زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تیسرا پیشگی تخمینہ زراعت کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، جس کی منظوری مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے دی ہے


تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار؛ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کسانوں کو مبارکباد دی

ملک کی غذائی اجناس کی پیداوار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کا تخمینہ 3765.63 لاکھ ٹن ہے – جناب شیوراج سنگھ چوہان

جناب شیوراج سنگھ نے کہا - کسانوں کی خوشحالی کے لیے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کے مسلسل کام کے نمایاں نتائج برآمد ہو رہے ہیں

چاول، گندم اور مکئی کی پیداوار میں زبردست اضافہ، کئی فصلوں نے نئے ریکارڈ قائم کیے – جناب  شیوراج سنگھ

تلہن اور گنے کی پیداوار میں نمایاں اضافہ زرعی شعبے کی ترقی کو مزید تقویت دے رہا ہے: جناب شیوراج سنگھ چوہان

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 MAY 2026 6:01PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود نیز دیہی ترقی کے مرکزی وزیر، جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج 2025-26 کے لیے بڑی زرعی فصلوں کی پیداوار کے تیسرے پیشگی تخمینے جاری کیے اور کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت کسانوں کی خوشحالی اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے، جس کے مثبت اثرات اب ریکارڈ زرعی پیداوار کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔

تیسرے پیشگی تخمینے کے مطابق، ملک کی کل غذائی اجناس کی پیداوار کا تخمینہ 376.563 ملین ٹن لگایا گیا ہے، جو گزشتہ سال کی 357.732 ملین ٹن پیداوار کے مقابلے میں تقریباً 18.8 ملین ٹن (5.3 فیصد) زیادہ ہے۔ یہ ملک کی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ غذائی اجناس کی پیداوار ہے۔ جناب چوہان نے اس تاریخی کامیابی پر ملک کے کسانوں کو مبارکباد دی۔

زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ تیسرے پیشگی تخمینے ہندوستان کی زرعی ترقی کی ایک مضبوط اور حوصلہ افزا تصویر پیش کرتے ہیں۔ فصلوں کے لحاظ سے خلاصہ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ زراعت نے کہا کہ چاول کی پیداوار کا تخمینہ ریکارڈ 154.024 ملین ٹن، گندم کا 120.657 ملین ٹن اور مکئی کا ریکارڈ 55.093 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ شری اَنّا کی پیداوار کا تخمینہ 17.584 ملین ٹن، تور 3.592 ملین ٹن، چنا 12.514 ملین ٹن اور مسور 1.762 ملین ٹن ہے۔

اسی طرح، تلہن کی کل پیداوار کا تخمینہ 43.059 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ مونگ پھلی کی پیداوار ریکارڈ 13.074 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ سویابین کی پیداوار کا تخمینہ 12.596 ملین ٹن اور ریپسیڈ و سرسوں کی پیداوار کا تخمینہ ریکارڈ 13.768 ملین ٹن ہے۔ گنے کی پیداوار کا تخمینہ ریکارڈ 500.063 ملین ٹن لگایا گیا ہے، جبکہ کپاس کی پیداوار کا تخمینہ 29.024 ملین گانٹھیں اور جوٹ کی پیداوار 9.176 ملین گانٹھیں ہے۔

جناب چوہان نے مزید کہا کہ فصلوں کے لحاظ سے تفصیلی اعداد و شمار چاول کی پیداوار 154.024 ملین ٹن ظاہر کرتے ہیں، جو 2024-25 میں 150.184 ملین ٹن تھی، یعنی اس میں 3.84 ملین ٹن کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ گندم کی پیداوار کا تخمینہ 120.657 ملین ٹن ہے، جو گزشتہ سال کے 117.945 ملین ٹن کے مقابلے میں 2.712 ملین ٹن زیادہ ہے۔ شری اَنّا کی پیداوار کا تخمینہ 17.584 ملین ٹن ہے۔ مکئی کی پیداوار ریکارڈ 55.093 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو گزشتہ سال کی 43.409 ملین ٹن پیداوار کے مقابلے میں 11.684 ملین ٹن زیادہ ہے۔ غذائیت سے بھرپور اور موٹے اناج کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی کل پیداوار کا تخمینہ 74.472 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔

