صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند نے سکم یونیورسٹی کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی
سکم یونیورسٹی پر اس خطے کی زبان، ثقافت اور ماحول کے تحفظ کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے: صدرجمہوریہ ہند دروپدی مرمو
صدر جمہوریہ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ذریعے خود کو بااختیار بنائیں اور معاشرے اور قوم کی بہتری کے لیے کام کریں
صدرجمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے سکم کو مکمل طور پر خواندہ ریاست قرار دیے جانے پر حکومتِ سکم اور وہاں کے عوام کو مبارکباد دی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 MAY 2026 6:34PM by PIB Delhi
ہندوستان کی صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے آج (27 مئی 2026) گنگٹوک میں سکم یونیورسٹی کے ساتویں کانووکیشن میں شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ سکم اپنی قدرتی خوبصورتی، ثقافت اور حیاتیاتی تنوع کی وجہ سے ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ کنچنجنگا، ہمالیہ کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک، سکم کے لیے قدرت کا انمول تحفہ ہے۔ سکم کے لوگ اس چوٹی کو اپنی محافظ دیوی کے طور پر پوجتے ہیں۔ وہ فطرت کے تحفظ اور فروغ کے لیے ذمہ داری کے گہرے احساس کا واضح اظہار کرتے ہیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ سکم کے لیے یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ 2016 میں یہ ہندوستان کی پہلی مکمل طور پر نامیاتی ریاست بن گئی۔ انہوں نے اس بات پر خوشی ظاہر کی کہ سکم نے ثابت کر دیا ہے کہ ترقی اور فطرت کے تحفظ کو ساتھ ساتھ لے کر چلا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کے استعمال پر پابندی، نامیاتی کاشتکاری کے فروغ اور ماحولیات کے تحفظ جیسے اقدامات پورے ملک کے لیے باعثِ ترغیب ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے اردگرد کی صفائی کے ساتھ ساتھ فطرت اور معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا کرے تو ملک تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ تمام ہم وطنوں، بالخصوص سکم کے لوگوں کے لیے فخر کی بات ہے کہ سکم اب مکمل طور پر خواندہ ریاست بن چکی ہے۔ انہوں نے اس تاریخی کامیابی پر سکم کی حکومت اور عوام کو مبارکباد دی۔
صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ ملک کی جامع ترقی کے لیے شمال مشرقی خطے کی ترقی ضروری ہے۔ اس خطے کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے سکم یونیورسٹی کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ، جو سکم کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں سے بھی آتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں اور قومی ترقی میں حصہ ڈالنے کے اجتماعی جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی قابلیت اور لگن کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس طرح وہ جامع ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
صدر جمہوریہ نے کہا کہ سکم یونیورسٹی، تعلیم اور تحقیق کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ، اس خطے کی زبان، ثقافت اور ماحول کے تحفظ کی بھی خصوصی ذمہ داری رکھتی ہے۔ انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ یونیورسٹی نے جدید تعلیم کو مقامی روایات، ماحولیاتی شعور اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے فروغ کا یہی درست راستہ ہے۔
صدر نے کہا کہ تعلیم خود انحصاری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ذریعے خود کو بااختیار بنائیں اور ملک و معاشرے کی بہتری کے لیے کام کریں۔ انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھیں، دوسروں کے تجربات اور علم سے سیکھیں، تنہائی کے بجائے تعاون کے ذریعے ترقی حاصل کریں، اور قلیل مدتی و طویل مدتی دونوں اہداف مقرر کرکے ان کے حصول کے لیے حکمتِ عملی تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سال 2047 تک ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے ہدف کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ طلبہ کارکردگی، مساوات اور پائیداری کی اقدار کو اپناتے ہوئے اپنے منتخب شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کریں گے۔
اس سے قبل صدر جمہوریہ نے خواتین کے لیے ’آما دیدی باہنی بس سروس‘ کے تحت گلابی بسوں اور گنگٹوک، سکم میں ٹھوس فضلہ کے انتظام کے لیے وسائل کی بازیابی کی گاڑیوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔
صدر کی تقریر دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
***
UR-7635
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2266035)
وزیٹر کاؤنٹر : 9