحان کے ذریعے منتخب ہونے والے 30 فیصد سے زائد افسران واجیرام اینڈ روی کے طلبہ ہوتے ہیں۔‘‘

  1.  

مذکورہ بالا اہم معلومات ان تمام برسوں میں ادارے کی آفیشیل ویب سائٹ پر ظاہر نہیں کی گئیں۔

سی سی پی اے نے یہ بھی نوٹ کیا کہ انٹرویو گائیڈنس پروگرام (آئی جی پی) ایک ایسا پروگرام ہے جو اس وقت شروع ہوتا ہے جب امیدوار اپنی ذاتی محنت سے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان (سی ایس ای) کے ابتدائی (پریلمز) اور مرکزی (مینز) دونوں مراحل کامیابی سے عبور کر چکا ہوتا ہے۔ یہ دونوں انتہائی سخت اور مسابقتی مراحل ہیں، جن میں ادارے کا کوئی تعلیمی کردار نہیں تھا۔ اس کے باوجود ادارے نے ایسے امیدواروں کو جامع بامعاوضہ کوچنگ پروگراموں کے اشتہارات کے ساتھ نمایاں طور پر پیش کیا، جبکہ یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کون سا مخصوص کورس اختیار کیا تھا۔ اس سے یہ گمراہ کن تاثر پیدا ہوا کہ یہ امیدوار ادارے کے مکمل مدتی کوچنگ پروگراموں کی پیداوار ہیں۔

سی سی پی اے نے مشاہدہ کیا کہ کامیاب امیدواروں کی جانب سے اختیار کیے گئے مخصوص کورسز کی معلومات ظاہر نہ کرنا — خواہ وہ مکمل مدتی کلاس روم پروگرام، اختیاری مضمون کی کوچنگ، ٹیسٹ سیریز یا مختصر مدت کے مفت انٹرویو گائیڈنس پروگرام میں شامل ہوئے ہوں — ایکٹ کے تحت گمراہ کن اشتہار کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ اس سے ممکنہ صارفین باخبر فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔

سی سی پی اے نے قرار دیا کہ مذکورہ اشتہارات صارفین تحفظ ایکٹ، 2019 کی دفعہ 2(28)(iv) میں دی گئی ’’گمراہ کن اشتہار‘‘ کی تعریف کے عین مطابق ہیں، کیونکہ اس دفعہ کے تحت اہم معلومات کو جان بوجھ کر مخفی رکھنا ممنوع ہے۔ مزید برآں، یہ طرزِ عمل ایکٹ کی دفعہ 2(9) کی بھی خلاف ورزی ہے، جو صارفین کو معلومات حاصل کرنے کا حق فراہم کرتی ہے۔

اب تک سی سی پی اے طلبہ کے مفادات کے تحفظ اور کوچنگ کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے گمراہ کن اشتہارات اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے سلسلے میں کوچنگ اداروں کو 60 سے زائد نوٹس جاری کر چکی ہے۔

سی سی پی اے نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان (سی ایس ای)، آئی آئی ٹی-جے ای ای، نیٹ (این ای ای ٹی)، آر بی آئی اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرانے والے کوچنگ اداروں پر مجموعی طور پر 1.46 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے ہیں۔

(حتمی احکامات درج ذیل ویب سائٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں:)

https://jagograhakjago.gov.in/CCPA_Orders/index.html

***

ش ح۔ ش ا ر۔ ول

Uno-7744


(ریلیز آئی ڈی: 2266973) وزیٹر کاؤنٹر : 20