دالوں میں تور کی پیداوار کا تخمینہ 3.592 ملین ٹن ہے، جو گزشتہ سال کے 3.624 ملین ٹن کے تقریباً برابر ہے۔ چنے کی پیداوار کا تخمینہ 12.514 ملین ٹن لگایا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے 11.114 ملین ٹن کے مقابلے میں 1.4 ملین ٹن زیادہ ہے۔ مسور کی پیداوار کا تخمینہ 1.762 ملین ٹن ہے۔

تلہن کی کل پیداوار کا تخمینہ 43.059 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ مونگ پھلی کی پیداوار کا تخمینہ 13.074 ملین ٹن ہے، جو گزشتہ سال کے 11.942 ملین ٹن کے مقابلے میں 1.132 ملین ٹن زیادہ ہے۔ سویابین کی پیداوار کا تخمینہ 12.596 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ ریپسیڈ اور سرسوں کی پیداوار کا تخمینہ 13.768 ملین ٹن ہے، جو گزشتہ سال کے 12.667 ملین ٹن کے مقابلے میں 1.101 ملین ٹن زیادہ ہے۔

وزیرِ زراعت نے مزید بتایا کہ تجارتی فصلوں میں گنے کی پیداوار کا تخمینہ 500.063 ملین ٹن لگایا گیا ہے، جو گزشتہ سال کی 454.611 ملین ٹن پیداوار کے مقابلے میں 45.452 ملین ٹن زیادہ ہے۔ کپاس کی پیداوار کا تخمینہ 29.024 ملین گانٹھیں (ہر گانٹھ کا وزن 170 کلوگرام) جبکہ جوٹ کی پیداوار کا تخمینہ 9.176 ملین گانٹھیں (ہر گانٹھ کا وزن 180 کلوگرام) لگایا گیا ہے۔

جناب چوہان نے کہا کہ تیسرے پیشگی تخمینے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک میں غذائی اجناس، بڑے اناج، تلہن اور تجارتی فصلوں کی پیداوار کی صورتِ حال مضبوط ہے، اور کئی فصلوں کی پیداوار ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) اور اس کے اداروں کی جانب سے کی جانے والی زرعی تحقیق نے بھی بڑی فصلوں کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کوششوں میں آب و ہوا سے ہم آہنگ فصلوں کی اقسام کی تیاری، بارش پر مبنی پیداواری ٹیکنالوجی، اور نچلی سطح پر کسانوں تک تحقیقی نتائج کی مؤثر ترسیل شامل ہے۔

گزشتہ سال منعقد کیے گئے ’وکست کرشی سنکلپ ابھیان‘ کے تحت ملک بھر میں زرعی طریقوں کو سائنس دانوں کی جانب سے کسانوں تک براہِ راست رسائی کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا۔ کسانوں کو ماحولیاتی لچکدار ٹیکنالوجیز، فصلوں کی پیداوار کی بہتر تکنیکیں، بارش پر مبنی کاشتکاری کے طریقے اور مجموعی زرعی ترقی کے لیے سائنسی مشاورتی معاونت فراہم کی گئی۔

سال 2025-26 میں آئی سی اے آر نے ملک کے مختلف زرعی و موسمی خطوں کے لیے موزوں فصلوں کی 339 اقسام جاری کیں، جن میں اناج، تلہن، دالیں، تجارتی فصلیں اور چارے کی فصلیں شامل ہیں۔

2024-25 کے دوران بریڈر بیج کی پیداوار 109,370.2 کوئنٹل تک پہنچ گئی، جبکہ معیاری بیج کی پیداوار 433,114.7 کوئنٹل رہی۔ مٹی اور آبی وسائل کے انتظام، آب و ہوا سے ہم آہنگ زراعت، ڈیجیٹل مٹی کی ذہانت اور پائیدار زرعی ٹیکنالوجیز میں مربوط اختراعات نے بڑی زرعی فصلوں کی پیداوار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

***

UR-7636

(ش ح۔اس ک  )


(ریلیز آئی ڈی: 2266043) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati