پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پنچایتی راج کی وزارت نے گوہاٹی میں علاقائی ورکشاپ ‘سیوا سے سمردھی’ کا انعقاد کیاجس میں بہترین گرام پنچایتوں اور مثالی کامن سروس سینٹرز کو اعزازات سے نوازا گیا


مرکزی وزیر پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے ورکشاپ کی صدارت کی اور وِکست بھارت 2047 کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیےسی ایس سی اور گرام پنچایتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAY 2026 4:15PM by PIB Delhi

پنچایتی راج کی وزارت (ایم او پی آر) نے آج گوہاٹی میں “سیوا سے سمردھی: پنچایت کی قیادت میں خدمات کی فراہمی” کے عنوان سے ایک علاقائی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ یہ ورکشاپ کامن سروس سینٹر اسپیشل پرپز وہیکل (سی ایس سی-ایس پی وی) اور آسام حکومت کے محکمہ پنچایت و دیہی ترقی کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔یہ اقدام وزارتِ پنچایتی راج کی اُن مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد دیہی بھارت میں بااختیار، جوابدہ اور مؤثر پنچایتی راج اداروں کے ذریعے خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا اور “ایز آف لیونگ” کو فروغ دینا ہے۔ورکشاپ میں پنچایت عہدیداران، منتخب نمائندگان، ولیج لیول انٹرپرینیورز (وی ایم وی) اور سات ریاستوں آسام (میزبان ریاست)، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، اڈیشہ، پنجاب، راجستھان اور تلنگانہ  کے ریاستی حکام نے شرکت کی۔

ورکشاپ کی صدارت مرکزی وزیر مملکت برائے پنچایتی راج پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل نے کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر بگھیل نے زور دیا کہ قومی خوشحالی کا راستہ گاؤں، کسانوں اور دیہی روزگار سے ہو کر گزرتا ہے، اور یہ کہ افراد کی حقیقی بااختیاری ہی بااختیار گاؤں ، بااختیار ریاستوں اور بالآخر ایک ترقی یافتہ اور خود انحصار قوم کی بنیاد ہے۔

وزیر نے کہا کہ ملک بھر میں کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) نے دیہی سطح پر بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں اور کروڑوں شہریوں کو پنشن، سرٹیفکیٹس، انشورنس اسکیموں اور فلاحی پروگراموں سمیت بنیادی خدمات تک آسان رسائی فراہم کی ہے۔ انہوں نے آدھار، بینک اور زمین کے ریکارڈز میں ڈیٹا کی درستگی بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ معمولی سی غلطیاں بھی اہل مستحقین کو پی ایم کسان جیسی انقلابی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے سے روک دیتی ہیں۔

یونین وزیر نے کامن سروس سینٹرزکے آپریٹرز کی بہتر تربیت اور استعداد کار میں اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب سی ایس سی کو مؤثر طریقے سے گرام پنچایتوں کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے تو یہ ہر شہری کی دہلیز پر عوامی خدمات کی فراہمی کے مضبوط اور مؤثر مراکز بن جاتے ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مقامی حکومتی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ہر اہل شہری کو بروقت فوائد حاصل ہوں اور اس طرح “سیوا سے سمردھی” کے وژن کو حقیقت میں بدلا جا سکے اور وکست بھارت 2047 کے ہدف میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جا سکے۔

اس موقع پر آسام حکومت کے وزیر برائے تبدیلی و ترقی، لیبر و بہبود اور چائے قبائل و آدیواسی بہبود، جناب رامیشور تیلی نے گرام پنچایتی اداروں کے ذریعے آخری سطح تک خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں بھارت حکومت اور آسام حکومت کے باہمی تعاون کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چائے قبائل اور آدیواسی برادریوں کی فلاح و بہبود ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کے لیے روزگار، فلاحی اسکیموں تک رسائی، تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے مؤثر اسکیم عمل آوری میں بااختیار مقامی حکمرانی کے ناگزیر کردار پر زور دیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مختلف محکموں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی آسام کی ترقی کے سفر کو مزید تیز کرے گی۔

ورکشاپ میں شریک ریاستوں کی بہترین گرام پنچایتوں اور ولیج لیول انٹرپرینیورز  کو اعزازات سے نوازا گیا۔ سواکتی گرام پنچایت، ضلع کینجھار، اڈیشہ، جس نے نیشنل ای-گورننس ایوارڈز 2025 میں ڈیجیٹل سروس ڈیلیوری میں اختراع کے لیے جیوری ایوارڈ حاصل کیا تھا، کو بھی تسلیم کیا گیا۔ اس پنچایت کو اڈیشہ ون اور سیوا اڈیشہ پلیٹ فارموں کے ذریعے بنیادی خدمات کو ڈیجیٹل بنانے، شہریوں کو ساتوں دن چوبیس گھنٹے رسائی اور ریئل ٹائم ٹریکنگ فراہم کرنے، اور نچلی سطح پر خواتین کی قیادت اور جامع خدمات کی فراہمی کی مثال قائم کرنے پر سراہا گیا۔

شیوارےڈی گوڈم گرام پنچایت، ضلع یادادری بھونگیر، تلنگانہ، جسے نیشنل ای-گورننس ایوارڈز 2025 میں بہترین کارکردگی دکھانے والی گرام پنچایتوں میں شامل کیا گیا تھا،اس کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ اسے شفاف، شہری مرکزیت پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ مقامی حکمرانی کے قابلِ تقلید ماڈل کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

ورکشاپ میں چیمپیئن ولیج لیول انٹرپرینیورز کو بھی اعزاز سے نوازا گیا، جن میں محترمہ گریجا ناتھ (آسام)، محترمہ سمیترا داس (اڈیشہ)، جناب امن دیپ سنگھ (پنجاب) اور محترمہ سرتا دیوی سینی (راجستھان) شامل ہیں، جنہیں دیہی سطح پر ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی میں ان کی مثالی خدمات کے اعتراف میں اعزاز دیا گیا۔

محترمہ مکتا شیکھر، جوائنٹ سیکریٹری، وزارتِ پنچایتی راج نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ گرام پنچایتوں اور کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) کا باہمی اشتراک دیہی تبدیلی کا ایک مضبوط ستون بن کر ابھرا ہے، جو مقامی فہم اور ڈیجیٹل صلاحیت کو یکجا کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل حکمرانی اپنی اصل میں ہر دیہی شہری کے لیے وقار، رسائی اور شمولیت کو یقینی بنانے کے بارے میں ہے۔انہوں نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ نیشنل ای-گورننس ایوارڈز کے تحت گرام پنچایت سروس ڈیلیوری انوویشن کے لیے ایک علیحدہ زمرہ متعارف کرایا گیا ہے تاکہ نچلی سطح پر بہترین کارکردگی کو تسلیم اور سراہا جا سکے۔

اس موقع پر ڈاکٹر بالیپو کلیان چکروورتی، ایڈیشنل چیف سیکریٹری، پنچایت و دیہی ترقی، حکومت آسام نے ریاست کے جامع اور ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے استعداد کار میں اضافے، اختیارات کی منتقلی اور گرام پنچایتی اداروں کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے نچلی سطح پر مؤثر اور شہری مرکزیت پر مبنی خدمات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے ریاستوں کے درمیان باہمی سیکھنے کی اہمیت اور دیہی حکمرانی کی تبدیلی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے کردار کو بھی نمایاں کیا۔ “سیوا سے سمردھی” کے وسیع وژن سے آسام کی وابستگی کی تصدیق کرتے ہوئے انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ورکشاپ کی مشاورت ملک بھر میں پنچایتی راج نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عملی نتائج فراہم کرے گی۔

جناب اکھل کمار، منیجنگ ڈائریکٹر اور سی ای او، سی ایس سی-ایس پی وی نے کہا کہ کامن سروس سینٹرز (سی ایس سی) دنیا کے سب سے بڑے آخری سطح تک خدمات کی فراہمی کے نیٹ ورکس میں سے ایک بن چکے ہیں، جو دور دراز علاقوں کے شہریوں کو آدھار، پین، بینکنگ، انشورنس، پنشن اور فلاحی اسکیموں جیسی خدمات تک بغیر طویل سفر کی مشقت کے رسائی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے سی ایس سی ماڈل کے وسیع سماجی و معاشی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لاکھوں ویلیج لیول انٹرپرینیورز (وی ایل ای )، جن میں خواتین کاروباری افراد کی بڑی اور حوصلہ افزا تعداد بھی شامل ہے،جس کو بااختیار بنایا گیا ہے، جبکہ اسی کے ساتھ نچلی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔

ورکشاپ نے پنچایت کی قیادت میں خدمات کی فراہمی کے بہترین طریقوں پر ہم مرتبہ سیکھنے اور بین ریاستی علم کے تبادلے کے لیے ایک بھرپور پلیٹ فارم فراہم کیا۔پہلے پینل مباحثے کا عنوان “پالیسی سے عوام تک: حکمرانی کو عملی شکل دینا” تھا، جس میں ریاستی سطح کے نمایاں سروس ڈیلیوری پلیٹ فارمز کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں ای-مِترا (راجستھان)، ای-سیوا (پنجاب)، لوک سیوا گارنٹی پورٹل (مدھیہ پردیش)، پنچایت سیکریٹریٹ (آندھرا پردیش)، می سیوا (تلنگانہ) اور اڈیشہ ون (اڈیشہ) شامل تھے، ساتھ ہی سی ایس سی کے نمائندے بھی موجود تھے۔ اس مباحثے کی نظامت محترمہ کیرتھی جلی، کمشنر، پنچایت و دیہی ترقی، حکومت آسام نے کی۔

ٹیکنالوجی سے چلنے والی پنچایتی راج اور خدمات کی فراہمی پر پہلا تکنیکی سیشن ڈاکٹر سدھارتھ سنگھا ، اسسٹنٹ پروفیسر ، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گوہاٹی نے پیش کیا ۔  دوسرا تکنیکی سیشن بھاسنی کے سی ای او جناب امیتابھ ناگ کے ذریعے پیش کیا گیا ، جس کا عنوان تھا بنیادی ڈھانچے کے طور پر زبان: بھاسنی کے ذریعے آخری میل تک حکمرانی کا از سر نو تصور ، جس میں حقیقی طور پر قابل رسائی اور جامع حکمرانی کو فعال کرنے میں کثیر لسانی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی تبدیلی کی صلاحیت پیش کی گئی ۔

116CSW.jpg

22X6B7.jpg

 

*****

(ش ح-ش آ-اش ق)

U-7717


(ریلیز آئی ڈی: 2266700) وزیٹر کاؤنٹر : 9