وزارت دفاع
azadi ka amrit mahotsav

وزیرِ دفاع کے زیر قیادت مغربی ایشیا پر وزرا کے غیر رسمی گروپ (آئی جی او ایم) نے جاری بحران کے درمیان بھارت میں ضروری اشیا کی دستیابی اور سپلائی چین کے استحکام کا جائزہ لیا


سپلائی کی صورتِ حال معمول پر ہے، لوگ گھبراہٹ میں ایندھن خریدنے سے گریز کریں: وزیرِ دفاع

’’حکومت تمام ضروری اشیا کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی ہے‘‘

آئی جی او ایم (آئی جی او ایم) کا مشکل وقت میں شان دار قیادت پر وزیرِ اعظم مودی سے اظہارِ تشکر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAY 2026 7:54PM by PIB Delhi

وزیرِ دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کی زیرِ قیادت مغربی ایشیا کے حوالے سے وزرا کے غیر رسمی گروپ (آئی جی او ایم) نے 27 مئی 2026 کو نئی دہلی کے کرتویہ بھون-2 میں اپنے چھٹے اجلاس کے دوران تنازعے کی ابھرتی ہوئی صورتِ حال کا جائزہ لیا اور بھارت کی تیاریوں اور جوابی اقدامات کا تخمینہ لگایا۔ اس اجلاس میں کیمیکلز اور فرٹیلائزرز کے وزیر جناب جگت پرکاش نڈا، بجلی کے وزیر جناب منوہر لال، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر جناب ہردیپ سنگھ پوری، امورِ صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کے وزیر جناب پرہلاد جوشی، ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر جناب اشونی ویشنو، پارلیمانی امور کے وزیر جناب کرن رجیجو، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر جناب سربانند سونووال، محنت و روزگار، امورِ نوجوانان اور کھیل کے وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ، اور سائنس اور ٹیکنالوجیکے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے شرکت کی۔

آئی جی او ایم نے ضروری اشیا کی دستیابی اور ملک کی سپلائی چینز کی مضبوطی کا جائزہ لیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، رکشا منتری نے کہا کہ آج ملک میں سپلائی کی صورتِ حال معمول کے مطابق ہے، اور شہریوں کو پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی اچانک خریداری سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ حکومت تمام ضروری اشیا کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔ آئی جی او ایم نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا دور اندیش وژن اور مشکل وقت میں شان دار قیادت فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا، جس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ عالمی خلل کا عوام پر اثر کم سے کم رہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ بدلتی ہوئی صورتِ حال کے پیش نظر قوم کی تیاریوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔

آئی جی او ایم کو آگاہ کیا گیا کہ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی مکمل طور پر تسلی بخش ہے۔ بھارت دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ریفائنر ہے، جس کی تنصیب شدہ صلاحیت 258.1 ملین ٹن سالانہ ہے، جب کہ پچھلے مکمل مالی سال میں ملک کی مقامی کھپت 243.2 ملین ٹن رہی تھی۔ اس کے علاوہ، بھارت سالانہ تقریباً 61.5 ملین ٹن پیٹرولیم مصنوعات برآمد بھی کرتا ہے۔ لہٰذا، طلب اور رسد کے درمیان کوئی خلا موجود نہیں ہے۔

حالیہ تعطل کے دوران، پبلک سیکٹر کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ریٹیل قیمتوں پر بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والے اضافے کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کرنے سے گریز کیا ہے، جس کی وجہ سے یہ کمپنیاں روزانہ تقریباً 550 کروڑ روپے کے نقصان کا بوجھ خود برداشت کر رہی ہیں۔ رعایت کا یہ کشن صرف ریٹیل کھپت (عام صارفین) کے لیے رکھا گیا ہے، جب کہ مستقل پالیسی کے تحت، صنعتی اور تجارتی مقاصد کے لیے ڈیزل کی قیمتیں بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق طے کی جاتی ہیں۔ تاہم، یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض صنعتی صارفین رعایت والی ریٹیل قیمتوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی مقررہ صنعتی خریداری کے بجائے ریٹیل کے ذریعے خریداری کر رہے ہیں، جس کے ساتھ ساتھ بعض ڈیلروں کے ذریعے بلیک مارکیٹنگ کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ وزارت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریاستی حکومتوں نے زمینی سطح پر قانون کے نفاذ کو سخت کر دیا ہے، اور انڈسٹری ایسوسی ایشنز سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے اراکین کو مطلوبہ اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی یاد دہانی کرائی جا سکے۔

آئی جی او ایم کو مزید بتایا گیا کہ ملک میں کھاد کے مجموعی ذخیرے کی صورتِ حال بھی اطمینان بخش ہے۔ خریف 2026 کے سیزن کے لیے، محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود نے کھاد کی ضرورت کا تخمینہ 390.54 لاکھ میٹرک ٹن لگایا ہے، اور آج کی تاریخ تک 200.47 لاکھ میٹرک ٹن (51 فیصد سے زیادہ) کھاد دستیاب ہے، جو کہ تقریباً 33 فیصد کی معمول کی سطح سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ یہ صورتِ حال حکومت کے ذریعے بہتر منصوبہ بندی، قبل از وقت اسٹاکنگ، اور لاجسٹکس کے مؤثر انتظام کی عکاس ہے۔

پروڈکٹ

بحران کے بعد ملکی پیداوار

بحران کے بعد بھارتی بندرگاہوں پر درآمدات پہنچیں

یوریا

59.51

13.60

ڈی اے پی

8.26

0.88

این پی کیز

19.38

5.65

ایس ایس ایف

11.24

0

ایم او پی

0

3.83

کل

98.39

23.96

 

بحرانی صورتِ حال کے بعد، درآمدات اور مقامی پیداوار کے ذریعے دستیابی میں تقریباً 122.4 لاکھ میٹرک ٹن  کھاد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ بھارت نے ایس او ایچ   روٹ کے باہر سے تقریباً 15 لاکھ میٹرک ٹن ڈی اے پی (بشمول ٹی ایس پی ) اور 10 لاکھ میٹرک ٹن این پی کے (بشمول اے ایس - AS) کا حصول یقینی بنا لیا ہے، جو مئی اور جون میں بھارتی بندرگاہوں پر پہنچ جائیں گے۔ اس اقدام سے مانگ کے پیک سیزن کے دوران کھاد کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ کھادوں، یعنی یوریا اور پی اینڈ کے (P&K) فرٹیلائزرز کی پیداوار کے لیے درکار خام مال کی دستیابی کا محکمہ فرٹیلائزرکے ذریعے باقاعدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ یہ محکمہ کمپنیوں کی طرف سے پیش کیے جانے والے تمام سبسڈی بلوں کی ہفتہ وار بنیادوں پر باقاعدگی سے ادائیگی کر رہا ہے۔

کھادوں کی مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اب تک سیکرٹریوں کے بااختیار گروپ کے دس (10) اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ دستیابی کے حوالے سے پیش آنے والے بیشتر چیلنجز کو ای جی او ایس نے حل کر لیا ہے۔ بھارت کی فرٹیلائزر سیکیورٹی مضبوط، مستحکم اور بہترین انتظامی حالت میں ہے، اور تمام بڑی کھادوں کی دستیابی مسلسل ان کی ضرورت سے زیادہ ہے۔ وزیرِ دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ کسانوں کو کھاد اور دیگر ضروری زرعی اشیا مناسب مقدار میں دستیاب رہنی چاہئیں تاکہ اسے یقینی بنایا جا سکے کہ ملک میں خوراک کی قیمتیں بدستور مستحکم رہیں۔

 

آئی جی او ایم کو اس بات سے بھی آگاہ کیا گیا کہ انڈسٹری، بالخصوص ایم ایس ایم ایز نے ’ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم 5.0‘ کے اجرا پر حکومت کی ستائش کی ہے، جو ایم ایس ایم ایز کے درمیان ورکنگ کیپیٹل (سرمائے) کے دباؤ کو کم کرنے میں نمایاں مدد کر رہی ہے۔

***

(ش ح – ع ا)

U. No. 7641


(ریلیز آئی ڈی: 2266053) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , Marathi , Tamil , Kannada